آزمانا اگر شرط
ہو"
تو
پچھتانا لازم ہے"
کسی
کو پرکھنے کی ضد ہو"
تو
بچھڑ جانا لازم ہے"
بتاو
گے جو رازِدل کسی کو"
زمانے
کا ستانا لازم ہے"
K.A
**
مقام
بنتِ ہوا"
سہارے
ساے ہیں عارضی
سہارا
ہمیشہ ایک خدا کا ہے
سارے قانون جفا
کے ہیں
بتاو
کہاں قانون وفا کا ہے
ہے سوال اک چھوٹا سا
قانون کے رکھوالوں سے
کہاں
محفوظ ہے زات عورت
کون
سا مقام بنتِ ہوا کا ہے
میں
پوچھوں سارے وکیلوں سے
دنیا
میں بنے آپنے کفیلوں سے
کیوں
کھیلونا ہمیں لوگ بناتے ہیں
کیوں
جزبات سے کھیل جاتے ہیں
قصور
ہمارا ہے کیا دنیا میں آنے کا
تجھے
آپنا سرپرست مان جانے کا
ہمیں
بھی بنایا ہے تمہارے ہی ربّ نے
صنفِ
نازک کو بنانے کا فیصلہ خدا کا ہے
زخم
پہ زخم ہمیں دیتے جائیں
امتحاں
ہم سے ایسے لیتۓ
جائیں
یہ
کیسا ہے تیرا انصاف ابنِ آدم
بتاو
مجھے یہ قانون کہاں کا ہے
"Kinza Afzal"
**
سوچ
اۓ ابنِ آدم
بہک
تو آدم بھی گیا تھا اۓ
ابنِ آدم
کیا
سزا اس کی جانتے ہو عرش
سے
فرش پر پھینک دیا تھا ربّ نے
"K.A"
***
غزل
اِدھر
سے اُدھر میں بھٹکتی رہی
نہ
اِدھر کی رہی نہ اُدھر کی رہی
زرہ
سا پھسلا جو پاوں میرا
تو
بلندی سےآ کےپستی میں گری
چوٹ لگی پھر
ایسی مجھے
میں
تڑپتی رہی میں سسکتی رہی
میں
بتاوں کسے جو ہے حال میرا
نامیں
مر سکی نامیری زندگی رہی
اِدھر
سے اُدھر میں بھٹکتی رہی
نا
ادھر کی رہی نا ادھر کی رہی
"Kinza Afzal"
****
کنزا
افضل گوندل"
سمجھتے
ہیں لوگ بھٹک جائیں گی
کیا
ہمارا کوئ ایمان نہیں
درندوں
کی طرح نوچ کھانے کو ہیں تیار
جیسے
ہم ان کا چار ہوں کوئ انسان نہیں
تیری
لفظوں کی آڑ میں چھپے تیرے مقاصد
سمجھ
کر میں بنی رہی انجان
خود
کو خود ہی دیتی رہی تسلی
کہ
ٹوٹ نا جاۓ
تجھ پہ جو مان ۔
•••••••••••••••••••••••••••••
غرور
نا کر آپنی ذات پہ اۓ
بن آدم
مَرد
کو مُردہ ہونے کے لیۓ
لمحہ اک درکار ہوتا ہے
**************************
کچھ
لوگ بدلتے ہیں موسم کی طرح
دیکھنے
میں لگتے ہیں پھولوں کی طرح
جلاتے
ہیں دہکتے انگاروں کی طرح
زخم لگاتے ہیں
پتھر کی
طرح
زندگی
میں لگے بہاروں کی طرح
جب
کریں وار تو جگر چیر دیتے ہیں
ان کے میٹھے لفظ دل
میں
لگے تلواروں
کی طرح
نا
پناہ لے تو غیر محرم کی
اۓ
بنت ہوا یہ رسوا کر دیتے ہیں
مصر
میں سجے بازاروں کی طرح
"Kinza Afzal"
***
غزل:
کچھ
زخم مٹانے کے لیۓ
نۓ
درد جگانے ہوتے ہیں
بناوجہ
کے یہ رابطے
تنہائ
مٹانے کے بہانے ہوتے ہیں
کچھ
لوگ کانٹوں کی طرح
کچھ
لوگ قیمتی خزانے ہوتے ہیں
سجا
کہ کبھی لبوں پہ مسکراہٹ
کچھ
آنسو چھپانے ہوتے ہیں
کچھ
کرتے ہیں دل لگی یوں ہی
کچھ
محبت کے دیوانے ہوتے ہیں
کچھ
خواب دیکھ کے جاگتی آنکھوں سے
کچھ
خیال دل میں سجانے ہوتے ہیں
کچھ
کھیل کے کسی کی زات سے
خوشی
جیت کی پھر مناتے ہیں
کچھ
ہار کہ کسی کی جیت کے لیۓ
پھر
زبان پہ وفا کے ترانے ہوتے ہیں
کبھی
رات کی تنہائوں میں
کبھی
دن کی ویرانیوں میں
یادیں
بیچھڑے ہوۓ
لوگو کی
دل
میں بسانی ہوتی ہیں
کبھی
رو کر راتوں کو دیر تک
پھر
دن میں سرخیاں آنکھوں کی
لوگو
سے چھپانی ہوتی ہیں
کچھ
زخم مٹانے کے لیۓ
نیۓ
درد جگانے ہوتے ہیں
بنا
وجہ کہ یہ رابطے
تنہائ
مٹانے کے بہانے ہوتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کنزا افضل گوندل"
**
شیشے
کی طرح توڑ کر پھر پاؤں سے مسلتے ہیں
لوگ"
یہ
سوچے بنا کہ ٹکڑۓ
آپنے ہی پاؤں میں چبھتے ہیں
K.A
***
میرے
قتل کیا ہے اس نے سماں
میں
جو بچ جاوں تو نصیب میرا
میری
زات سے لگائ جان کی بازی
میں
جو جیت جاوں تو نصیب میرا
راتوں
میں وہ سکون سے سوتا ہے
میرے
دن کا چین اوڑا کر
مجھے
جو آۓ
سکون کسی پل تو نصیب میرا
ایسی
لگائ ہے ٹھوکر اس نے
جو
تھا مجھے جان سے پیارا
کبھی
میں سمٹ جاوں تو نصیب میرا
ہوۓ
رابطے سبھی منقطع اس سے
میں
جو سہہ جاوں غمِ جدائ تو نصیب میرا
"Kinza Afzal"
*
غزل"
یاد
ہے تجھے کیا کیا غضب ڈھاۓ
تھے
وہ
مزاق تھا محض میری زات سے
تو
کیوں خدا کو بیچ میں لاۓ
تھے
کیوں
کھائ تھی قسمیں کیوں دیتے تھے واسطے
ہماری
منزلیں الگ تھی الگ تھے راستے
سوچا
ہے جب محشر میں جاوگے
تو
اس ربّ کو کیا منہ دیکھاوگے
اس
ذات پاک کی قسمیں کھاتے تھے
پھر
ہر بات مذاق میں بدل جاتے تھے
کر
کے وعدہ پھر چھوڑ گۓ
تھے
کھیل
کے دل سے دل توڑ گۓ
تھے
سنو!
دل
کسی کا کھیلونا نہیں تیرا
یہ
خدا کا گھر ہے اس میں ربّ
بستا
ہے تیرا اور میرا
یہ
زندگی خدا کی امانت ہے
نا
اس پہ حق ہے میرا نا تیرا
"Kinza Afzal"
**

*

