affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Bhaid poetry
Showing posts with label Bhaid poetry. Show all posts
Showing posts with label Bhaid poetry. Show all posts

Sunday, 25 October 2015

محبت کیا ھے؟

محبت کیا ھے؟
محبت کیسی ھوتی ھے؟
سنتے آئے ھیں کہ
محبت
گلاب پہ شبنم کے جیسی ھوتی ھے.
محبت ٹوٹے دلوں پہ مرہم لگاتی ھے..
محبت غیروں کو اپنا بناتی ھے..
محبت چٹانوں کو بھی
موم کی طرح پگھلاتی ھے.
یہ صحراؤں کو گلستان بناتی ھے.
محبت پت جھڑ میں نویدِ بہار لاتی ھے..
محبت چکور کو حد پرواز سے گزرنے پر ُاُکساتی ھے ..
یہ پروانے کو شمع پہ مٹنا سکھاتی ھے..
محبت سادہ سی آنکھوں کو
حسین خوابوں سے سجاتی ھے...
محبت عام سے چہرے کو
اپنا نور بخشتی ھے...
"""لیکن"""
چلو دیکھیں ھم آج اسکا روپ دوسرا....
::::محبت.::::
گلاب سے چہرے سے شبنم
اک پل میں نچوڑ لیتی ھے.
یہ خوش باش سے دل کو
زخمِ ناسُور سا دیتی ھے.
محبت پل بھر میں اپنوں سے
کسی کو باغی کرتی ھے.
کبھی یہ موم سے دل کو
پتھر کا بناتی ھے.
یہ اپنی سے کرنے پہ اگر آجائے تو
بہارِ رُت میں بھی جھڑی ساون کی لگاتی ھے.
محبت دیوانگی میں اُڑتے چکور کو...
بے دم کر کے گراتی ھے..
محبت پروانے کی معصومیت کو.
ھر شمع پہ لُٹاتی ھے...
یہ سادہ آنکھوں کو حسین خوابوں سے سجا کر..
پھر ھر اک خواب کو نُوچ لیتی ھے..
محبت پُرنُور چہروں کے دیپ بُجھاتی ھے..
محبت ایسی بھی تو ھوتی ھے...
یہ کیوں دل کو ویران کرتی ھے...
کیونکر برباد کرتی ھے...
کسی کی یوں نھیں سنتی....
کیوں ھر بار اپنی سی کرتی ھے...

Tuesday, 21 January 2014

کب تک آخر ہم سے اپنے دل کا بھید چھپاؤ گی Kab tak aakhir hum se apne dil ka bheid chupao ge


کب تک آخر ہم سے اپنے دل کا بھید چھپاؤ گی
تمہیں رہ پر اک دن آنا ہے، تم رہ پر آ ہی جاؤ گی

کیوں چہرہ اُترا اُترا ہے؟ کیوں بُجھی بُجھی سی ہیں آنکھیں؟
سُنو! عشق تو ایک حقیقت ہے، اسے کب تک تم جُھٹلاؤ گی

سب رنگ تمہارے جانتا ہوں، میں خوب تمہیں پہچانتا ہوں
کہو کب تک پاس نہ آؤ گی؟ کہو کب تک آنکھ چُراؤ گی؟

بھلا کب تک ہم اک دوسرے کو چُھپ چُھپ کر دیکھیں اور ترسیں؟
ہمیں یار ستائیں گے کب تک ، تم سکھیوں میں شرماؤ گی!

یہ سرو تنی، محشر بدَنی، گُل پیرہنی، گوہر سُخَنی
سب حسن تمہارا بے قیمت، گر ہم سے داد نہ پاؤ گی

جب کھیل ہی کھیلا شعلوں کا، پھر آؤ کوئی تدبیر کریں
ہم زخم کہاں تک کھائیں گے؟ تم غم کب تک اپناؤ گی

چلو آؤ بھی، ہم تم مل بیٹھیں، اور نئے سفر کا عہد کریں
ہم کب تک عمر گنوائیں گے، تم کب تک بات بڑھاؤ گی؟

میں شاعر ہوں، مرا شعر مجھے کسی تاج محل سے کم تو نہیں
میں شاہ جہانِ شعر، تو تم، ممتاز محل کہلاؤ گی

نہیں پاس کیا گر عشق کا کچھ، اور ڈریں نہ ظالم دنیا سے
شاعر پہ بھی الزام آئیں گے، تم بھی رسوا ہو جاؤ گی!۔