affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Thursday, 20 March 2025

Golden word's Poetry by Syeda noor ul ain

میر اشعار اور اقوال...

 

     Golden word's...

* دکھ ہمیں بہت کچھ سکھاتے اور دکھاتے ہیں....

تکلیف کا وقت تو واقعی گزر جاتا ہے...

یاد رہتا ہے تو بس وہ ایک سلوک....

 

* کسی کے ماضی سے اس کے آج کو نہ جانچے...

کیا پتہ وہ اللہ کے اتنا قریب ہو کے...

آپ کے کچھ غلط کہنے سے اس کے لئے...

اللہ آپ سے ناراض ہوجائے...

 

* کبھی آپ سے ظاہری گناہ ہوجائے جو آپکی نظروں میں ہو اور آپ مان بھی رہے ہوں...

پھر اگلے ہی لمحے اگر آپ پر کوئی مصیبت آجائے...

تو لوگ جو بھی کہے مرضی پر آپ نے اسے سزا نہیں سمجھنا ہے...

کیونکہ اللہ اسے ہی آزماتے ہیں جسے پاک کرنا اور نوازنا چاہتے ہیں...

اپنی غلطی کو ماننا اور اسے سدھارنا اور توبہ کرنا ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا...

 

* لفظوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کئے کرے...

کیونکہ انسان موں پر سنے الفاظ قبر تک یاد رکھتا ہے...

 

* سنے اپنی بیٹیوں کو اس معاملے میں رشتوں کا لحاظ نہ سکھائے جس وقت کوئی محرم یا نا محرم مرد اسکی عزت پر حملہ کرے...

   اس وقت جو ماں کہے کے نظر انداز کرو تو اس سے بڑی دشمن اولاد کی کوئی نہیں ہوسکتی...

انشاءاللہ مجھے اللہ نے اولاد میں بیٹی دی...

تو میں اسے سکھاؤں گی اپنے اوپر کسی بھی رشتے میں ظلم کبھی نہ سہنا اور اللہ کے بعد اس دنیا میں اسکے ساتھ میں ہونگی....

جو اسکے حق کے لئے اپنے محبت اور خلوص سے بنائے رشتوں کی قربانی بھی دینی پڑی تو دوں گی....

پر اسے زندگی بھر کی محرومیوں کے حوالے نہیں ہونے دوں گی....

 

* جو ہمیں برا اور غلط سمجھتے ہیں...

آخر وہ کب غلط سمجھتے ہیں

کیا سنا نہیں تم نے قول علی

دشمن بھی اسہی کے ہوتے ہیں

جو حق کی بات کہتے ہیں..

 

* کسی کی انا کی جیت ہوئی

کسی نے بھلا کچھ پایا

ہمارے حصہ میں خدا آیا

پھر چاہتوں کا جہاں پایا

 

* اللہ اور میرا تعلق بہت خوبصورت ہے...

میں ان کی رضا میں راضی رہتی ہوں....

وہ میری رضا پر مان جاتے ہیں..

 

* کمزور سی لڑکی ہوں پر مضبوط کردار ہے میرا...

جہاں قدر نہیں ملتی وہاں بولنا چھوڑ دیتی ہوں...

پھر بھی اگر آواز آئے میری کبھی...

تو سمجھ لینا بات نہیں کرتی بس بول دیتی ہوں...

 

* ماضی کی ایسی ایسی تلخ یادیں اور باتیں ہوتی ہیں..

اگر آپ لے کر بیٹھ جائے تو

آپکی زبان خراب ہوگی بس

نہ دل ہلکا ہوگا نہ ہی لوگ

اپنی خطا مانے گے....

یہ ایک حقیقت ہے...

 

* خود کو معاف کردیا کرو

یہاں لوگ بہت حساب رکھتے ہیں....

 

* میں نے کبھی اپنے چند مخلص لوگوں کو یہ نہیں بتایا کے تم میرے لئے کتنے اہم ہو...

کیونکہ ڈر ہے اہمیت کھو دینے کا....

 

* کبھی احسان مت جتایا کرو

کیونکہ اللہ نے ہم سب ہی کو ایک دوسرے کے کاموں کا ذریعہ بنایا ہے...

