affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Haya Noor
Showing posts with label Haya Noor. Show all posts
Showing posts with label Haya Noor. Show all posts

Friday, 21 September 2018

Muhabbat by Haya Noor

ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ...
ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ...
ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ...
ﺗﯿﺮﮮ ﻭﻋﺪﮮ...
ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺴﻤﯿﮟ...
ﻭﮦ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ..
ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ...
ﺑﮩﺖ ﺗﮍﭘا ﺑﮩﺖ ﺭﻭیا...
ﺗﺴﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ....
ﮐﮩﺎ ﻣﺖ ﺭﻭ ﺍﮮ ﭘاگل...
ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺐ ﺩﻝ ﻟﮕﯽ ﮐﺮﺗﮯ!!! ...
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟؟؟
ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮪ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﺐ ﭘﮭﺮ ﻭﻗﺖ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺗﮭﺎ...
ﺑﮯﻭﻓﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﺗﮭﺎ...
ﺩﻓﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ..
ﻣﻘﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﮭﺎ...
ﺍﺏ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎﺩ ﻣﺤﺒﺖ!!!...
ﻭﮦ ﮔﺰﺭﯼ ﯾﺎﺩﯾﮟ ...
ﺗﯿﺮﮮ ﻭﻋﺪﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﻗﺼﮯ...
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﮓ ﮐﮯ ﺭﻭﺗا ﮨﻮﮞ...
ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘا ﮨﻮﮞ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎ ﺍﮮ دلبر...
ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺐ ﺩﻝ ﻟﮕﯽ ﮐﺮﺗﮯ...
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟؟؟

Tuesday, 28 August 2018

Barish ki bondoon ne rat di dastak by Haya Noor

بارش کی بوندون نے رات دی دستک دروازے پر
مجھے یون لگا کے تم أۓ انداز تمھارے جیسا تھا۔
اک أہٹ سی ھوٸ اندھیرے مین۔
۔
مجھے یون لگا کے تم أۓ انداز
تمھارے جیسا تھا۔
جھونکا اک ھوا کا مہکا گیا روح میری۔
کچھ ایسا لگا کے تم أۓ۔
انداز تمھارے جیسا تھا۔
جب أنکھ کھلی نا بارش تھی۔
نا ھوا تھی نا أہٹ تھی۔
بس دل ویران ہی تھا۔
نا تم أۓ ۔نا سکون أیا۔

kuch shehr ke log bhi ajeeb thy by Haya Noor

کچھ شہر کے لوگ عجیب تھے۔
کچھ ایسے بھی راہیں مشکل تھی۔
کچھ یار بھی میرا دور تھا۔
کچھ دل بھی ویران سا تھا۔
کچھ پیار بھی ادھورا تھا۔
کچھ اپنے ہی رقیب تھے۔
کچھ شام  بھی غمگین تھی۔
کچھ دل بھی اداس تھا۔
کچھ ایسے بھی راہیں مشکل تھی۔
کچھ شام کے اداس پنچھی بھی۔
درد بانٹنے  نا أتے تھے۔
کچھ پیار کی بستی اُجڑی تھی۔
کچھ راہیں یار کی تکتی تھی۔
میں اپنی ہی نادانی میں بس سب کچھ بھولی بیٹھی تھی۔
کچھ جوانی کی دہلیز تھی۔
کچھ اپنے بھی رقیب تھے۔
کچھ شہر کے لوگ بھی جیب ھی تھے۔
  حیا نور