affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Hina Malik
Showing posts with label Hina Malik. Show all posts
Showing posts with label Hina Malik. Show all posts

Wednesday, 18 July 2018

Apny sath dety hain by Hina Malik


بات دکھوں اور تکلیفوں کی نہیں ہے
بس اپنوں کے دکھ بہت دکھ دیتے ہیں
غیر تو غیر ہیں غیروں کو ہم سے کیا
اپنے ہی تو ضرورت کے وقت ساتھ دیتے ہیں

از قلم: حنا ملک

Rasta by Hina Malik


رستہ میں رک جائیں
یا رستہ چھوڑ جائیں
مرضی مسافروں کی اتنا
تو اختيار رہے انکو

از قلم: حنا ملک

Qismat by Hina Malik


کبھی ہمیں بھی اپنی قسمت پہ رشک تھا
اک حادثے کے بعد قسمت بدل گئی

از قلم: حنا ملک

Hadsy by Hina Malik


حادثے تو ہوتے رہتے ہیں انسانوں کے ساتھ
سانحوں سےزندگی رکتی نہیں بس بدل جاتی ہے
از قلم: حنا ملک

Waqt ne taras na khaya by Hina Malik


پہلےہم پہ وقت نے ترس نہ کھایا
پھر ہم نے بھی دکھوں سے وابستگی کرلی

از قلم: حنا ملک

Gharoor by Hina Malik


کبھی تھے ہم اپنا غرور ، ستم ظریفی
کہ آج کرتے ہیں دوسروں پر فخر

از قلم: حنا ملک

Apno ne chora by Hina Malik


پہلے ہم نے چھوڑا اپنوں کو اپنے لئے
پھر اپنوں نے ہمیں چھوڑا اپنے لئے

از قلم : حنا ملک

Wednesday, 11 July 2018

Hary huy log by Hina Malik


رک رک کر چلنا چل چل کے رکنا
نشانی ہے ہارےہوئےلوگوں کی

از قلم: حنا ملک


Dukh by Hina Malik


دکھ تو جاگیر ہیں میری
ان سے بھلا کیا ڈرنا
از قلم: حنا ملک

Jin ke aasre pe by Hina Malik


جن کے آسرے پہ چھوڑا اپنوں کو
انہوں نے ہی بے آسرا کردیا

از قلم: حنا ملک

Udaasi ka sabab by Hina Malik


پوچھتے ہیں لوگ اداسی کا سبب
سوچتے ہیں ہم اپنوں پر بھروسہ

از قلم: حنا ملک

kabhi thy khud hum by Hina Malik


کبھی تھے خود ہم اپنی مرضی کے مالک
آج کرتےہیں لوگ ہماری زندگی کا فیصلہ

از قلم: حناملک

jo baat kehni thi by Hina Malik


جو بات کہنی تھی مجھے وہی بات میں نہ کہہ سکی
میرے خواب بہت بلند تھےمیں بلند نہ تھی
از قلم: حنا ملک

Tuesday, 29 May 2018

Dua by Hina Malik



میرے اللہ مجھ پہ ایسا کرم کردے
محمد ؐ کی محبت سے جھولی میری بھر دے

از قلم: ”حناملک

Poochy gar Rehmat e Bari Tahala by Hina Malik


پوچھے مجھ سے گر رحمت باری تعالی
رحمت سے میری تجھے کیا چاہیئے
سرجھکائے ادب سے کروں گی تقاضا
میرے اللہ مجھے مدنیؐ کا دیدار کرادے

از قلم: ” حنا ملک

Mohabbat by Hina Malik


محمد ؐ کی محبت میں ایسے کھوئے
تصور ہی تصور میں مدینے سے ہو آئے

از قلم: ” حنا ملک

Qasoor by Hina Malik


سمجھتے رہے قصور وار دوسروں کو
ہمیں تو خود ہماری ضد نے تباہ کر دیا
کھوئی جب کتاب ماضی ہم نے
سارا قصور ہی ہمارا نکلا

از قلم: ” حنا ملک“

Hosla by Hina Malik



تو میرا حوصلہ دیکھ داد تو دے کی اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں خوف زوال بھی نہیں

از قلم: ”حنا ملک“

badal gay by Hina Malik



آپ کے جانے کے بعد بدل گئے سب
ہم بھی سوچتے ہیں کی بدلیں خود کو

از قلم: ”حنا ملک“

Khwab by Hina Malik



خوابوں کو حقیقت سمجھنے والو
ہر خواب کی ہوتی ہے تعبیر نئی

از قلم: ”حنا ملک“