affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Sunday, 23 December 2018

Adhoori kahani by Honey Sarkash

لکھ لکھ کے تھک گٸے ہیں اِس دل افسانے      

مقبول کوٸی بھی میری کہانی نہیں ہوتی   

شاعرہ: ہنی سرکشؔ  Honey Sarkash

Rag o jan mein teri khwahishen by Showing Flower


Rag o jan mein teri khwahishen by Showing Flower

رگِ جان تیری خواہیشیں
روح و قلب میں ہیں چھپی چھپی
تیری منتظر ان آنکھوں میں
ہے نمی جاناں ذرا دبی دبی
لبوں  پہ تیرا  ہی تذکرہ
ہے مسلسل نہ کہ کبھی کبھی
مکینِ  روح تورے خیال میں
گم میرے دن اور رات سبھی
تو نہ جانے کہ کیسا درد ہے
عاشقی میں حالتِ  بے بسی
ازقلم: شوئنگ فلاور

Saturday, 22 December 2018

Mery jeeny k wajha tu by Bint e Nazeer










Dua by Honey Sarkash


یاربّ میں بہت ہی شرمندہ ہوں
تیرے رحم و کرم پہ زندہ ہوں
تیری نہیں سنّتا اک بھی میں
نافرمان تیرا ایساہی بندہ ہوں
دنیا کی چمک کو بس مانو میں
یوں شعور والا ہی اک اندھا ہوں
آخرت کی مجھکو خبر نہیں بس
دنیا کا ایک چمکتا سا چندہ ہوں
تجھ کو مانو اور  تیری نہ مانو
کچھ عجیب گورکھ دھندا ہوں
ہاتھ پیر سب گناہوں سے لُتھڑَے
اندر سے بہت ہی میں گندا ہوں
دنیا میں ہیں میرے دام بہت
قبر کے اعمال میں مَندہ ہوں
شاعرہ: ہنی سرکش (Honey Sarkash)

Barish by Showing Flower


برستے بادلوں کے موسم میں
    تر ہوتی زمیں کی لمحوں میں
    خاک    اڑاتی   ہواؤں   میں
    کڑکتی بجلی کی صداؤں میں
 ویراں چشم و دل کی فضاؤں میں
  اک احساس کی لہر گزرتی ہے
  پھیل جاتا ہے ہرسو خمارِ درد
  تشنگی کی حد بھی بڑھتی ہے
  چھڑ جاتا ہے پھر دھڑکنوں میں
   وہ ساز جو محبت تھرکتی  ہے
   کوچہ  دل  میں  اداسی   پھر
 ان بارشوں میں پروان چڑھتی ہے
  کھڑکیوں پہ پھسلتے پانی کے ساتھ
     آنکھ  اشک برابر بہاتی ہے
      سنو ۔!  یہ امر سچ ہے جاناں
    کہ  بارش  بہت  تڑپاتی  ہے
   تاریکی میں لپٹی رات  صنم !
     ہر دل اداس کر جاتی ہے
   بارش سے بھیگی رات میں جاناں
بے درد محبت مار جاتی ہے ۔ ۔ ۔!
    ازقلم : شوئنگ فلاور

Mujhe aesi mohabbat ab bhi hai by Showing Flower


سنو جاناں مجھے تم سے
کچھ ایسی محبت اب بھی ہے
تیرے  تلخ   رویوں   سے
تیری  ہر  بے رخی  سے
تیری پُر کشش اداؤں سے
تیری گھنبیر  ہنسی  سے
تیرے قدموں  کی چاپ سے
تیری آنکھوں کی تاب سے
مجھے ایسی محبت اب بھی ہے
تیری  کچھ   باتوں   سے
تیری  کچھ  یادوں  سے
تیرے  شوخ  مزاج  سے 
تیرے  دل موہ  انداز  سے
تیری حسین  سیرت  سے
تیری قاتل  حاکمیت  سے
مجھے ایسی محبت اب بھی ہے
مجھ سے غافل رہنے سے
مجھے نادان  کہنے  سے
نظر  انداز  کرنے  سے
اجنبی کی سی گزرنے سے
تیری ہر ایک عادت سے
تیرے عشق کی عبادت سے
مجھے محبت تھی ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ !
کچھ ایسی محبت اب بھی ہے
ازقلم:شوئنگ فلاور

