affiliate marketing Famous Urdu Poetry: New Poetry
Showing posts with label New Poetry. Show all posts
Showing posts with label New Poetry. Show all posts

Tuesday, 26 November 2019

Kash woh bhi mujhe kabhi dekhy by Sahaghsha


ہجر کے بے صدا جزیرے پر
کنج تنہائی میں کوئی لڑکی
خال و خد پر لگا کے آس کا رنگ
چشم و لب پر سجا کے دل کی امنگ
آنکھوں آنکھوں میں مسکراتی ہے
شام کی سرمئی اداسی میں
اپنی تصویر خود بناتی ہے
ادھ کھلے ہونٹ نیم وا آنکھیں
بے نوا ہونٹ بے صدا آنکھیں
ایسی خاموشی ایسی تنہائی
خود تماشا ہے خود تماشائی
خود ہی تصویر خود مصور ہے
خود غزل اور خود ہی شاعر ہے
سوچتی ہے کہ جس کے ہجر میں میں
شمع سی صبح و شام جلتی ہوں
موم سی رات دن پگھلتی ہوں
کاش وہ میری روشنی دیکھے
میری آنکھوں کی ان کہی سمجھے
میرے تن من کی بے بسی دیکھے
جتنی شدت سے خود کو دیکھتی ہوں
کاش وہ بھی مجھے کبھی دیکھے
****************
صہاغشہہ


Sunday, 23 December 2018

Tum jan nahi pao gy by Honey Sarkash


کیا چاہتے ہو تم
چیخیں چلاٸیں تم پر
نہیں یہ نہیں ہوگا ہم سے
غلطی تو ہماری تھی نہ
سمجھ نہ سکے آپ کو
جانے کیا ڈھونڈ رہے تھے تم میں
وہ سب جو شاید تھا ہی نہیں
پھر سزا تو ہماری بنتی ہے
چپ رہیں کلیجہ جلاٸیں
خود سے جھگڑیں سزا دیں
مگر بین کرکے یہ نہیں بتاٸیں گے کبھی
کہ کس قدر ٹوڑ پھوڑ
اس مختصر سے تعلق کے زمرے میں
ہمارے حصّے میں آٸی ہے
خسارہ کس قدر شدید ہے
تم جان ہی نہیں پاٶ گے.......!

شاعرہ: ہنی سرکشؔ (Honey Sarkash)

Sochon ki kashmakash by Honey Sarkash


سوچوں کی کشمکش کچھ عجیب ہے
کرے بات وہ تو بھی جناب غضب ہے
دورِ جدید ہے آج پھر بھی جانے کیوں
درمیان میں آتا اب بھی حسبُ نسب ہے
ڈرتے ہیں تُو بس دلوں کی بَددعاٶں سے
جانتا یہ بات تُو صرف میرا ہی ربّ ہے
جانے کیسے گزارتا ہوگا وہ صُبح و شَام
خیال اس کا ستاتا مجھے تو ہر شَب ہے
بہت مجبور ہیں بے بس ہیں ہم جاناں
کہاں سب کےہاتھوں میں ہوتاسب کچھ ہے
سلسلہ کلام اس لٸے ہی توڑے رکھتے ہیں
یونہی بہتری اور کچھ یہی حدِ ادب ہے
جانے کہاں کہاں دستک دیتی ہے مُحبت
اور عشق دیکھاتا کیسے کیسے کرتب ہے

Adhoori kahani by Honey Sarkash

لکھ لکھ کے تھک گٸے ہیں اِس دل افسانے      

مقبول کوٸی بھی میری کہانی نہیں ہوتی   

شاعرہ: ہنی سرکشؔ  Honey Sarkash

Rag o jan mein teri khwahishen by Showing Flower


Rag o jan mein teri khwahishen by Showing Flower

رگِ جان تیری خواہیشیں
روح و قلب میں ہیں چھپی چھپی
تیری منتظر ان آنکھوں میں
ہے نمی جاناں ذرا دبی دبی
لبوں  پہ تیرا  ہی تذکرہ
ہے مسلسل نہ کہ کبھی کبھی
مکینِ  روح تورے خیال میں
گم میرے دن اور رات سبھی
تو نہ جانے کہ کیسا درد ہے
عاشقی میں حالتِ  بے بسی
ازقلم: شوئنگ فلاور

