affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ghulam Fatima Munir
Showing posts with label Ghulam Fatima Munir. Show all posts
Showing posts with label Ghulam Fatima Munir. Show all posts

Saturday, 23 January 2021

Poetry by Ghulam Fatima Munir

میں نے دل سے تمہیں کو چاہا ہے

میں نے ہر پل خدا سے تم کو مانگا ہے

 

تم کبھی وفا سے بے وفا نہ ہو جانا

️..........

بس دعاوں میں میں نے اتنا مانگا ہے

****

جانےکیا مجبوری تھی اس کی

جو سب کےسامنے انجان  بن گیا

نہ چاہتے ہوے بھی

وہ اس دل کا ارمان بن گیا

غلام فاطمہ منیر

****

جب خوشیوں کےپل آتےھے

آنکھیں بھی نم ھو جاتی ھے

دل پر زخم ایسے لگتی ھے

جب یاد اُس کی آتی ھے

****

دل چلاتا ھے آنکھیں روتی ھے

کوی ہم سے پوچھے یہ تنہای کیا ہوتی ھے

غلام فاطمہ منیر

****

جسے چاہا اُسی نےدل تور دیا

جسےاپناکہہ اُسی نےساتھ چھور دیا

غلام فاطمہ منیر

****

آنکھوں کے راستےدل میں اُتر گیا

جانے وہ کیسا جادو کر گیا

غلام فاطمہ منیر

****

حقیقت زندگی کی کبھی جان نہ پاے

تجھے بھولنا تو چاہا مگر بھول نہ پاے

غلام فاطمہ منیر

****

یاد تمہاری جب جب آتی ھے

جان میری یہ جاتی ہیں

کاش اک بار لوٹ کے آجاو

یہ ہی آواز دل سے آتی ھے

نام غلام فاطمہ منیر

*****

اس دل میں جو خواہش تھی

وہ ہو نہ سکی پوری

اے جانے والےتو کیاجانے

تیرےبن یہ زندگی کتنی ھے ادھوری

غلام فاطمہ منیر

****

آج پھر اُس کی یاد ھے آی

دل نے بھی دی ہے دُہای

کیوں چلے گے ہمیں چھوڑ کے

کیا کبھی تجھےہماری یاد نہیں ھے آی

غلام فاطمہ منیر

*****

پیار محبت سب ھے نام کی ہی باتیں کون یہاں نبھاتا ھے

آج کے دور میں تو اپنےبھی ساتھ چھور جاتے ہیں

غیروں نےساتھ کیا نبھانا ھے

غلام فاطمہ منیر

****

دل پر چوٹ لگی اسی کےپھرکبھی آرام نہ آیا

وہ ہم سے  بچھڑا ایسا کےپھرکبھی لوٹ کےنہ آیا

غلام فاطمہ منیر

********

جس کے لیے ہم ہو گے برباد

اُس نےکبھی آکر پوچھا بھی نہ حال

بات تک کرنا پسند نہیں ہم سےاُن کو

جن کےلیےہم روتےھےہر رات

غلام فاطمہ منیر

Wednesday, 20 January 2021

Shikwa na shikayat hay tum se by Ghulam Fatima Munir

شکوہ نہ شکایت ھے تم سے
بس یہ ہی گیلا ھے خود سے
کیوں پیار کیا تم سے

*****

اس زندگی میں کانٹوں کےسوا کچھ بھی نہیں
اور تم پھولوں کی بات کرتے ھو
کہتے ھو خوش رہا کرو 
پر کیا کرے صاحب
ہمارے نصیب میں تو خوشیاں ہی نہیں

******

اب ڈرتا ھےدل کسی کو اپنا کہنے سے
کیوں کے دھوکا ہی میلا ھے ہر اک سے

*******

اتنا مان نہ کر اے انسان
تو تو اک مٹی کا کھلونا ھے
اک نہ اک دن تجھے ٹوٹ ہی جانا ھے
پھر غرور کس بات کاچھوٹا ھو یہ بڑا 
سب نے اسی جگہ پر ہی تو جانا ھے
نام  غلام فاطمہ  منیر

