affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Hareem Fatima
Showing posts with label Hareem Fatima. Show all posts
Showing posts with label Hareem Fatima. Show all posts

Saturday, 25 August 2018

Chlay aao na by Hareem Fatima

 

 

 

 کچھ کہوں اگر میں
تو سنو گے تم ۔۔
کیا محبت نہیں تم کو مجھ سے
کیا میری تکلیف نہیں محسوس کر سکتے تم
کیا میرا تم کو بن آواز بلاناسنائ نہیں دیتا ۔۔
کس بات کی سزا دے رہے تم ۔۔۔
کیا تم سے محبت کی ۔۔
کیا تم کو نہیں لگتا کہ تم بن جینا مشکل ہے ۔۔۔
کیا تم محسوس نہیں کرتے میرے درد کو ۔۔
کیا تمہارا دعوہ محبت کا جھو ٹا تھا ۔۔
کیا تمہارا وعدہ وفا کا جھوٹا تھا ۔۔
ان وعدوں کو ، ان قسموں کو ۔۔
ان چاہتوں کو ، ان لمحوں کو
بھلا دوں میں ۔۔ کیا تم جیسی بن جاؤں میں
میرے رونے پر تڑپ جاتے تھے نا تم
میری خوشیاں چاہتے تھے نا تم
کیا میرے بہتے آنسو تمہیں نہیں دکھتے ۔۔
کیا میری اداسیاں تم تک نہیں پہنچتی ۔
میں کیسے مان لوں تم کو اتنا بے خبر ۔۔
میں بھی تو محبت کرتی ہوں
میں تو محسوس کرتی ہوں
میں تو تمہارے خیال کے ساتھ جیتی ہوں
جو تمہاری یاد مٹ جاےء تو شائد سانس رک جاےء ۔۔
سنو ایک بار آجاؤ نا پھر ۔۔
بولو نا قرار نہیں تم کو میرے بن ۔۔
بولو نا مجھ بن جی نہیں سکتے ۔۔
بولو نا میں تمہاری زندگی ہوں
بولو نا نیں تمہاری آخری محبت ہوں ۔۔
چلے آؤ ایک نیا سفر شروع کریں ۔۔
بھلا دیں گے سب ہم ۔۔
کہیں دور چلیں گے ہم ۔۔
محبت جیت جاےء گی ۔۔
چلے آؤ نا

از قلم حریم فاطمہ


Tuesday, 14 August 2018

Khawab by Hareem Fatima


  
 اک خواب تھا ،
اک حسیں احساس تھا ،
تیری باہنہوں نے مجھے ڈھانپا تھا ۔۔
وہ اک پل تھا ، بہت خاص تھا ،
تیرے لمس کو میں نے محسوس کیا تھا۔۔
وہ اک لمحہ تھا ، سکون دل تھا،


تیری قربت میں ،میں نے زندگی کو جیا تھا ۔
یوں محسوس ہوا تھا ،
جیسے مکمل ہوئ ہر خواہش میری۔
جیسے برسوں کے پیاسے کو پانی ملا ۔
جیسے برسوں کے مسافر کو ٹھکانہ ملا ۔
وقت تو ٹھرتا نہیں، گزر جاتا ۔
پانی کے بہاؤ کی طرح بہ جاتا ،
وہ لمحہ بھی بہ گیا ۔
وہ لمحہ بھی پھسل گیا ،
یوں جیسے ہاتھ کی مٹھی سے پانی پھسل جاتا ۔
روکنے کی چاہ میں مٹھی تو بند ہو جاتی،
لیکن پانی کہاں قید ہوتا بند مٹھی میں ،
بہ جاتا ہے پانی، پھسل جاتا ہے ۔
ویسے ہی وہ لمحہ بہ گیا
ایسے جیسے ہوا کا اک جھونکا چھو گیا مجھے ،
اپنی ٹھنڈک اتار گیا مجھ میں ،
رکا نہیں، گزر گیا
ایسے ہی وہ لمحہ چھو گیا مجھے
وہ احساس مٹتا نہیں مجھ میں سے،
اس لمحہ کا سکون بھولتا نہیں مجھے ۔
کاش کہ رک جاتا وقت ۔
کاش کہ ٹھر جاتیں گھڑیاں ،
کاش کہ ٹھر جاتا اس لمحہ پر چاند ،
کاش کہ رک جاتی زمیں ،
لیکن یہ ممکن نہیں تھا ۔
ہوتا تو قیامت برپا ہو جاتی ،
نہیں ہو نا تھا یہ
تو کاش اس لمحہ میری جان چلی جاتی ،
میری آنکھیں تیری آغوش میں ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی۔
کاش میری روح تیری بانہوں کے حصار میں نکل جاتی ،
کاش اور کچھ نہیں تو یہی ہو جاتا ۔۔۔