Saturday, 22 December 2018

Dua by Honey Sarkash


یاربّ میں بہت ہی شرمندہ ہوں
تیرے رحم و کرم پہ زندہ ہوں
تیری نہیں سنّتا اک بھی میں
نافرمان تیرا ایساہی بندہ ہوں
دنیا کی چمک کو بس مانو میں
یوں شعور والا ہی اک اندھا ہوں
آخرت کی مجھکو خبر نہیں بس
دنیا کا ایک چمکتا سا چندہ ہوں
تجھ کو مانو اور  تیری نہ مانو
کچھ عجیب گورکھ دھندا ہوں
ہاتھ پیر سب گناہوں سے لُتھڑَے
اندر سے بہت ہی میں گندا ہوں
دنیا میں ہیں میرے دام بہت
قبر کے اعمال میں مَندہ ہوں
شاعرہ: ہنی سرکش (Honey Sarkash)

Barish by Showing Flower


برستے بادلوں کے موسم میں
    تر ہوتی زمیں کی لمحوں میں
    خاک    اڑاتی   ہواؤں   میں
    کڑکتی بجلی کی صداؤں میں
 ویراں چشم و دل کی فضاؤں میں
  اک احساس کی لہر گزرتی ہے
  پھیل جاتا ہے ہرسو خمارِ درد
  تشنگی کی حد بھی بڑھتی ہے
  چھڑ جاتا ہے پھر دھڑکنوں میں
   وہ ساز جو محبت تھرکتی  ہے
   کوچہ  دل  میں  اداسی   پھر
 ان بارشوں میں پروان چڑھتی ہے
  کھڑکیوں پہ پھسلتے پانی کے ساتھ
     آنکھ  اشک برابر بہاتی ہے
      سنو ۔!  یہ امر سچ ہے جاناں
    کہ  بارش  بہت  تڑپاتی  ہے
   تاریکی میں لپٹی رات  صنم !
     ہر دل اداس کر جاتی ہے
   بارش سے بھیگی رات میں جاناں
بے درد محبت مار جاتی ہے ۔ ۔ ۔!
    ازقلم : شوئنگ فلاور

Mujhe aesi mohabbat ab bhi hai by Showing Flower


سنو جاناں مجھے تم سے
کچھ ایسی محبت اب بھی ہے
تیرے  تلخ   رویوں   سے
تیری  ہر  بے رخی  سے
تیری پُر کشش اداؤں سے
تیری گھنبیر  ہنسی  سے
تیرے قدموں  کی چاپ سے
تیری آنکھوں کی تاب سے
مجھے ایسی محبت اب بھی ہے
تیری  کچھ   باتوں   سے
تیری  کچھ  یادوں  سے
تیرے  شوخ  مزاج  سے 
تیرے  دل موہ  انداز  سے
تیری حسین  سیرت  سے
تیری قاتل  حاکمیت  سے
مجھے ایسی محبت اب بھی ہے
مجھ سے غافل رہنے سے
مجھے نادان  کہنے  سے
نظر  انداز  کرنے  سے
اجنبی کی سی گزرنے سے
تیری ہر ایک عادت سے
تیرے عشق کی عبادت سے
مجھے محبت تھی ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ !
کچھ ایسی محبت اب بھی ہے
ازقلم:شوئنگ فلاور