ذرا یاد کرے کیا آپ نے کل کسی کے لئے کچھ کیا تھا کیا وہ آج آپ کے کسی کام آیا ہے؟

یہی اللہ کا قانون ہے کبھی وہ لوگ بھی ہمارے بہت کام آسکتے ہیں جن سے ہمیں کوئی امید نہیں ہوتی.....

اور جو لوگ بے قدری کرتے ہیں آپکی...

تو ایسے لوگ جلد آپکی قدر کرے گے بس صبر سے بیٹھے رہیے...

 

* بے زوق سی لڑکی ہوں

* خاموش ہی رہتی ہوں

* کوئی بات کرے مجھسے تو

* الفاظ ہی کہتی ہوں....

 

     تحریر: نور شاعرہ

شاعری ہے زندگی....

https://youtube.com/@syedanoor-ul-ainofficial?si=3ILfnR1NsAdWPyiL

Syedanoorulain4444@gmail.com

 

Monday, 17 March 2025

Poetry by Muhammad Husnain Ansar




محبت ملتی نہیں آزماتی ہے

یہ کی نہیں جاتی خود بخود ہو جاتی ہے


Sunday, 16 March 2025

Poetry by Kinza Afzal

نظم

لگانے آگ جو آۓ تھے آشیانے کو،،

نادم سے ہوگۓ سن کے ہمارےقومی ترانے کو،،

جب گونجی آواز فضاء میں پاک سر زمیں شاد آباد،،

ہر شخص پر جوش تھا یہ لفظ دوھرانے کو،،

 کون مٹا سکتا ہے میرے ملک کا نام ونشاں،،

ہم مٹا دیں گے تیرے بچے بچے کو تیرے پورے کھرانے کو،،

وہ کیا جانے کے وفا کیا ہوتی ہے،،آۓ تھے جو ہماری حبِ وطن آزمانے کو،،

سنو دشمنِ ملکِ پاکستان،،ہم آۓ ہیں اس دنیا میں یہ سبز پرچم لہرانے کو،،کوئ آنہیں سکتا ہمیں اس جنگ میں ہرانے کو،، تو جو دیکھے اس ملک کی جانب،،ہم بھی تیار کھڑے ہیں تجھے زندہ جلانے کو،،ہم کریں جان قربان اس ملک کے لیۓ،، نکلو اگر ہے ہمت ہم سے ٹکرانے کو،،یہ ملکِ،مسلما ہے جس کی ساکھ لااللا ہے،،یہ قائد کی امانت ہے،،یہ اقبال کی ذہانت ہے،،کے ہو منافقوں  سے دور،،ورنہ سجدہ نہ کرنے پر یہاں کرتے لوگوں کو مجبور،،پھر کرتے مسلما تیرا سر قلم،،مگر پڑھتے نماز ضرور،،ہم کھڑے ہیں اس ملک کی ساکھ بچانے کو،،کیسے ہوتے ہیں نوجوان وطن کے لیۓ شہید،،ہم نکلے ہیں دکھانے ملک سے وفا  سارے زمانے کو"K. A"

****************

میں تو اس قابل بھی نہیں کے تیرےؐ قموں کی خاخ چوم لوں،،میں ہوں گناہ گار اتنی کیسے اس زباں سے تیرا نام لوں،،تیری امتی ہوں تو مجھے حق ہے اتنا،،سنوں تیری نعت تو میں جھوم لوں،،تیرے نام پہ ﷺ کہوں،،

 لکھوں تیرا قصیدہ اور نامِ محمدؐ کو چوم لوں،K. A

****************

 سخت چٹانوں کی طرح تھا حوصلہ میرا،،مسلسل ضرب لگنے سے پتھر بھی ٹوٹ جاتا ہے،،K. A

****************

پھول سے بہتر ہے کانٹا جسے چھونے سے لوگ ڈرتے ہیں،گلاب کو شاخ سے توڑ دینا ہر کسی کا شوق ہوتا ہے،،K. A

