affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Waqt Poetry
Showing posts with label Waqt Poetry. Show all posts
Showing posts with label Waqt Poetry. Show all posts

Sunday, 27 March 2016

دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے


دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے
پھر بھی خُوشبو کے ہاتھ پِیلے ہُوئے

بد گُمانی کے سَرد موسم میں
میری گُڑیا کے ہاتھ نِیلے ہُوئے

جب زمیں کی زباں چٹخنے لگی
تب کہیں بارشوں کے حیلے ہُوئے

وقت نے خاک وہ اُڑائی ہے
شہر آباد تھے جو ٹِیلے ہُوئے

جب پرندوں کی سانس رُکنے لگی
تب ہواؤں کے کُچھ وسیلے ہُوئے

کوئی بارش تھی بد گُمانی کی
سارے کاغذ ہی دِل کے گَیلے ہُوئے

- نوشی گیلانی

Thursday, 24 March 2016

جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے



جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
تو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے
وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم
وہ گنگنائے تو باد صبا ٹھہر جائے
سبک خرام صبا چال چل پڑے جب بھی
ہزار پھول سر راہ آ ٹھہر جائے
وہ ہونٹ ہونٹوں پہ رکھ دے اگر دم آخر
مجھے گماں ہے کہ آئی قضا ٹھہر جائے
میں اس کی آنکھوں میں جھانکوں تو جیسے جم جاؤں
وہ آنکھ جھپکے تو چاہوں ذرا ٹھہر جائے

اب حرفِ تمنّا کو سماعت نہ مِلے گی

اب حرفِ تمنّا کو سماعت نہ مِلے گی


اب حرفِ تمنّا کو سماعت نہ مِلے گی
 
بیچو گے اگر خواب تو قیمت نہ مِلے گی

تشہیر کے بازار میں اے تازہ خریدار
 
زیبائشیں مِل جائیں گی قامت نہ مِلے گی

لمحوں کے تعاقب میں گُزر جائیں گی صدیاں
 
یُوں وقت تو مِل جائے گا مُہلت نہ مِلے گی

سوچا ہی نہ تھا یُوں بھی اُسے یاد رکھیں گے
 
جب اُس کو بُھلانے کی بھی فرصت نہ مِلے گی

تا عمر وہی کارِ زیاں عشق رہا یاد
 
حالانکہ یہ معلوم تھا اُجرت نہ مِلے گی

تعبِیر نظر آنے لگی خواب کی صُورت
 
اب خواب ہی دیکھو گے بشارت نہ مِلے گی

آئینہ صفت وقت! تِرا حُسن ہیں ہم لوگ
 
کل آئینے ترسیں گےتو صُورت نہ مِلے گی