Friday, 21 December 2018

Koi to rat aesi bhi ho by Honey Sarkash


💕کوٸی تو رات اِیسی بھی شاعرانہ ہو
شَب بھر اُس کے بازو میرا سِرہانہ ہو💕

💕رسم و رواج بھی نہ آٸیں اُسکے آڑے
مزاج اُسکا اِسقدر ہی پھر باغیانہ ہو💕

💕قابض ہوجاٸے وہ اِیسے میری زات پر
اداٸیں اس کی ساری ہی قاتلانہ ہو💕

💕رہ جاٸیں سب کی سب پیرپٹختی سی
سوچیں میری کتنی بھی مدبّرانہ ہو💕

💕اُسکی مخروطی انگلیاں سنواریں زلفیں
خواہشیں مکمّل میری ساری دلبرانہ ہو💕

💕ساری اداسی پڑی رہےمنہ نیہواڑےسرکش
موسم کبھی تیرے دل کا اتنا عاشقانہ ہو💕

شاعرہ: ہنی سرکش (Honey Sarkash)

Thursday, 20 December 2018

Woh jo dil ke mehman hua karty thy by Honey Sarkash


وہ جو دل کے مہمان ہوا کرتے تھے
جن کیلئے ھم قربان ہوا کرتے تھے

آج وہ ھم سے تکلم کیلئے ہیں راضی
نخرے جنکے زمیں پہ آسمان ہواکرتےتھے

حساب رکھا ہی نہیں کبھی تھاجفاؤں کا
عشق میں اسقدر بے ایمان ہوا کرتےتھے

ذرا سی بات پہ روٹھے تو یہ احساس ہوا
بھول جانے کے بھی عہدؤپیمان ہواکرتےتھے

جو لے گئے تھے کھرچ کر دل سے یادیں تک
لوٹ کےآنے والوں کےکب سامان ہواکرتے ہیں

اب وہ دن کہاں سے ملینگے تم کو سرکش
جب تم پہ ھم واری قربان ہوا کرتے تھے


Teri adawaten by Honey Sarkash


تیری عداوتیں تیری بےرخی دائم ہیں
اپنے چند لفظوں کا اعتبار قا ئم ہے

تیری اذان الفت درکار ہے مجھے
دل آج بھی تیرے عشق کاصائم ہے

ستا سکے تو جتنا ستائے جاہم کو
لگی دل کی ہے اچھا تیرا ٹائم ہے

چلے جا چھوڑ کر، بدل لے راستے
دورنہ ہونگےتجھ سے دل کےعزائم ہیں

تیری ہرادا سےاب بھی ہے الفت سرکش
تیرےلئے گوشہ گوشہ دل کا ملائم ہے

Tum bhi to gay by Honey Sarkash


تم بھی تو گئے دل کو جھٹکے دے کر
وہی ھم کو پرانے سارے کھٹکے دےکر

ھم سے برداشت نہیں ہوتی بس زباں
گئےتم بھی نہیں دکھ کچھ ہٹکے دےکر

جو بھی اچھا برا ساتھ وقت گزارہ ھم نے
توڑگئے تم بھی خوش فہمیوں کےمٹکے دےکر

لگا دیئے ھوش سارے ٹھکانے ھمارے
ہماری اوقات کے ھم کو پھٹکے دےکر

زندگی پھر مسکرا کر دیکھ رہی ہے ہمیں
راستے کچھ نئے ہمیں ذرا بھٹکے دے کر

اب تم بھی لوٹ کر نہ آؤ گے دیکھنا سرکش
خواب بس کچھ حسین اونچے لٹکے دے کر


Woh jo hum ko her bar by Honey Sarkash


جگہ دل میں ایسے قلیل کرتے ہیں
وہ جو ہم کو ہر بار ذلیل کرتے ہیں

ہےکچھ خیال جوچپ ہوجاتےہیں ھم
لفظ وہ ہیں جو دل میں نکیل کرتےہیں

ہم بچتے رہے اب تک تمہارے قہرسے
رب علیم جی یہ سب سبیل کرتے ہیں

ہم سمجھتےنہیں توتم ہی سمجھ جو
کیوں طعنے دیکرہمیں علیل کرتےہیں 

وہ خودکوبھی سمجھنےسے قاصرہیں
بات بے بات جو  ہم پہ دلیل کرتے ہیں

نہ سمجھو بےآسرااس جہان میں سرکش
کام تو سب کے ہی رب جلیل کرتے ہیں