*****

یہاں تو سب بےوفا لوگ ہیں وفا کیا کرے گے
چل اپنے شہر اے دل یہاں ٹھر کراب کیا کرے گے
نام غلام فاطمہ منیر

*****

وہ دل میں بسا  ایسا کے دھرکن بن گیا
اب اس کے بن جینا جسے سزا بن گیا
نام غلام فاطمہ منیر

******

تیری یادوں کے سہارے جی رہے ہیں
زہر یہ جدای کا پی رہےہیں
اک بار لوٹ کر توآجا
یہ ہی بار بار کہہ رہےہیں
نام غلام فاطمہ منیر

*****

دل میں غم ھے اتناتو مسکراے کسیے
تم سے پیار کیا تھا اتنا کے بھولے کسیے
نام غلام فاطمہ منیر

******

اس دل میں رہتے ہو دھرکن کی طرح
ان آنکھوں میں بستے ہو خوابوں کی طرح
اب اور کیا کہو
میری زندگی میں ہو سانسوں کی طرح
نام غلام فاطمہ منیر

*****

پیار ھونا تھا ہو گیا
دل ٹوٹنا تھاٹوٹ گیا
اب افسوس کر کیا
جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا

نام غلام فاطمہ منیر

****

غزل 
رات کی تنہای پھر ھے آی
دل نے بھی دی ھےدُہای
کیوں تمہاری یاد ھے آی
تم تو چلے گے تھے چھوڑ کر
یہ ہی سوچ کر آنکھ میری ھے بھر آی
رات کی تنہای پھر ھےآی 
دل نے بھی دی ھےدُہای
کسی سے تم پیار نہ کرنا
کسی پر کبھی تم اعتبار نہ کرنا
بس وقت نے یہ ہی بات ھے سیکھای 
رات کی تنہای پھر ھے آی 
رات کی تنہای پھر ھے آی
نام غلام فاطمہ مینر

*****

جس کے لیے ہم نے سب کو چھوڑ دیا
آج اُس نے ہی میرا دل تور دیا
نام غلام فاطمہ منیر

******

انکھوں میں آنسو آجاتے ھے 
پھر بھی لبوں پر ہسی رکھنی پرتی ھے
یہ محبت بھی کیاچیز ھے یارو
جس سے کرتے ھے اُسی سے چھوپنی پرتی ھے
نام غلام فاطمہ منیر

*****

رات کی تنہای میں جب اکیلے ھوتے ھے
خدا کی قسم دل کھول کر روتے ھے
یوں درد اپنا ہم چھپاتے ھے
رات کو روتے اور دن کو مسکراتے ھے
دیکھنے والے کہتے ھے واہ کتنے خوش نظر آتے ھے

*******

ہرمحبت کے نصیب میں منزل نہیں ہوتی اس لئے محبت کو پا لینے کی لگن کے ساتھ کھو دینے کا ظرف بھی ہونا چاہئیے 
کیونکہ  
کبھی کبھی محبت آپ کو ایسے درد سے نواز دیتی ہے کہ اگر آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں 
تو بھی آپ درد کی وہ شدت محسوس نہیں کر سکتے جو آپ کے چاھنے والوں کے لہجہ بدلنے سے آپ کو ہوتی ہے 
کبھی کبھی انسان اپنے وجود سے ہی تنگ آجائے تو اُسے اپنا وجود ہی کائنات پر بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے 
ایسے میں کوئی خوشی کوئی دکھ متاثر نہیں کرتا آنکھیں خشک سیلاب بن کر ویران ہو جاتی ہیں 
سوچ کے دریچوں پر جیسے قفل پڑ جاتے ہیں دل کِسی پرانے کھنڈر کی طرح ہو جاتا ہے
دل جیسے گلدان میں لگے بناوٹی پھولوں جیسا بن جاتا ہے جو صرف کمرے کی زیبائش کے لیے سجائے جاتے ہیں💔

******