affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Hafiza Nasiha Sarwer
Showing posts with label Hafiza Nasiha Sarwer. Show all posts
Showing posts with label Hafiza Nasiha Sarwer. Show all posts

Thursday, 3 January 2019

Dil ko weeran kar gea ho ga by Hafiza Nasiha Sarwer




غزل (حافظہ نصیحہ سرور)
دل کو ویراں کر گیا ہو گا
حادثہ تھا گزر گیا ہو گا
بے رُخی کی دوا سے پاگل دل
آج شاید تھوڑا سُدھر گیا ہو گا 

جس کو جینا پڑا کسی کے لیے 
وہ تو اندر سے مر گیا ہو گا
کوئی بھی منتظر نہیں جس کا 
کیسے قدموں سے وہ گھر گیا ہو گا؟
اُس کو تنہائی راس تھی لیکن
اپنے سائے سے ہی ڈر گیا ہو گا
ہمارے ہنسنے پہ اتنی حیرت کیوں ہے 
زخم تھا، زخم بھر ہی گیا ہو گا

آپ نے زہر جو دیا تھا ہمیں
وہ رگوں میں اُتر گیا ہو گا
ہم بھی محتاط تھے محبت میں
وہ بھی دنیا سے ڈر گیا ہو گا

بے وفائی تو آپ نے کی تھی
پر جُرم تو ہمارے سر ہی گیا ہو گا




Friday, 21 September 2018

Zindagi by Hafiza Nasiha Sarwer


 "نظم"


جُرم اتنا ہے مُحبت میں وفادار ہیں ہم.
اس لیے سب کی نِگاہوں میں گُنہگار ہیں ہم.

کِیل کا بوجھ اُٹھانا بھی بہت مُشکل ہے.
اپنی تصویر سے بچھڑی ہوئی دیوار ہیں ہم.

اپنی آنکھوں پہ بڑے ظلم کئے ہیں ہم نے.
اپنے ٹُوٹے ہوئے خوابوں کے گُنِہگار ہیں ہم.

زِندگی نام ہے جینے کی ادَاکاری کا.
خُود تماشائی اور خود ہی فنکار ہیں ہم.

مان جائیں تو سزائیں بھی مُقرّر کرلیں.
لوگ یہ مانتے کب ہیں کہ گُنہگار ہیں ہم.

کاٹ کے رکھ لیے لوگوں نے غزل کے کالم.
ایسا لگتا ہے ہمیں اُردو کے اخبار ہیں ہم.

وقت کی چاک پہ رکّھی ہوئی مٹّی کی طرح.
کوزاگر تیری عنایت کے طلبگار ہیں ہم.

اس قدر درد کہ جینے میں مزہ آتا ہے.
اِتنی بیچینی ہے سِینے میں کہ سرشار ہیں ہم.


تحریر: حافظہ نصیحہ سرور