****************

میں جلی تو وہ دہک اٹھا کسی انگارے کی طرح،،وہ نازک تھا شاید بہت،،زرہ سا ٹھکرایہ تو ٹوٹ گیا شیشے کی طرح،،اس کی چاہت تھی اک حقیقت،،میں  سمجھی تھی جھوٹ کی طرح،،جو ملا مجھ سے وہ تو کھل اٹھا،، جب بچھڑا تو بکھر گیا کسی پھول کی طرح،،وہ شخص کیا تھا میں سمجھ نہ سکی،،وہ بدل جاتا تھا موسم کی طرح،،اس نے کیھلا تھا کھیل پیار کا ،، مجھے ہار گیا کسی بازی کی طرح،،عشق کی جو لڑی تھی جنگ مجھ سے،،میں نہ شہید ہوئ ،،وہ بھی بچ گیا کسی غازی کی طرح،، دل میں ہوں اس کے اب بھی میں،،سچے پیار کی طرح،،یا پھر کسی یاد کی طرح،،چلو وہ بھولا دیتے ہیں گزری باتیئں ہم،،تم جب بھی ملو مجھ سے،،تو ملنا کسی اجنبی کی طرح،،مجھے یاد کر لینا کبھی ماضی کی طرح،،پھر بھولا دینا مجھے کسی بُرے خواب کی طرح،، کیوں گھبراتے ہو تم نظر مجھ سے ملانے سے،،کبھی دیکھ لیا کرو کسی قیمتی چیز کی طرح،،میں چبھوں گی تیر دل میں کانٹے کی طرح،،تیری روح میں سما جاوں گی خشبو کی طرح،، k. A

****************

 کوئ ہو خطا ہم سےتم ہمیں بتایاکرو،،یوں بلا سبب ہی نہ روٹھ جایا کرو،،یہ رشتہ خون کا رشتہ ہے،،ہم توڑ نہیں سکتے اسے،،پھر تم بے لوث ہماری محبت کو نہ ٹھکرایہ کرو،،کوئ ہو اگر شکایت روبرو بیٹھ کر کر لے گے دور،،بس یوں لوگوں کی باتوں میں نہ آجایا کرو،،اگر ہو گے ہو مغرور تو ٹھیک ہے،،تم بے شک ہم سے ہاتھ بھی نہ ملایا کرو،،ہم میں بھی ہے انا بہت،،بلا شک تم ہمیں آزمایا کرو،،ہو منافقت اگر تمہیں پسند تو،،تم ہمارے پاس نہ آیا کرو،،ہم تو مخلص ہی ہیں ،،تم اور کہیئں چلے جایا کرو،، کرو جو دوستی تو دل سے نبھایا کرو،،ورنہ تم دشمنی ہی لگایا کرو،، پرواہ نہ ہو گی ہمیں کسی کی،،نا ہو چاہت اگر تمہیں تو ہمارے پاس سے تم گزر جایا کرو،،کسی سے مانگ کر کبھی نہیں کچھ کھایا،،ہمیں جب کوئ ضرورت ہو اس بّ کے سامنے ہی ہاتھ ہے پھلایا،،تمہیں ہوگا غرور آپنے دولت پر بہت،،ہم کرتے ہیں شکر کہ ہم پہ ہے ربّ کی رحمت کا سایہ،،ہم نے کیئں بار پرکھا ہے کم ضرف لوگوں کو،، ہمارے ظرف کو نہ تم  بار بار آزمایا کرو،،K. A

****************

ڈرگز

تیرے حسن کو کھا گیا،تیری جوانی کو نگل گیا،،وہ جو شزادہ تھا کسی ماں کا ،،نہ جانے وہ اب کدھر گیا،،کسی کے آنگن میں کھلا تھا گل،،اک کلاب تھا جو بکھر گیا،، جس نشے میں تو مدہوش تھا ،،تو اسی سے اجڑ گیا،،میں کیا کہوں کے تو کیا تھا،،تو روشن اک چراغ تھا،،کب کا وہ بجھ گیا،،تیری زندگی تھی اک موم سی،،تو جو جل گیا تو پگل گیا،، تو خوابوں کو بیچ کے،، آپنی حسرتوں سے کھیل کے،، سب کچھ ہی ہار گیا،، اتار کے جسم میں آپنے ہاتھوں سے یہ زہر،، بے موت ہی تو مر گیا،،بتا مجھے  زرہ یہ اۓ ابنِ عادم،،کسی اور کا ہے کیا گیا،، تو جو آپنے ساتھ یہ کر گیا،، تو ٹوٹ گیا تو رُل گیا،،نشے کی کیسی تجھے لت لگی،،تو خود آپنی زات ہی بھول گیا،،"Kinza Afzal"

