انھیں
تو پوچھو
یہ
آنکھیں کیسے
الجھ
رہی ہیں
سلجھنا
چاہیں ،
یہ
خوابیدہ ،سنہری آنکھیں
یہ
کتنے لفظوں
کے
سب طوفانوں میں
پڑ
رہی ہیں
یہ
اب سنجیدہ ،دلیری آنکھیں
انھیں
میسر ہیں ،
ہیں
سب سوالوں کے
سب
جوابوں کے
سارے
دیدہ ،عظیم منظر
ہیں
پیاری آنکھیں
انھیں
یوں سمجھو
حقیقتوں
کے ہیں
جادو
منتر ،
بسائے
امید کے جو جگنو
یہ
ہوگئیں ہیں
سیراب
اندر
عظیم
آنکھیں
حسین
آنکھیں
حسیں
خوابوں کے ہیں سمیٹے ،
حسین
منظر
یہ
پیاری آنکھیں
حافظہ
شبانہ نواز عنبر
******************
No comments:
Post a Comment