affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Showing Flower
Showing posts with label Showing Flower. Show all posts
Showing posts with label Showing Flower. Show all posts

Wednesday, 2 October 2019

Andheri shaam by Showing Flower


اندھیری شام"

از قلم : شوئنگ فلاور ۔۔۔۔!!

میں  وہ  اندھیری  شام   ہوں
جسے سحر کی کوئی چاہ نہیں
میرے راستے سبھی خاردار
ہر  قدم کے آگے  کرچیاں
خواب  بند کسی  قید   میں
اب تو گھاؤ کی بھی پرواہ نہیں
اک   آس   خضر  کی   تھی
جو  شوق دوائے  شافی  تھا
ہر  آرزو  کہیں  بہہ   گئی
تو دل میں   بھی  آہ   نہیں
جو  یقیں کروں لکیروں  پر
تو  وہ  بھی ٹوٹی   بکھریاں
کہیں  کہیں ہیں  مدھم بہت
کہیں  بختِ سیدھ  کی راہ نہیں
ہر بات میری  بے مزہ  سی ہے
کیا  درد میں  مزہ  نہیں ۔۔۔؟؟
میں وہ  اندھیری   شام ہوں
جسے  سحر  کی کوئی چاہ نہیں

Thursday, 1 August 2019

Kash by Showing Flower












         " قطعہ "
کاش بازی  یوں  پلٹ  جائے
اسے بھی کہیں قرار نہ  آئے
پل پل  تڑپے وہ  بے  تحاشا
ہر رات بلک کے آنسو بہائے
 
ازـشوئنگ فلاور


Monday, 29 July 2019

Waqt by Showing Flower





وقت ادا کروائے گا میری اُڑی نیندوں کی قیمت

مفت کی بے چینی بھی میں اُسے معاف نہیں کروں گی 

ازقلم :شوئنگ فلاور.





Sunday, 19 May 2019

Pak army ke naam by Showing Flower


۔۔۔۔۔ پاک آرمی کے نام ۔۔۔"
گر  کرنا  چاہو  چاک   گریباں
تم  پہلے خود  کو  رفو  کرنا
جو پیٹ پھیرے ڈھنڈورا گلی گلی
دو گھڑی بیٹھ کے سوچ بچار کرنا
فتح کرتے ہو نام چاقو کے بل پہ
کبھی شیریں زباں سے کلام کرنا
کرتے ہو وار معصوم قفس پہ
ذرا ازلان پہ شمشیر زنی کرنا
بے وقعت ہے اقبال کے شاہین گر
کبھی قائد کے فخر کو للکار کرنا
گر جانو بے مول قم رسول ہاشمیﷺ
تم  نعرہ  تکبیر   پہ  غور  کرنا
جو ظلم کی زنجیر پہ ہاتھ بڑھاؤ
دھرتی پہ مٹنے والوں کو یاد کرنا
جب لہو کی ندیاں بہانا سوچو ۔۔۔
تم پاک فوج کا خیال آباد کرنا
ازقلم: شوئنگ فلاور


Wednesday, 8 May 2019

Pak Army k naam by Showing Flower



۔۔۔۔ پاک آرمی کے نام ۔۔۔"
گر  کرنا  چاہو  چاک   گریباں
تم  پہلے خود  کو  رفو  کرنا
جو پیٹ پھیرے ڈھنڈورا گلی گلی
دو گھڑی بیٹھ کے سوچ بچار کرنا
فتح کرتے ہو نام چاقو کے بل پہ
کبھی شیریں زباں سے کلام کرنا
کرتے ہو وار معصوم قفس پہ
ذرا ازلان پہ شمشیر زنی کرنا
بے وقعت ہے اقبال کے شاہین گر
کبھی قائد کے فخر کو للکار کرنا
گر جانو بے مول قم رسول ہاشمیﷺ
تم  نعرہ  تکبیر   پہ  غور  کرنا
جو ظلم کی زنجیر پہ ہاتھ بڑھاؤ
دھرتی پہ مٹنے والوں کو یاد کرنا
جب لہو کی ندیاں بہانا سوچو ۔۔۔
تم پاک فوج کا خیال آباد کرنا 

ازقلم: شوئنگ فلاور

Saturday, 16 March 2019

barish by Showing flower

ٹپ ٹپ برسے بارش جب
ہر بوند میں یاد تجھے کرتی ہوں
میں ورق گردانی بھول کر
تجھے لفظ لفظ پڑھتی ہوں
تیرے ہجر میں آہیں بھر بھر کے
میں اکثر چائے ٹھنڈی کرتی ہوں
لوگ پاگل پاگل کہتے ہیں
میں دل کھول کے ہنسا کرتی ہوں
از قلم:شوئنگ فلاور

Tuesday, 5 March 2019

Usy kehna by Showing Flower


اسے کہنا ۔ ۔۔ ۔ ۔

کہ جب تم کو میری قضا کی خبر پہنچے
تو جلدی نہ کرنا آنے میں ۔ ۔ ۔ ۔
اگر تم وقت پر پہنچے توْ
میرا غرور ٹوٹ جائے گا
جب قریب کھڑے ہو میری میت کے
تو چہرے سے کفن مت ہٹانا
تم خود پہ قابو نہیں رکھ پاؤ گے
تم اک بھی آنسو مت بہانا
اگر آنکھ تمھاری نم ہو گئی تو
میرا غرور ٹوٹ جائے گا
جب ضرورت ہو چار کاندھوں کی
تم اپنا کاندھا نہ دینا ۔ ۔ ۔
جب لوگ صف در صف کھڑے ہو کر
میری مغفرت کے کلمات پڑھیں
تم اس صف میں نہ کھڑے ہونا
کہ تمھارے ایسا کرنے سے ۔۔
میرا غرور ٹوٹ جائے گا ۔ ۔ ۔
از شوئنگ فلاور


