affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ahsan Khan
Showing posts with label Ahsan Khan. Show all posts
Showing posts with label Ahsan Khan. Show all posts

Friday, 1 October 2021

Poetry by Ahsan Khan

تکلیف تو دے لیکن وہی پھر اُس کا مداوا بھی کرے تو

اِسے شرارت تو کہتے ہیں عداوت نہیں کہتے۔

 

آزماؤ خود ہی اُسے پھر وہ جان بھی دے دے

اِسے خلوص تو کہتے ہیں حماقت نہیں کہتے۔

 

قسمیں بھی کھاؤ وعدے بھی کرو پھر مُکر بھی جاؤ

اِسے سیاست تو کہتے ہیں قیادت نہیں کہتے۔

 

ظالم اگر مظلوم کے ہاتھوں سے مارا جائے احسن

اِسے قتل تو کہتے ہیں شہادت نہیں کہتے۔

 

*******************

 

گونگے اگر گواہی دینے لگیں ۔۔۔۔

تو پھر ہر طرف موت دکھائی دینے لگے۔

 

یہ شہرت ہے منصفی کے لیے۔۔

دشمن بھی اگر آکر دہائی دینے لگے۔

 

ظلم ہوا ہے کہیں پر عاشقوں پے۔۔

جو یہ پھول سبھی مرجھائی دینے لگے۔

 

وہ قصوروار ہو گا یقیناً احسن۔۔

جو بار بار اپنی صفائی دینے لگے۔

 

****************

 

یہی بہتر ہے کے کنارا کر لوں۔۔

میں عشق اب دوبارہ کر لوں۔۔

 

میرے ساتھ ہو اور خوش نہ ہو۔

میں کیسے یہ گوارا کر لوں۔۔۔

 

شرافت تو تمہیں راس نہ آئی۔۔

میں کیوں نہ خود کو آوارہ کر لوں۔۔

 

 احسن اِس بار شاید تُم غلط ہو جاؤ۔۔

آج اگر پھر میں اِستخارہ کر لوں۔۔۔

 

****************

Wednesday, 29 September 2021

Ishq ki kahani by Ahsan Khan

 

کہانی میرے عشق کی ناکام تو ہوئی لیکن۔

مُجھے یاد اُس میں شامل سبھی کردار رہیں گے۔

 

یہ جُرم مُجھے تختہ دار تک لے جائے گا

ہم مر کر بھی اس عشق میں گرفتار رہیں گے۔

 

صبر ہی   اچھا ہے سو کر لیتا ہوں

اب کب تک یوہی اشکبار رہیں گے۔

 

اور یہ غلط فہمی کے مُجھ سے میرا تخت چھینو احسن۔

ہم عمر بھر تمہارے قبیلے کے سردار رہیں گے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Dil kahen aur lgana tha by Ahsan Khan

 

تمہارے پاس تو ہر وقت کوئی نہ کوئی بہانہ تھا

مُجھے پھر دل بھی تو کہیں اور لگانا تھا۔

 

سنا تھا دو کشتیوں کے سوار ڈوب جاتے ہیں ۔

مُجھے پہلی فُرصت میں تمہیں دل سے نکالنا تھا۔

 

تمہارے تحفے رکھ کر کیا کرتا میں۔

مُجھے اُن کو بھی دریا میں بہانا تھا۔

 

تمہارے ساتھ تھا تو اُلجھا ہوا تھا میں۔

مُجھے آخر خود کو بھی تو سنوارنا تھا۔

 

کب تک يوں چُپ رہ کر تیرا ہی دُکھ مناتا رہتا احسن۔

مجھے اُس کی خاطر کُچھ تو گنگنانا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Tere ishq ne gumnam kar dea warna by Ahsan Khan

تیرے عشق نے گمنام کر دیا ورنہ

ہر نام سے پہلے میرا نام تھا ورنہ

 

اب تو ہر شخص نگاہوں سے نگاہیں ملاتا ھے۔

کتنا زمانے کو میرا احترام تھا ورنہ۔

 

تجھ سے ہوا تو معلوم ہوا مجھے بھی۔

میرے لیے یہ عشق تو بدنام تھا ورنہ۔

 

مھبت کا بھی ایک مذھب ہوتا ہے احسن۔

تجھ سے پہلے تو دل میں بس اسلام تھا ورنہ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