****************

میں تو اس قابل بھی نہیں کے تیرےؐ قموں کی خاخ چوم لوں،،میں ہوں گناہ گار اتنی کیسے اس زباں سے تیرا نام لوں،،تیری امتی ہوں تو مجھے حق ہے اتنا،،سنوں تیری نعت تو میں جھوم لوں،،تیرے نام پہ ﷺ کہوں،،

 لکھوں تیرا قصیدہ اور نامِ محمدؐ کو چوم لوں،K. A

****************

نظم

لگانے آگ جو آۓ تھے آشیانے کو،،نادم سے ہوگۓ سن کے ہمارےقومی ترانے کو،،جب گونجی آواز فضاء میں پاک سر زمیں شاد آباد،،ہر شخص پر جوش تھا یہ لفظ دوھرانے کو،، کون مٹا سکتا ہے میرے ملک کا نام ونشاں،،ہم مٹا دیں گے تیرے بچے بچے کو تیرے پورے کھرانے کو،، وہ کیا جانے کے وفا کیا ہوتی ہے،،آۓ تھے جو ہماری حبِ وطن آزمانے کو،،سنو دشمنِ ملکِ پاکستان،،ہم آۓ ہیں اس دنیا میں یہ سبز پرچم لہرانے کو،،کوئ آنہیں سکتا ہمیں اس جنگ میں ہرانے کو،، تو جو دیکھے اس ملک کی جانب،،ہم بھی تیار کھڑے ہیں تجھے زندہ جلانے کو،،ہم کریں جان قربان اس ملک کے لیۓ،، نکلو اگر ہے ہمت ہم سے ٹکرانے کو،،یہ ملکِ،مسلما ہے جس کی ساکھ لااللا ہے،،یہ قائد کی امانت ہے،،یہ اقبال کی ذہانت ہے،،کے ہو منافقوں  سے دور،،ورنہ سجدہ نہ کرنے پر یہاں کرتے لوگوں کو مجبور،،پھر کرتے مسلما تیرا سر قلم،،مگر پڑھتے نماز ضرور،،ہم کھڑے ہیں اس ملک کی ساکھ بچانے کو،،کیسے ہوتے ہیں نوجوان وطن کے لیۓ شہید،،ہم نکلے ہیں دکھانے ملک سے وفا  سارے زمانے کو"K. A"

****************

Tuesday, 11 March 2025

Poetry by Hafiz shabana Nawaz



کہ ہر دکھ کی دوا نہیں ہوتی

ہر خوشی بھی سدا نہیں ہوتی

 

جبکہ نیت میں کھوٹ آ جائے

پھر قبول دعا نہیں  ہوتی

 

جب طلب تھی  ہم دعا گو ہوئے

اب طلب کی دعا  نہیں ہوتی

 

جیتی دنیا یہ کئ کھیلوں  سے

ہم سے چالوں کی چاہ نہیں ہوتی

 

حافظہ شبانہ نواز

Poetry by Taqwa Sohail

 

اب کہ کوئی اُمید، کوئی گُماں بھی نہیں ہے

کسی کے لوٹ آنے کا کوئی اِمکاں بھی نہیں ہے

 

شبِ ظُلمت سے نکالا مجھے چراغ کی لَو نے

اب مجھ پر تو سورج کا کوئی احساں بھی نہیں ہے

 

اُس کا طرزِ تخاطب تو مجھے اچھا نہیں لگتا

پر اُس سے گفتگو مجھ پر کچھ گراں بھی نہیں ہے

 

کوئی رختِ سفر ، ہم سفر ، قافلہ تو دور

میرے پاس تو منزل کا کوئی نشاں بھی نہیں ہے

 

کھینچوں گا خود کو خود ہی میں تختۂ دار پر

مجرم ہوں میں ایسا جو پشیماں بھی نہیں ہے

 

از قلم     تقویٰ سہیل چدھڑ

**************

Sunday, 9 March 2025

Ehl e ghazah ke naam by Muqadas Javed / Rani

اہل غزہ کے نام

تمہیں غلط لگتا ہے ،انہیں چھوڑ دیا دنیا نے

دراصل انہیں خدا نے تھامنا تھا

 