Friday, 21 December 2018

Koi to rat aesi bhi ho by Honey Sarkash


💕کوٸی تو رات اِیسی بھی شاعرانہ ہو
شَب بھر اُس کے بازو میرا سِرہانہ ہو💕

💕رسم و رواج بھی نہ آٸیں اُسکے آڑے
مزاج اُسکا اِسقدر ہی پھر باغیانہ ہو💕

💕قابض ہوجاٸے وہ اِیسے میری زات پر
اداٸیں اس کی ساری ہی قاتلانہ ہو💕

💕رہ جاٸیں سب کی سب پیرپٹختی سی
سوچیں میری کتنی بھی مدبّرانہ ہو💕

💕اُسکی مخروطی انگلیاں سنواریں زلفیں
خواہشیں مکمّل میری ساری دلبرانہ ہو💕

💕ساری اداسی پڑی رہےمنہ نیہواڑےسرکش
موسم کبھی تیرے دل کا اتنا عاشقانہ ہو💕

شاعرہ: ہنی سرکش (Honey Sarkash)

Thursday, 20 December 2018

Woh jo dil ke mehman hua karty thy by Honey Sarkash


وہ جو دل کے مہمان ہوا کرتے تھے
جن کیلئے ھم قربان ہوا کرتے تھے

آج وہ ھم سے تکلم کیلئے ہیں راضی
نخرے جنکے زمیں پہ آسمان ہواکرتےتھے

حساب رکھا ہی نہیں کبھی تھاجفاؤں کا
عشق میں اسقدر بے ایمان ہوا کرتےتھے

ذرا سی بات پہ روٹھے تو یہ احساس ہوا
بھول جانے کے بھی عہدؤپیمان ہواکرتےتھے

جو لے گئے تھے کھرچ کر دل سے یادیں تک
لوٹ کےآنے والوں کےکب سامان ہواکرتے ہیں

اب وہ دن کہاں سے ملینگے تم کو سرکش
جب تم پہ ھم واری قربان ہوا کرتے تھے


Teri adawaten by Honey Sarkash


تیری عداوتیں تیری بےرخی دائم ہیں
اپنے چند لفظوں کا اعتبار قا ئم ہے

تیری اذان الفت درکار ہے مجھے
دل آج بھی تیرے عشق کاصائم ہے

ستا سکے تو جتنا ستائے جاہم کو
لگی دل کی ہے اچھا تیرا ٹائم ہے

چلے جا چھوڑ کر، بدل لے راستے
دورنہ ہونگےتجھ سے دل کےعزائم ہیں

تیری ہرادا سےاب بھی ہے الفت سرکش
تیرےلئے گوشہ گوشہ دل کا ملائم ہے

Tum bhi to gay by Honey Sarkash


تم بھی تو گئے دل کو جھٹکے دے کر
وہی ھم کو پرانے سارے کھٹکے دےکر

ھم سے برداشت نہیں ہوتی بس زباں
گئےتم بھی نہیں دکھ کچھ ہٹکے دےکر

جو بھی اچھا برا ساتھ وقت گزارہ ھم نے
توڑگئے تم بھی خوش فہمیوں کےمٹکے دےکر

لگا دیئے ھوش سارے ٹھکانے ھمارے
ہماری اوقات کے ھم کو پھٹکے دےکر

زندگی پھر مسکرا کر دیکھ رہی ہے ہمیں
راستے کچھ نئے ہمیں ذرا بھٹکے دے کر

اب تم بھی لوٹ کر نہ آؤ گے دیکھنا سرکش
خواب بس کچھ حسین اونچے لٹکے دے کر


Woh jo hum ko her bar by Honey Sarkash


