affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Download Urdu Poetry
Showing posts with label Download Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Download Urdu Poetry. Show all posts

Sunday, 1 November 2015

دعا

سنو جاناں!
مجھے سب یاد ہے اب بھی
مجھے تم نے کہا تھا ناں!!!
"میری خاطر دعا کرنا,
مجھے دل میں, طبیعت میں,
درشتی اور سختی سی,
ذرا محسوس ہوتی ہے,
دعا کرنا میرے رب سے,
کہ وہ مجھ کو طبیعت میں,
اور اس دل میں,
ذرا نرمی عطا کر دے,
میرا دل موم سا کر دے,
مجھے دل, درد مند دے دے....!"
گواہ ساری خدائی ہے,
کہ اس لمحے سے لے کر آج تک
میرے جب ہاتھ اٹھے ہیں
کبھی جب بھی دعا مانگی,
میں سب کچھ بھول کر,
بس ایک جملہ دہراتی ہوں,
کہ" میرا اللہ!
تمہارے دل سے ساری سختیاں لے لے,
تمہیں دل موم سا دے دے,
تمہارا دل نرم کر دے..."
(آمین)
مگر دیکھو,
نہ جانے کن گناہوں کی سزا مجھ کو ملی ہے یوں..
کہ پچھلی ہر دعا کے ساتھ
میری یہ دعا بھی بارگاہ رب نے رد کردی,
وہی سختی ,
تمہارے دل میں کس شدت سے در آئی,
وہی سختی,
میری ہستی پہ تم نے خود آزمائی..
میری ہر آہ, سسکی اور صدا,
خود تم نے ٹھکرائی,....!
دعا کا یہ ثمر پا کر,مجھے اب خوف آتا ہے..
کہ میں اب زندگی بھر, اور کوئی بھی دعا,
شاید نہ کر پاؤں

مَیں ماٹی کے مول بِکی

مَیں ماٹی کے مول بِکی
بول کے بس دو بول بِکی
سَیّاں کو تب پیار آیا
زہر تھی جب وہ گھول چکی
بک گئی ایک رُوپلی میں
میری اک اَن مول سَکھی
جال میں اُس کے پاؤں پھنسے
چڑیا جب پَر کھول چکی
چال میں کب ہے فرق پڑا
من میں لیکن ڈول چکی
میں نے کہہ دی بِپتا سب
تُو بھی تو اب بول سَکھی !
آ برسات کی رُت آئی
ڈال گلے میں ڈھول سَکھی !
آنکھ کی سِیپ کے موتی کو
ماٹی میں نہ رول سکھی !
کہنے کی ہمّت نہ ہوئی
بات تھی لیکن تول چکی
یہ تو کہانی ٹھیک نہیں
اِس میں ہے کچھ جھول سَکھی !
ساجن سے نہ نظر ملے
کھل گئے سارے پول سَکھی !

Monday, 26 October 2015

کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر


کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر
سنا کئے حال چپکے چپکے، نظر اُٹھائی نہ سر اُٹھا کر
نہ طور دیکھے، نہ رنگ برتے غضب میں آیا ہوں دل لگا کر
وگر نہ دیتا ہے دل زمانہ یہ آزما کر، وہ آزما کر
تری محبت نے مار ڈالا ہزار ایذا سے مجھ کو ظالم
رُلا رُلا کر، گھلا گھلا کر، جلا جلا کر، مٹا مٹا کر
تمہیں تو ہو جو کہ خواب میں ہو، تمہیں تو ہو جو خیال میں ہو
کہاں چلے آنکھ میں سما کر، کدھر کو جاتے ہو دل میں آکر
ستم کہ جو لذت آشنا ہوں، کرم سے بے لطف، بے مزا ہوں
جو تو وفا بھی کرے تو ظالم یہ ہو تقاضا کہ پھر جفا کر
شراب خانہ ہے یہ تو زاہد، طلسم خانہ نہیں جو ٹوٹے
کہ توبہ کر لی گئی ہے توبہ ابھی یہاں سے شکست پاکر
نگہ کو بیباکیاں سکھاؤ، حجاب شرم و حیا اُٹھاؤ
بھلا کے مارا تو خاک مارا، لگاؤ چوٹیں جتا جتا کر
نہ ہر بشر کا جمال ایسا، نہ ہر فرشتے کا حال ایسا
کچھ اور سے اور ہو گیا تو مری نظر میں سما سما کر
خدا کا ملنا بہت ہے آساں، بتوں کا ملنا ہے سخت مشکل
یقیں نہیں‌ گر کسی کو ہمدم تو کوئی لائے اُسے منا کر
الہٰی قاصد کی خیر گذرے کہ آج کوچہ سے فتنہ گر کے
صبا نکلتی ہے لڑکھڑا کر، نسیم چلتی ہے تھرتھرا کر
جناب! سلطانِ عشق وہ ہے کرے جو اے داغ اک اشارہ
فرشتے حاضر ہوں دست بستہ ادب سے گردن جھکا جھکا کر —

