غزل
چاہتوں
کے موسم میں ہم بھی مسکرائے ہیں
تیری
یاد کے تارے دل میں جگمگائے ہیں
ہجر
کی تپش اب کے رت بدل کے آئی ہے
ہم
نے وصل کے بادل آنکھوں میں چھپائے ہیں
وقت
کی لکیروں پر عکسِ یار باقی ہے
خواب
کی حویلی میں نقش ہم نے پائے ہیں
زندگی
کی راہوں میں دھوپ کا سفر بھی تھا
سایۂ
تمنا میں دن کئی بتائے ہیں
لکھ
رہی ہے اب رشناؔ داستاں محبت کی
لفظ
کے گلستاں میں پھول ہم نے لگاۓ
ہیں
Rushna
Akhter
*****************
No comments:
Post a Comment