جگہ دل میں ایسے قلیل کرتے ہیں
وہ جو ہم کو ہر بار ذلیل کرتے ہیں

ہےکچھ خیال جوچپ ہوجاتےہیں ھم
لفظ وہ ہیں جو دل میں نکیل کرتےہیں

ہم بچتے رہے اب تک تمہارے قہرسے
رب علیم جی یہ سب سبیل کرتے ہیں

ہم سمجھتےنہیں توتم ہی سمجھ جو
کیوں طعنے دیکرہمیں علیل کرتےہیں 

وہ خودکوبھی سمجھنےسے قاصرہیں
بات بے بات جو  ہم پہ دلیل کرتے ہیں

نہ سمجھو بےآسرااس جہان میں سرکش
کام تو سب کے ہی رب جلیل کرتے ہیں

Tujh ko dil se nikal bethy hain by Honey Sarkash


تجھکو دل سے نکال بیٹھے ھیں
خود کو ایسے سنبھال بیٹھے ہیں

بہت کچھ سہہ چکے ہیں ہم پیارے
یونہی تو نہیں نڈھال بیٹھے ھیں

اب محبت بھی نہیں رہی باقی
اس قدر ہم کنگال بیٹھے ھیں

گنوادیں گے اس باربھی تجھکو
چل ہم یوں الٹی چال بیٹھے ھیں

ہے احساس تو پلٹ جاتے ہیں
لیکربس یہی کمال بیٹھے ہیں

جلا دے سب جو ہے آس پاس میرے
لئے وہ آتش فشاں سا ابال بیٹھے ہیں

ہوگی تمہاری جیت ھماری کہانی میں
اپنے ہاتھوں لکھ کر اپنا زوال بیٹھے ہیں

ناکرسکے گا اب کوئی مدد ہماری سرکش
خود کو طوفانوں میں اچھال بیٹھے ھیں

شاعرہ: ہنی سرکش (Honey Sarkash)

Suno by Honey Sarkash


سنو جو مُجھے چاہیے
وہ خلوص محبت
شاید دستیاب نہیں
اِس سے کم میں سرکش کی
انّا ,خودسر ,ضّدی فطرت کو منظور نہیں
پھر یہ تشنگی یونہی بھٹکتی رہے گی
اک سراب کی تلاش میں
روح یونہی خالی رہے گی
لفظ یونہی سر پٹختے رہیں گے
اور شاعری یونہی دلوں کو
جھنجھوڑتی رہے گی
اک لاحاصل تمنا کی
خواہش میں.......!

شاعرہ: ہنی سرکش (Honey Sarkash)

Logon ke naqab by Honey Sarkash


لوگوں کے نقاب ہیں کہ اترتے کیوں نہیں ہیں
معافی مانگتے ہیں تو بدلتے کیوں نہیں ہیں
جانے کیا سوچ کے پلٹ آتے ہیں زیست میں
ربّ کو ماننے والے ربّ سے ڈرتے کیوں نہیں ہیں
کس ڈھڑلے توڑتے ہیں یوں مان اور پھر دل
یہ خاک کے پتلے پھر سنبھلتے کیوں نہیں ہیں
روزِمحشر بھی سناٸیں گے کیا سارے افسانے
دنیا میں یہ لوگ سچ کو اگلتے کیوں نہیں ہیں
سیکھے ہی نہیں ہیں کبھی یہ زندگی کا سبق
اپنی زات کے حصار سے نکلتے کیوں نہیں ہیں
بہاتے ہیں اپنے ہی درد پر یہ خوب آنسو سرکش
کسی اور کے غم پہ یہ مچلتے کیوں نہیں ہیں
معصوم ہیں بیوقوف سہی پر اسقدر بھی نہیں سرکش
اب سمجھے ہم لوگ بار بار پھسلتے کیوں نہیں ہیں