وہ کامزن ہیں مبارک راہ کی طرف

مگر تم دیکھو تو کہا کھڑے ہو

 

تمہیں لگتا ہے وہ اندھیروں میں گھرے ہیں

دراصل تمہارا دل سیاہی کا شکار ہے

 

وہ کامزن ہیں پُرسکون ابدی راحت کی طرف

مگر تم بے سکونیوں میں گھرے ہو

 

تمہیں لگتا ہے یہ امتحاں انکے صبر کا ہے

دراصل یہ آزمائش تمہاری ہے

 

وہ تو حق کی خاطر لڑ رہے ہیں

مگر تم تو باطل سے بھی انکاری ہو

 

تمہیں بدل نہ سکی تربیت درسگاہوں کی بھی

دراصل تم شیطان کے ہم راہی ہو

 

وہ تو ہنس کر ظلم جھیل گئے ہیں

مگر افسوس تم پس پردہ کھڑے تماشائی ہو ۔۔،

************

Poetry by Muqadas Javed / Rani


یہ بے جا یادوں کے قیدی ہم

ان سے ہو کبھی رہائی ،   کاش ممکن

 

یہ آنکھوں کی نمی اس پہ گہرے حلقے

ان میں دیکھنا ہو کبھی ،راحت ممکن

 

یہ الجھی الجھی سی نا مکمل باتیں

ان کا ہو کبھی ، سلجھنا ممکن

 

یہ خوابوں کی اسیر آنکھیں

ان سے دیکھنا ہو کبھی ،حقیقت ممکن

 

یہ دنیا کے بے قدر و بے کسوں سے

ان سے ہو کبھی ،چھٹکارہ ممکن،،۔۔

************

Thursday, 6 March 2025

Poetry by Kinza Afzal

 

