affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Fatima Jawaid
Showing posts with label Fatima Jawaid. Show all posts
Showing posts with label Fatima Jawaid. Show all posts

Wednesday, 29 January 2020

Qisa mukhtasir yeh ke by Fatima Jawaid


Gila by Fatima Jawaid

تجھ کو گلہ یہ کہ ہمیں الفت سے مسکرانا نہیں آتا 
مجھ  کو  دکھ یہ کہ تمہیں چاہ سے دیکھنا نہیں آتا

Anjam e manzil by Fatima Jawaid

ہماری محبت کے انجامِ منزل ہر کسی کو تھی راس 
پس ہمیں حسد نہیں،لوگوں کی رشک کی ادا کھا گئی

Jo ronaqien thi by Fatima Jawaid

جو رونقیں تھی محفل میں انہی کے دم سے تھی
اب کہ میرا صرف مسکرانا،آپ غنیمت ہی سمجھئے

ہم نے بھی کہیں دکھ چھپائیں ہیں مسکراہٹ کی آہٹ میں
آپ ہی سے آنا کا سبق لیا، ہم خود سے کبھی اظہار نہیں کرے گے

وہ تعلق کس قدر ادھورا تھا جن کو ہم نے سمجھا تھا پورا
وہ مسکرا کر چل اٹھے ،میری رسمی مسکراہٹ کو دیکھ کر

موسمِ گل کی خبر تو تم مالی سے لو تو ہی اچھا ہے
ہماری نظروں میں ایک عرصے سے خزاں اتر ہے آیا

ان لفظوں میں گلہ نہیں البتہ کہیں حیرت ضرور ہے
تم نے ہر میری الفت کی نظر کو ہنسی میں لیا ضرور ہے

وہ اگر راستے میں ملے جائے  گے تو گلہ ضرور کرے گے
یہ سوچ کر وہ میرے شہر کی گلیوں سے نہ گزرا کبھی

میرے رقیب میرے ہی اشعار اپنے نام سے سنائیں ان کو
یقیناً وہ میری نام لکھی غزل کبھی بھی نہ پڑھتے ہوگے

Guman by Fatima Jawaid

وقت اس قدر رفتار سے گزرہ کہ کبھی انکے روگ میں روئے ہی نہ
ہاں ایک سرسری آہ کی تھی مگر شاید اسکی بھی خبر انکو ہوئی نہ

ہاں جانتے تھے کہ محبت کے اختتام تک ہو جائیں گے تباہ
مگر دل و دماغ نے انکی  چاہ میں ،کب تھا کیا یہ خیال

سوچا تھا کہ بچھڑ کر ان سے ایک فرضی ملاقات کرے گے
وہ بچھڑنے کے بعد شہر چھوڑ جائیں گئے یہ کب تھا کیا گماں