affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ammarah SHafique
Showing posts with label Ammarah SHafique. Show all posts
Showing posts with label Ammarah SHafique. Show all posts

Sunday, 20 November 2016

آج دل پہ کچھ بوجھ سا ٹعھرا ہے


نازک لڑکی


کوئی تو ہو جو پتہ میرا ، مجھے بتانے آئے



کوئی تو ہو جو پتہ میرا ، مجھے بتانے آئے 

مجھے بھی میری طرح ، چاہنے آئے
بوجھل بوجھل ہیں آنکھیں لوری سنا کر 
کوئی تو ہو جو مجھے ، سلانے آئے
مدت سے لا پتہ ہو ں میں خود سے 
کوئی تو ہو جو مجھے خود سے ملانے آئے 
کب ہنسی تھی آخری با ر کچھ یاد نہیں
کوئی تو ہو جو مجھے پھر سے ، ہنسانے آئے
پتھروں کے اس مکان کو گھر کیسے کہوں
کوئی تو ہو جو مکان کو گھر بنانے آئے
میرے باغیچے کے سبھی پھول مرجھا گئے 
کوئی تو ہو جو آنگن میں گل کھلانے آئے 
ہو ا میں اک اداسی ، اک ویرانی سی ہے
کوئی تو ہو جو فضا کو مہکانے آئے
میں جو ہواؤں کی مسافر ہوا کرتی تھی
کوئی تو ہو جو مجھے اڑنا سکھانے آئے 
حسرتیں ہیں گمشدہ ، گمنام سے خواب ہیں
کوئی تو ہو جو میرے خوابوں سے ملانے آئے
ہیں پاؤ ں بھی شل او ر تنہا چلا نہیں جاتا
کوئی تو ہو جو چل کر سا تھ نبھانے آئے 
عرصہ ہوا میرے کانوں کو کوئی نغمہ سنے ہوئے
کوئی تو ہو جو مجھے گیت سنا نے آئے 
دل کی زمین خشک ، بنجر ہے صحرا کی طرح
کوئی تو ہو جو بارش کی بو ندیں گر انے آئے
روٹھیں کس سے اور کس سے خفا ہوں
کوئی تو ہو جو ہمیں منانے آئے 
محبتوں میں شمار میرے سواء کو ئی نہ ہو
کوئی تو ہو جو یہ حق جتانے آئے
علاج زخموں کا ، خود سے ممکن نہیں عمارہ
کوئی تو ہو جو مرہم زخموں پہ لگانے آئے
عمارہ شفیق (مکہ مکرمہ)


ان گنت حسیں راز بتائیں تیری آنکھیں از عمارہ شفیق