  از قلم حریم فاطمہ

Slam e muhabbat by Hareem Fatima



میں سلامِ عقیدت پیش کروں
میں سلامِ محبت پیش کروں
ان ماؤں کو ، ان بہنوں کو جنہوں نے کھو دیے پاسباں اپنے
لٹا دیے سہاگ اپنے جن بہاروں نے
کھو کر اپنے لال، اپنے لختِ جگر اپنے سائبان
جن کی حوصلہ مندی، جن کی جراُت میں فرق نہ آیا
ہمارے وطن پاکستان کی خاطر
میں سلام ِ عقیدت پیش کروں
میں سلام ِ محبت پیش کروں
ان بھائیوں کو، ان باپوں کو جو کر گےء اپنی جان نثار
جو بن گےء مظبوط دیوار لوہا، جو کٹوا گےء گردنیں اپنی
جو اپنے ساتھیوں کے بدن کو ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا دیکھ کر نہیں ڈرے
جو سیسہ پلائ ہوئ دیوار بن گےء، جو بڑھتے طوفانوں کے لیے بند بن گےء
میرے وطن پاکستان کی خاطر
میں سلامِ عقیدت پیش کرتی ہوں
میں سلام ِ محبت پیش کرتی ہوں

از قلم حریم فاطمہ


Mery Watan by Hareem Fatima











اے میرے وطن پاکستان اے پیارے چمن پاکستان
میری محبتیں تیرے واسطے، میری عقیدتیں تیرے واسطے
رہے تو سلامت تا قیامت ان فضاؤں میں
یہی میری جستجو، یہی میری تمنا
اے میرے وطن پاکستان
اے پیارے چمن پاکستان
نام تیرا رہے ہمیشہ سربلند ان ہواؤں میں
رہے تو سلامت تا قیامت ان فضاؤں میں
سایہ ہے رحمتِ خدا رہے تجھ پر ہمیشہ
یہی میری امید، یہی میری دعا
اے میرے وطن پاکستان اے پیارے چمن پاکستان
بچاےء رب میرا تجھے ہر نظر بد سے
رہے تو سلامت تا قیامت ان فضاؤں میں
پھلتا پھولتا رہے شاداب تو ہمیشہ
یہی خواب میرا، یہی ارمان میرا
اے میرے وطن پاکستان
اے پیارے چمن پاکستان

ازقلم حریم فاطمہ

Saturday, 11 August 2018

Lamha e muhabbat by Hareem Fatima










جی چاہتا ہے ۔
ایک کندھا ملے ۔
سر رکھ دوں
جی بھر کر روؤں
اتنا روؤں کہ ہر دکھ ہلکا لگے
ساری تھکاوٹ دور ہو جاےء
بہت تھک گئ ہوں میں
ایک قدم بڑھنے کی سکت نہیں رہی
ایک بار بیاں کر دوں
میں سب غم اپنے
وہ ایسا ہو کہ سن لے سب
سن کر میری داستان
وہ مجھ پر ترس نہ کھاےء
ہمدردی نہ جتاےء
پر میرے سارے دکھ اپنے اندر سمو لے
مجھے اپنے سینے سے لگا لے
سینے سے لگاےء وہ میرے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگے
ایسے کہ میں اپنے دکھ پر اس کہ اتھل پتھل دھڑکن سن لوں
مجھے یقین آجاےء
کہ کوئ مجھ سے بھی محبت کرتا ۔
کوئ مجھے بھی چاہتا
میرے صدیوں کی تھکن اتر جاےء گی
ایک لمحہ محبت کا جو میسر ہو جاےء

ازقلم حریم فاطمہ