تازہ
کلام
جب
دل ٹوٹا ہوا نیا نیا ہو
ہر
خواب بکھرا ہوا نیا نیا ہو
وہ
درد جو سینے میں ٹھہرا ہے ابھی
جیسے
زخم کوئی تازہ، نیا نیا ہو
تنہائی
کی دیواریں لگتی ہیں اجنبی
خاموشی
کا عالم بھی نیا نیا ہو
ہر
یاد دستک دیتی ہے پرانے زخم پر
بچھڑنے
کا صدمہ جب نیا نیا ہو
مسکرانا
بھی لگتا ہے اک بوجھ سا
جب
خود سے جی بھرا ہوا نیا نیا ہو
رشنا
اختر
No comments:
Post a Comment