Sunday, 25 October 2015

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں




الفاظ کے جھوٹے بندھن میں
اغراض کے گہرے پردوں میں
ہر شخص محبت کرتا ہے
حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں
سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں
سب دِل رکھنے کی باتیں ہیں
کب کون کسی کا ہوتا ہے
سب اصلی روپ چھُپاتے ہیں
احساس سے خالی لوگ یہاں
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں
ایک بار نظر میں آکر وہ
پھر ساری عمر رُلاتے ہیں
یہ عشق و محبّت مہر و وفا
یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
ہر شخص خود ہی کی مستی میں
بس اپنی خاطر جیتا ہے

Thursday, 15 October 2015

اکھاں چھم چھم وسیاں

اکھاں چھم چھم وسیاں
 دلاں دیاں گلاں دلاں وچھ رہ گیئاں
نہ تُو سنیاں نہ دسیاں
اکھاں چھم چھم وسیاں
نکی جئی جندڑی نوں روگ کی اے لا لیا
چنا پردیسیاں نوں میت کیوں بنا لیا
سوچاں وچ ڈُبی ھوئی ونگ میں سجائیاں وے
کدی رون کدی ھسیاں، اکھاں چھم چھم وسیاں
کیھڑی گل ماہیا وے تُو مُکھ ساتھوں موڑیا
دل ساڈا غماں دے سمندراں چ روہڑیا
ایسے دل چندرے دے آکھے کاہنوں لگ کے
دکھاں وِچ میں ھسیاں، اکھاں چھم چھم وسیاں
تُو نہ جدوں پاس چنا کی اے ساڈے پاس وے
دن وی اداس ساڈے راتاں وی اداس وے
لُٹ گیا چین ساڈا رُس گئے ھاسے وے
خوشیاں نیں دور نسیاں، اکھا چھم چھم وسیا
ں

کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟


کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟
کہو ، وہ دَشت کیسا تھا ؟
جِدھر سب کچھ لُٹا آئے
جِدھر آنکھیں گنوا آئے
کہا ، سیلاب جیسا تھا،
بہت چاہا کہ بچ نکلیں مگر سب کچھ بہا آئے
کہو ، وہ ہجر کیسا تھا ؟
کبھی چُھو کر اسے دیکھا
تو تُم نے کیا بھلا پایا
کہا ، بس آگ جیسا تھا ، اسے چُھو کر تو اپنی رُوح یہ تن من جلا آئے
کہو ، وہ وصل کیسا تھا ؟
تمہیں جب چُھو لیا اُس نے
تو کیا احساس جاگا تھا ؟
کہا ، اِک راستے جیسا ،جدھر سے بس گزرنا تھا ، مکاں لیکن بنا آئے
کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟
فلک سے جو اُتر آیا !
تمھاری آنکھ میں بسنے
کہا ، وہ خواب جیسا تھا ، نہیں تعبیر تھی اسکی ،
اسے اِک شب سُلا آئے
کہو ، وہ عشق کیسا تھا ؟
بِنا سوچے بِنا سمجھے ،
بِنا پرکھے کیا تُم نے
کہا ، تتلی کے رنگ جیسا ،
بہت کچا انوکھا سا ،
جبھی اس کو بُھلا آئے
کہو ، وہ نام کیسا تھا ؟
جِسے صحراؤں اور چنچل ،
ہواؤں پر لکھا تُم نے
کہا ، بس موسموں جیسا ،
ناجانے کس طرح کس پل کسی رو میں مِٹا آئے

Saturday, 10 October 2015

ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ



ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ
ﮐﺐ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺑﺪﻟﺘﺎ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﮐﺐ
ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﻟﺒﺎﺩﮦ ﺍﻭﮌﮪ ﮐﮯ ﻏﻢ ﮐﺎ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﺻﺤﺮﺍ ﮐﻮ
ﺟﻮﺍﺏ ﺁﺋﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ، ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ
ﮐﺐ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﮬﻮﭖ ﮨﮯ ﻏﻢ ﮐﯽ
ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺧﺸﺘﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ،
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺻﮩﺮﺍ ﮐﯽ
ﻓﻀﺎﺋﯿﮟ ﮐﺐ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ،
ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﯽ
ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮨﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺳﭽﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺐ
ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺎ ﮐﺮ ﻧﺒﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ
ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﻧﺒﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻧﺌﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻓﺎﺋﯿﮟ ﮐﺐ
ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ

Friday, 2 October 2015

ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮯ ﭼﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻨﮓ ﭘﯿﺎ


ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮯ ﭼﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻨﮓ ﭘﯿﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮯ ﭼﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻨﮓ ﭘﯿﺎ
 ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺭﻧﮓ ﭘﯿﺎ
ﺗﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﻣﺎﻻ ﺟﭙﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻭﻡ ﺭﻭﻡ ﺍﻧﮓ ﺍﻧﮓ ﭘﯿﺎ
ﺍﮎ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻧﮓ ﭘﯿﺎ
ﺍﺏ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ "ﻣﯿﮟ" ﺳﮯ "ﺗﻮ" ، ﮐﺮ ﺩﮮ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﭘﯿﺎ

Thursday, 9 January 2014