You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Noreen Muskan Sarwar. Show all posts
Showing posts with label Noreen Muskan Sarwar. Show all posts
Monday, 25 December 2017
یہ دنیا بے حیا ہو کر ،حیا کی بات کرتی ہے از نورین مسکان سرور
یہ دنیا بے حیا ہو کر ،حیا کی بات کرتی ہے۔
دوپٹہ کھینچ کے سر سے ،ردا کی بات کرتی ہے۔
تڑپتا
ہے ،بلکتا ہے ،غریبوں کا کوئی بچہ
اجل جب گھیر لے اس کو،غذا کی بات کرتی ہے
حقیقت
کا لبادہ اوڑھنے کو جرم کہتی ہے
سہارا جھوٹ کا لیں تو جزا کی بات کرتی ہے
امیروں
کے جرم عیاش بھی معدوم ہوتے ہیں
غریبوں کے ہنسنے پر ،سزا کی بات کرتی ہے
یہ
دنیا کچھ نہیں دیتی اگر دے چھین لیتی ہے
یہ خود محتاج ہو کر کیوں ،عطا کی بات کرتی ہے۔
کوئی
مزدور بچہ ہو ،غریبوں کا تو چپ قانون
یہ قہقہے طفل ناداں پر خطا کی بات کرتی ہے
یہاں
پر مطلبی ہیں سب،یہ ہرجائی کی دنیا ہے
تیری مسکان نادانی وفا کی بات کرتی ہے
Friday, 1 December 2017
jo dil ka ho nah mukhlis by Noreen Muskan Sarwar
غزل
شاعرہ؛ نورین مسکان سرور
شاعرہ؛ نورین مسکان سرور
جو دل کا ہو نہ مخلص ،اس سے آنکھیں چار
کیا کرنا
کسی بے فیض کی خاطر ،یہ دل بیمار کیا کرنا
کسی بے فیض کی خاطر ،یہ دل بیمار کیا کرنا
قفل ہونٹوں پہ ،سینے میں لیئے پھرتے ہیں
دل زخمی
نگاہیں بند ہیں سب کی ،غم اظہاف کیا کرنا
نگاہیں بند ہیں سب کی ،غم اظہاف کیا کرنا
محبت کے سوالوں پہ میں اتنا کہہ کے آئی
ہوں
نظر اقرار کرڈالے تو پھر انکار کیا کرنا
نظر اقرار کرڈالے تو پھر انکار کیا کرنا
سر بازار اس کا مول ،چاہوں تو لگا ڈالوں
وہ ہے ہی آخری خواہش،اسے بیکار کیا کرنا
وہ ہے ہی آخری خواہش،اسے بیکار کیا کرنا
ضرورت معافیوں کی ہے،چلو سجدے میں گر
جائیں
خدا روٹھا ہوا ،خلق خدا سے پیار کیا کرنا
خدا روٹھا ہوا ،خلق خدا سے پیار کیا کرنا
be sabab yonhi aksar by Noreen Muskan Sarwar
غزل: محبت
شاعرہ: نورین مسکان سرور
شاعرہ: نورین مسکان سرور
بے سبب یونہی اکثر، چھپ کے
رونے لگتے ہیں
اس کو دیکھ کر، اپنے ہوش کھونے لگتے ہیں
اس کو دیکھ کر، اپنے ہوش کھونے لگتے ہیں
عشق اور محبت میں ،دید لازمی عنصر
کتنے معجزے اکثر ،اک ساتھ ہونے لگتے ہیں
کالی رات کی دیوی ،یاد اس کی لاتی ہے
دن کے جب تھکے ہارے شب کو سونے لگتے ہیں
کتنے معجزے اکثر ،اک ساتھ ہونے لگتے ہیں
کالی رات کی دیوی ،یاد اس کی لاتی ہے
دن کے جب تھکے ہارے شب کو سونے لگتے ہیں
نہ کبھی ہمارا تھا ،نہ وہ اب ہمارا ہے
سوچتے ہی ہم غم سے ،چور ہونے لگتے ہیں
سوچتے ہی ہم غم سے ،چور ہونے لگتے ہیں
مسکان سوچتے ہیں جب، اس کو بھول
جائیں اب
زندگی کی راہوں سے دور ہونے لگتے ہیں۔
زندگی کی راہوں سے دور ہونے لگتے ہیں۔
Wednesday, 29 November 2017
Aah o fighan by Noreen Muskan Sarwar
بڑی امید سے میں نے تمہیں حالات لکھے
ہیں۔
بہت ناکامیاں لکھیں،بہت سے خواب لکھے ہیں
کوئی تعلق نہیں تھا وہ ،فقط اک آشنائی
تھی
جو ٹوٹے آبرو پر، وہ سبھی عذاب لکھے ہیں
جو ٹوٹے آبرو پر، وہ سبھی عذاب لکھے ہیں
بہت ہے جاں گسل قصہ مگر،پہچان آساں ہے
محبت اور جہالت کے سبھی نصاب لکھے ہی
محبت اور جہالت کے سبھی نصاب لکھے ہی
یہاں نوچے کلیجے ہیں کسی نے پھول گلشن
کے
بڑا بے حس زمانہ ہے،خلوص طاق لکھے ہیں
بڑا بے حس زمانہ ہے،خلوص طاق لکھے ہیں
سر بازار ہوتا ہے بہن بیٹی کا جو
سودا
وہ نیلامی کے سب کلیے ،ہنر بیباق لکھے ہیں
وہ نیلامی کے سب کلیے ،ہنر بیباق لکھے ہیں
سمندر بے کراں روحیں تڑپتی ہیں جو لرزش
ہے