شیشے کو ٹھوکر کبھی مت لگانا کہ یہ ٹوٹ جاۓ گا بہت،،

ٹوٹ کے ٹکڑوں میں بکھر جاۓ گا بہت،،

ٹکڑوں میں جب یہ بکھرے گا تو شور مچاۓ گا بہت،،

سنو بھر تمیہں یہ زخم لگاۓ گا بہت،،

زخم  لگاۓ گا تو درد سہنا پڑے گا تجھے،،

درد ہو گا تو رولاۓ گا بہت،،

رو گے اگر تو  تیرا ہر آنسو تجھے تڑپاۓ گا بہت،،

سنو!  تم اِسے سمبھال کے رکھنا،،

یہ تیرے گھر کو سجاۓ گا بہت،،

دیکھاۓ گا تجھے تیری جھیل سی آنکھیں،،

تجھے ہنساۓ گا بہت خود مسکراۓ گا بہت،،

سنو!  یہ خود میں بھر کے پانی،،

تیرے لبوں کے ساتھ خود کو لگاۓ گا بہت،،

یہ رکھ کے تجھے پڑدے میں،،

دنیا کے راز بتاۓ گا بہت،،

تجھے خود میں یہ دیکھا کے ،،

کبھی رولاۓ گا بہت،،کبھی ہنساۓ گا بہت،،

K. A

**********

میں اکثر خود کو کھوجتی رہتی ہوں،

میں تنہائ میں بیٹھ کے سوچتی رہتی یوں،،

میری زات ہے کیا میری اوقات ہے کیا،،

کوئ دیکھے اک نظر تو کھو سا جاتا ہے،،

ایسی مجھ میں خاص بات ہے کیا،،

ساتھ نبھانے کو نہیں ہے سایہ میسر،،

پھر دو پل کی ملاقات ہے کیا،،

میری تلاش تو ہے صرف وفا،،

لوگو کی مجھ سے چاہت ہے کیا،،

میری زندگی میں اندھروں کے سوا کچھ بھی نہیں،،

پھر صبح ہےکیا رات ہے کیا،،

رشتے ناطے سبھی گیے ٹوٹ،،

اب دل ہے کیا دل کا حال ہے کیا،،

یہ لوگ ہیں فریبی سب،،

کسی کا قول و قرار ہے کیا،،

دلوں میں ہو رنجشیں اگر،،

پھر خلوص ہے کیا پیار ہے کیا،،

منافقت کرتا ہے ہر کوئ یہاں،،

اپنا ہے کیا،کوئ غیر ہے کیا،،

حسد کی آگ میں کیوں خود کو جلاتے ہو لوگو،،

یہ سب کچھ تو فانی ہے،،

پھر دشمن ہے کیا رقیب ہے کیا،،

چلو دیکھو اس ربّ نے جو لکھا ہے،،

مقدر ہے کیا کسی کا نصیب ہے کیا،،

اس زمانے میں ہے ہر کوئ اپنوں کا ڈسا ہوا،،

پھر مسیحا ہے کیا کوئ طبیب ہے کیا،،

دل سبھی کے ہیں پتھر،،

درد ہے کیا کسی کو تکلیف ہے کیا،،

پتھر کے مقانوں میں رہنا ہے پسند لوگو کو،،

یہ آشاں ہے کیا یہ گھر ہے کیا،،

تنہا تنہا بیٹھے ہیں سبھی یہاں،،

اب سفر ہے کیا ہمسفر ہے کیا،،

"kinza Afza"