Tuesday, 15 January 2019

Bebasi by Showing Flower


قطعہ
تیرا  یوں  دور  دور  رہنا
مجھے کوئی اجنبی سا کہنا
تیری بے رخی کی وجہ نہیں
میری بے بسی کا یہ حال ہے

Ik benaam si kahani by Showing Flower


قطعہ
تھی ہاتھ میں محبت کی تربت کی راکھ
تلخ ہوا کے اک جھونکے نے اُڑا دی
کتنی  بے  ظرف   ہیں   یہ   ہوائیں
اک  بے نام سی کہانی ہی  مٹا  دی

Zeest ka majra by Showing Flower


آ سن ذرا میری بے حال زیست کا ماجرہ ۔ ۔ ۔
لوگ تلاشتے ہیں تجھے میرے لفظوں کے جوڑمیں
(شوئنگ فلاور)

Wednesday, 26 December 2018

Woh khilty gulab jesa by Showing Flower


وہ کھلتے گلاب کی مست کلی جیسا
وہ طلوع آفتاب کی پہلی کرن کی طرح
وہ فجر میں پرندوں کی چہچہاہٹ جیسا
وہ اُفق پہ ہر سو پھیلے رنگوں کی طرح
وہ گرم موسم میں سرد بوندوں جیسا
وہ سرد ہواؤں میں منقل کی طرح
وہ مسکراہٹ میں پھیلی بہار جیسا
وہ خاموش طبع خزاں کی طرح
وہ آنکھوں میں سمندر کی لہروں جیسا
وہ خوبصورت پورے چاند کی طرح
وہ زمیں پہ گرتی چمکیلی اوس جیسا
وہ فضا میں چھائی خنکی کی طرح
وہ گیت میں شامل سروں جیسا
وہ کسی غزل کے موضوع کی طرح
وہ خیال میں چبھی کسی یاد جیسا
وہ دل میں چھپے کسی درد کی طرح
وہ انجان سا لا تعلق غیروں جیسا
وہ مغرور و ظالم کسی خلیفہ کی طرح
وہ ٹوٹے بکھرے لہجے میں دعاؤں جیسا
وہ سجدوں میں فرض عبادت کی طرح
وہ میری سانسوں میں رواں مہک جیسا
وہ ہر لمحہ ازبر کسی اہم سبق کی طرح
ازقلم: شوئنگ فلاور

Sunday, 23 December 2018

Rag o jan mein teri khwahishen by Showing Flower


Rag o jan mein teri khwahishen by Showing Flower

رگِ جان تیری خواہیشیں
روح و قلب میں ہیں چھپی چھپی
تیری منتظر ان آنکھوں میں
ہے نمی جاناں ذرا دبی دبی
لبوں  پہ تیرا  ہی تذکرہ
ہے مسلسل نہ کہ کبھی کبھی
مکینِ  روح تورے خیال میں
گم میرے دن اور رات سبھی
تو نہ جانے کہ کیسا درد ہے
عاشقی میں حالتِ  بے بسی
ازقلم: شوئنگ فلاور

Saturday, 22 December 2018

Barish by Showing Flower


برستے بادلوں کے موسم میں
    تر ہوتی زمیں کی لمحوں میں
    خاک    اڑاتی   ہواؤں   میں
    کڑکتی بجلی کی صداؤں میں
 ویراں چشم و دل کی فضاؤں میں
  اک احساس کی لہر گزرتی ہے
  پھیل جاتا ہے ہرسو خمارِ درد
  تشنگی کی حد بھی بڑھتی ہے
  چھڑ جاتا ہے پھر دھڑکنوں میں
   وہ ساز جو محبت تھرکتی  ہے
   کوچہ  دل  میں  اداسی   پھر
 ان بارشوں میں پروان چڑھتی ہے
  کھڑکیوں پہ پھسلتے پانی کے ساتھ
     آنکھ  اشک برابر بہاتی ہے
      سنو ۔!  یہ امر سچ ہے جاناں
    کہ  بارش  بہت  تڑپاتی  ہے
   تاریکی میں لپٹی رات  صنم !
     ہر دل اداس کر جاتی ہے
   بارش سے بھیگی رات میں جاناں
بے درد محبت مار جاتی ہے ۔ ۔ ۔!
    ازقلم : شوئنگ فلاور

Mujhe aesi mohabbat ab bhi hai by Showing Flower


سنو جاناں مجھے تم سے
کچھ ایسی محبت اب بھی ہے
تیرے  تلخ   رویوں   سے
تیری  ہر  بے رخی  سے
تیری پُر کشش اداؤں سے
تیری گھنبیر  ہنسی  سے
تیرے قدموں  کی چاپ سے
تیری آنکھوں کی تاب سے
مجھے ایسی محبت اب بھی ہے
تیری  کچھ   باتوں   سے
تیری  کچھ  یادوں  سے
تیرے  شوخ  مزاج  سے 
تیرے  دل موہ  انداز  سے
تیری حسین  سیرت  سے
تیری قاتل  حاکمیت  سے
مجھے ایسی محبت اب بھی ہے
مجھ سے غافل رہنے سے
مجھے نادان  کہنے  سے
نظر  انداز  کرنے  سے
اجنبی کی سی گزرنے سے
تیری ہر ایک عادت سے
تیرے عشق کی عبادت سے
مجھے محبت تھی ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ !
کچھ ایسی محبت اب بھی ہے
ازقلم:شوئنگ فلاور