عجیب مشغلہ تھا اس کا محبتیں بے پناہ ڈھونڈنا۔
شہر
بے وفا میں ہر روز اک نئی وفا ڈھونڈنا۔۔
کبھی صدیوں نبھانا تو کبھی پل بر میں اکتا جانا۔۔
اسے عادت تھی روٹھنے کےبہانے بے پناہ ڈھونڈنا۔
اپنی
ہی دھن میں مگن رہتا تھا ھمیشہ۔
نہ چھوڑا اس نے پتھروں کے خدا ڈھونڈنا۔
کہا تھا اسے کہ بہت
پچھتاؤ گے اک دن۔
بولا
کہ میری ناکامی کی پھر تم ہی سزا ڈھونڈنا
کسی نے پوچھا جو اس سے بچھڑنے کا سبب۔
وہ نہ بھولا اس میں بھی کوئی میری خطا
ڈھونڈنا۔
وہ جب لوٹا تو بڑے ہی پیار سے بولا ،،عالی،،،۔
میں نےچھوڑ دیا ہے اب کچھ بھی تیرے سوا
ڈھونڈنا۔۔ ،،،،
مسز قمر شہزاد شاہ،،،،،،،
No comments:
Post a Comment