affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Hafiza Shabana Nawaz Amber
Showing posts with label Hafiza Shabana Nawaz Amber. Show all posts
Showing posts with label Hafiza Shabana Nawaz Amber. Show all posts

Sunday, 18 January 2026

Aankhen Poetry by Hafiza Shabana Nawaz Amber

انھیں تو پوچھو

یہ آنکھیں کیسے

الجھ رہی ہیں

سلجھنا چاہیں ،

یہ خوابیدہ ،سنہری آنکھیں

یہ کتنے لفظوں

کے سب طوفانوں میں

پڑ رہی ہیں

یہ اب سنجیدہ ،دلیری آنکھیں

انھیں میسر ہیں ،

ہیں سب سوالوں کے

سب جوابوں کے

سارے دیدہ ،عظیم منظر

ہیں پیاری آنکھیں

انھیں یوں سمجھو

حقیقتوں کے ہیں

جادو منتر ،

بسائے امید کے جو  جگنو

یہ ہوگئیں ہیں

سیراب اندر

عظیم آنکھیں

حسین آنکھیں

حسیں خوابوں کے ہیں سمیٹے ،

حسین منظر

یہ پیاری آنکھیں

 

حافظہ شبانہ نواز عنبر

******************

Saturday, 4 October 2025

Yeh gul e khar kese Ghazal by Hafiza Shabana Nawaz Amber

یہ سبزہ ،یہ کلیاں یہ گل خار کیسے

ہواؤں میں بستے یہ انبار کیسے

 

ثمن کو کہا تھا کہ عنبر ہی برسے

تو پھر آتشوں میں یہ  انبار کیسے

 

ضروری نہیں ہے کہ یکساں رہے سب

مگر پھر بھی یکساں یہ اظہار کیسے

 

قلم کو سیاہی ہے درکار لیکن

نہ عنوان سمجھیں تو اشعار کیسے

 

حافظہ شبانہ نواز عنبر

************

Thursday, 5 December 2024

December ke naam poetry by Hafiza Shabana Nawaz Amber

دسمبر کے نام

 

سنو ٹھہرتی ہوئی شاموں

ذکر کرتی ہوئی شاموں

مجھے ،میرے ہی آنگن میں

کیے تنہا رکی   شاموں

 

ڈھلے دن کے سبھی سائے

کہ طائر بھی پلٹ آئے

مہر اب تو کدھر جائے

سبھی تارے نکل آئے

 

کہ دن بدلے یا ہوں شامیں

یا ہوں رت کی کئ تانیں

جو دنیا کی سبھی شانیں

مگر سن تو دسمبر اب!

ہے دل کی آس عنبر اب!

یہ سب کچھ چھوڑ کر بدلے

مگر جو صرف نہ بدلے

تو ذی انسان نہ بدلے۔۔

 

حافظہ شبانہ نواز عنبر

*****************