affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Saher Kanwal
Showing posts with label Saher Kanwal. Show all posts
Showing posts with label Saher Kanwal. Show all posts

Thursday, 7 February 2019

Ek andheri rat thi by Saher Kanwal


ایک اندھیری رات تھی
جس میں چاند چمکا تھا ساتھ کچھ چاندنی تھی
انمول تھی وہ رات کیونکہ ہم تم ساتھ تھے
تم نے کہا تھا مجھ سے کہ آوہم بٹوارا کریں
میں نے تمہاری آنکھوں میں محبت
 کے جلتے دیپوں سے سوال کیا تھا
کیسا بٹوارہ؟
تم نے کہا تھا کہ
میری خوشیاں تیری تیرے غم میرے
میری مسکراہٹ ہے تیری تیرے آنسو میرے
میری روشنیاں تیری تیرے اندھیرے میرے
میری نماز ہے تیری تیری قضائیں میری
میری راحت تیری تیری تھکن میری
میرے ثواب تیرے تیرے گناہ میرے
میں تو فقط اس کو محبت کی اداسمجھی تھی
تم تو کچھ حقیقت بیان کر رہے تھے

کیا یہی رواج رہا ہے ازل سے؟؟
کر کے بٹوارا دنیا چھوڑنی پڑتی ہے
دے کر چیزیں ساتھ چھورنا پڑتا ہے
خدارا تم لوٹ آؤ تو
ختم کر دیتے ہیں اس ضالم بٹوارے کی رسم کو
تمہارا سب کچھ تمہارہ
میرا سب کچھ میرا
اپنی جائیداد میں سے فقط تمہیں 
اپنے پاس رکھ کر باقی سب دان کر دونگی
میں ان تمام بے مول چیزوں کی میراث سے
خود کو عاق کر دونگی

Tum to janty thy na by Saher Kanwal


تم تو جانتے تھے نا !کہ
اندھیرے کتنے بھاتے تھے مجھ کو
سردیوں کی یخ بستہ کالی سیاہ
اندھیری راتیں کبھی میری کمزوری ہوا کرتی تھی
اجلے دن کی چمکتی روشنی سے زیادہ مجھے رات کی خاموش وحشت پسند تھی
ان سیاہ راتوں میں ہم پہروں ساتھ
وقت بتایا کرتے تھے
چاہت کے وعدے کیا کرتے تھے
محبت کی قسمیں کھایا کرتےتھے
مجھے آج بھی  یاد ہے
انہی تاریک راتوں میں
ایک اندھیری رات کے
سیاہ اندھیرے کی قسم کھا کر
تم نے کہا تھا کہ تم
میری ہر چاہ
میری ہر خواہش
میری ہر آرزو
میری ہرتمنا کو پوری کرو گے تم
تمہیں تو وعدے پورے کرنے تھے
تمہیں تو راتیں کالی دینی تھی
تم تو  دھوپیں سیاہ عطا کر گئے
تم کیا کر گئے؟
میرے عشق کو سزا کر گئے
میری رات کو فنا کر گئے
میری ذات کو تباہ کر گئے
میری روح کو بے مکاں کر گئے

تم تو میری دھوپ کو ہی سیاہ کر گئے
یہ تم کیا کر گئے؟
یہ تم کیا کر گئے؟

Kabhi meri zat me jhank kar dekh by Saher Kanwal


کبھی میری ذات میں جھانک کر دیکھ
میری کرچی کرچی ہوئی ذات تیری
دل لگی کا تحفہ ہے
میری بکھری روح
تیری وقت گزاری کا نتیجہ ہے
پھر بھی میں نے سنبھال رکھا ہے خود کو
پھر بھی مجھ سے نفرت نہیں تجھ سے
آج بھی تیرے ہر غلط فعل پر دنیا کو
وضاحتیں دیتی پھر رہی ہو
آج بھی تیری شان میں قصیدے پڑھ رہی ہوں
آج بھی تیرے غرور کو تیری خاموش صفت ثابت
کرنے کی کوشش کر رہی ہوں
ہاں تب میں اور اب میں
بس صرف اتنا فرق ہے
تجھ سے محبت کرتی تھی بے تحاشا۔۔۔۔۔۔۔
اب اب تجھ سے محبت قائم رکھنے کا ظرف نہیں ذرا سا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#سحر کنول#

Bharam by Saher Kanwal


Tere badshahi ka bharam rukhte rukhte
SAAIN
apni faqeeri ka b man tor bethe h hm

Karwa ghont by Saher Kanwal


Karwa tha bht SAAIN ghont ghont pea na gia hm se
Kash zehrela hota ik ghont me pe kr qissa tamam krte hm

Mein aj bhi apny dil ke raston par by Saher Kanwal


Me aj bhi  apne dill k raston pr
Tumhare qadmon ki chap sunti hn
Aj b tumhari dharkan mehsoos krti hn
Aj b mujhe tumhare sanse sunaie deti h

Magar jb me palat kr dekhti hn
To tumhe nhi pati.......
Me roti hn
Me chekhti hn
Me tarapti hn

Magar tum nhi lote
Nhi pulte
Kitne zalim ho tum

Me aj b tumhari mutazir hon
Rahon pr khemen laga kr zinda hn

Tumhare ass me
Tumhare umeed me
Tumhare ishq me

Agar tum lot aie to safar yhi se shru
Jahan tum chhor gai thi
Gar na lote to yhi raah  manzil hogi mere
Jahan tum chhor gai the
Me aj bhi manzil se
Do qadam fasle pr
Salon se
Tanha khari hn
Tumhare rah me chhor jane k bad
Chalti to rhi hn
Pur rah me nishaniya
Or sandese chhorte hwe
Bina humsafar
Safar to tamam kr lea mene
Pr manzil nhi pai mene
Tum hi batao ?
Kea bina hamsafar manzilen kamil b hwa krti h ??