*****************

میں جب بھی کوئ حرف لکھوں تو حروفِ تعریف لکھوں،،

میں تیری تعریف میں پوری اک تحریر لکھوں،،

میں تیرے سوا کیا ہوں ماں،،

میں خود کو کیا لکھوں،،

تو میری تربیت کرے یوں مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے،،

میں خود  کو پھر تیری ہی تصویر لکھوں،،

زمانے کی دھوپ سے بچانے کے لیے،،

ممتا کی ڈھنڈی چھاؤں مجھ پہ کرتی ہے،،

دکھ درد سے بچانے کے لیۓ تو باہوں میں مجھے آپنی بھرتی ہے،،

میں تجھے ساری دولت لکھوں ،،

یا پھر آپنی کل جاگیر لکھوں،،

تو میرے لیے ہر ستم سہ لیتی ہے خود پہ،،

میں تیرے ظرف پہ اک تقریر لکھوں،،

تو ہر پل میرا ساتھ نبھاے،،

میں تجھے آپنے ہر خواب کی تعبیر لکھوں،،

میں خود کو کم ظرف لکھوں میں فقیر لکھوں،،

تجھے دریا دل لکھوں سب سے امیر لکھوں،،

توہی ہے دنیا میری،،

میں تجھے کل کائنات لکھوں،،

کبھی جو کروں نافرمانی تیری،،

میں اسےآپنی بد قیسمتی لکھوں،،

یا پھر کوئ  تقدیر لکھوں،،

ماں تو ہی ہے جنت میری،،

تجھے ہی آپنا جہان لکھوں،،

تیرے صبر کی کیا میں مثال لکھوں،،

تیرا حوصلہ بے مثال لکھوں،،

میں ہر جگہ تیرا ہی نام لکھوں،،

تیرے نام کو میں پیار کا پیغام لکھوں،،

میں تیری کیا شان لکھوں،،

ماں میں تیری شان پہ اک کلام لکھوں،،

میں تیرے نام کو سلام لکھوں،،

K. $. A

*********

اگر ملے جو بیچ سمندر ڈوبتے کو کنارا،،

کہے کوئ مجھ سے یہ میں ہوں صرف تمہارا،،

تم چھوڑ کے نا مجھےچلے جانا،،

میرا ہوتا نہیں اب بن تمہارے  گزارا،،

نہ کہوں دل نہ جان نہ روح جسم

میں ہوں سارے کا سارا صرف تمہارا،،

جو نہ کر سکوں اظہار تم سے مگر جان لو تم یہ،،

کہ میں نے آنکھوں سے ہے تجھے دل میں اتارا،،

اگر ملے جو بیچ سمندر ڈوبتے کو کنارا،،

کہے مجھے یہ کہ میں ہوں صرف تمہارا،،

تم گزار لو ساری زندگی آپنی بنا میرے،،

میں نے  اک لمحہ نہیں بن تمہارے گزارا،،

تم جو نبھاو ساتھ  لمحے محض چار،،

میں رہوں گا سدا تمہارا،،

تم جسے چاہو آپنالو محبت کرو کسی کا خود کو بنالو،،

مگر مجھے نہیں ہے کوئ تجھ سے پیارا،،

کہ میرے جزبات میرے خیال میری سوچ میرے خواب ہیں فقط تم سے وابستہ،،

میں ہوں سارے کا سارا صرف تمہارا،،

تم لکھو نام کسی کابھی ہتھلی پہ آپنی ،،

میں نام لکھوں کہیں پر صرف آپنا مجھے نہیں گوارا،،

میں چاہ کہ بھی نہ کر سکوں خود کو تجھ سے جدا،،

میں جہاں بھی لکھوں لکھوں گا نام ہمارا،،

تم کھیلو کھیل ایسا مجھ سے،،

میں جو جیت جاوں تو تم میرے،،

جو  ہار جاوں تو میں تمہارا،،

مانا میرا نہیں ہے حق تیری زندگی پہ،،

"مگر"میری ہر سانس پہ ہے اختیارا تمہارا،،

کہ میں ہوں سارے کا سارا صرف تمہارا،،

اگر جو ملے بیچ سمندر ڈوبتے کو کنارا،،

کہے کوئ مجھ سے یہ کہ میں ہوں تمہارا،،

تم چلو دو قدم ساتھ میرے،،

میں ساری عمر  بنا رہوں گا ہم سفر تمہارا،،

کوئ جو سنُ لے کوئ آواز دل کی،،

لحجےکی تاثیر میٹھی ہو گا ہر لفظ پیارا،،

کوئ جو کہے دے کے میں ہو ں

سارے کا سارا صرف تمہارا،،

"Kinza Afzal"

***********

کون کہتا ہے؟

کون کہتا ہے کے لوگ بکتے نہیں ہیں،،

دولت سے رشتے ملتے نہیں ہیں،،

پیار ملتا نہیں بازارو میں،،

وفا خریدی نہیں جاتی ہزارو میں،،

تو سنو لوگو"

اب کے  یہ بنی ہے ریت زمانے کی،،

لوگ اب پیسوں سے  بکتے ہیں،

رشتے بھی دولت سے ملتے ہیں،،

پیار بکتا ہے منافقوں کے بازارو میں،،

وفا ملتی اب صرف ہزارو میں،،

قسمت کا لکھا کیا مانے کوئ،،

کچھ نیہں رکھا مقدر کے ستارو میں،،

زمیں پہ بیٹھے لوگو کو ہر کوئ خاک سمجھتا ہے،،

انساں لگتا ہے صرف وہی جو رہتا ہے پتھر کے مکانو میں،،

سچے رشتے نہیں ملتے اب کہیئں،،

دل ملتے ہیں وہاں حسن ہو جہاں،،

تعلق بنتا ہے ان سے ہو دولت جن کے خزانوں میں،،

یہاں حق کا ساتھ دیتا ہے کون،،

یہاں امیروں کا ہی نام ہے منافقوں کی زبانوں میں،،

"K. A"

****************

غزل:

💞ہم کرے شکوہ کس سے،،

آپنوں کے ہی ڈسے ہوۓ ہیں،،

زخم اگر پتھر کا ہو تو بتائیں مگر"

درد کسی کے حسد کے لگے ہوۓ ہیں،،

ہمارا مقابلا تو نہیں ہے کسی سے،،

یہ کون سی جنگ لوگ ہم سے لڑے ہوۓ ہیں،،

ہم کیا بتائیں کے بےبسی ہماری،،

ہمارے الفاظوں پہ بھی پہرے  لگے ہوۓ ہیں،،

سخت سے سختت بھی سہہ لیتے ہم پہ آۓ وقت لکین"

ہمیں سانس لینا  بھی کر دیں گے دشوار ،،

اس بات پہ ہی وہ  ڈٹے ہوۓ ہیں،،

کرو ظلم اتنے ہی کے محشر میں حساب چکا سکو،،

لگے ربّ کی عدالت تو کریں گے بیاں،،

جو جو کیے ہیں ستم ہم پہ یہاں،،

بس حوصلے سے اسی لیے سر جھکاۓ کھڑے ہوۓ ہیں،، 💔" K. A"

💔

By kinza afzal

*************