ہاں ان ماؤں کے ،رونے کے سبھی انداز لکھے ہیں
ہاں ان ماؤں کے ،رونے کے سبھی انداز لکھے ہیں
وہ جو حصار ٹوٹا تھا،زمیں پر عظمت
انساں
بلکتی آرزوئیں اور سسکتے خواب لکھے ہیں
بلکتی آرزوئیں اور سسکتے خواب لکھے ہیں
جو مسکان ڈوبے تھے ،فلک کی نیلگوں میں وہ
ہاں گرہن میں اذیت سے تڑپتے چاند لکھے ہیں۔
ہاں گرہن میں اذیت سے تڑپتے چاند لکھے ہیں۔
Saturday, 25 November 2017
Ana ka takabar by Noreen Muskan Sarwar
انا کے ٹوٹ جانے سے تکبر سر پٹختا ہے
ملنساری ہنستی ہے ۔زعم جی بھر چٹختا ہے
قدر انسانیت کی پھر دوبارہ جاگ جاتی ہے
پھر شکوہ مقدر کا اندھیروں میں بھٹکتا ہے
خدا کی رحمتیں آکر زمیں پر غل مچاتی
ہیں
قریب انسان کے پھر نا کوئی شیطاں پھٹکتا ہے
دلوں کی وادیوں میں پھر محبت جاگ جاتی ہے
وہاں کوئی بھی نفرت کا نہ پتھر اٹکتا ہے
پھر انصاف ہوتا ہے،ضمیروں کی عدالت
میں
کرپشن اور رشوت پہ بڑا تالا لٹکتا ہے
وہاں مسکان سچائی کرو فر سے رہتی ہے
بڑے ہی غم پھر یوں جھوٹ اپنا سر جھٹکتا ہے
Thursday, 23 November 2017
Nazam by Noreen Muskan Sarwar
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟
جو میری ذات بے اماں کی
کرچی کرچی سمیٹ لیتا
مجھے مقدس حیا کی دیوی
سمجھ کے نظریں جھکا کے چلتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟
یہاں کسی کے پاس اتنا
وقت نہیں ہے کہ آتے جاتے
کسی مدد کے مستحق پر
تسلی کی اک نگاہ اٹھا دے
کوئی لگی آگ کو بجھا دے
کسی کی کوئی راہگزر سجا دے
کسی پیاسے کی تشنگی کو
دے کے قطرہ اسے بجھا دے
پھر بھلا کوئی مجھ کو کیسے
غم کی دلدل سے نکال لیتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟
کسی کی آہوں کی نہ فکر ہے
کسی کے رونے کا کیا سبب ہے؟
کیوں متورم ہوئی ہیں آنکھیں؟
سخن وری کیوں غم زدہ ہے؟
ہر طرف دھول ہے ،دھواں ہے
اور آبرو بھی بے اماں ہے
نہیں کسی کو فکر کسی کی
تو میری عزت کی فکر کس کو
میری حرمت کا کون وارث ؟
جو غموں کو سمیٹ لیتا
جومیرے خوابوں کی تعبیر ہوتا
جو معتبر مجھ کو کرتا
جو میری حسرتیں ساری گن کر
یاس کی دھوپ سے بچا کر
خواہشوں کو رنگ دے کر
ساری خوشیوں کا حساب دیتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟
جو مجھ کو خوشیاں نصیب کرتا
جومجھ کو دل کے قریب کرتا
جسے میری ذات کے چمن میں
گلوں کی از حد خوشی ستاتی
جسے میری چاہتوں کے نغمے
جا کے باد صبا سناتی
کوئی جو مجھ کو نام دے دے
عزت کا سنہری لباس دےدے
کوئی جو در وبام دے دے
جو گمنام کو نامور بنا دے
کوئی تو عزت کا انعام دیتا
جو دیتا مسکان مجھے تسلی
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟؟؟
Wednesday, 22 November 2017
Mein purani hon ek kahani by Noreen Muskan Sarwar
میں پرانی ہوں اک کہانی ،مجھے
بھلایا،توکیا خطا ہے ۔
میں ایک وعدہ ہوں بس وفا کا،جو توڑ ڈالا تو کیا برا ہے
میں خود سراپائے عشق بن کر ،الم کی
ایسی کتاب ہوں اب
جسے زمانہ پڑھے گا اک دن،حیات میری اک داستاں ہے
میں تو بس ایک خواب تھا جو،آنکھ کھلتے ہی
ٹوٹ جائے
جو تم نے اب ، دیکھنے سے پہلے ہی توڑ ڈالا تو کیا برا ہے
بھنور میں آکر میری کشتی نے ڈوب
جانا تھا،یہ اٹل تھا
سو تم نے پتوار پہلے چھوڑے ہیں ،ڈوبنے سے تو کیا گناہ ہے
اڑا ہے میرا آوارہ پنچھی ،چاہتوں کا تیری
طلب میں
تم نے پر کاٹ کر جو اس کو سزا سنا دی تو کیا برا ہے
میرا مسکان دل وہ دنیا ،سدا جو آباد رہنا
چاہے
اس کو بسنے سے پہلے سنگدل، اجاڑ ڈالا تو کیا گناہ ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)
