affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Shifa Batool
Showing posts with label Shifa Batool. Show all posts
Showing posts with label Shifa Batool. Show all posts

Monday, 28 April 2025

Gham chupa lene do Poetry by Shifa Batool

عنوان:

غم چھپا لینے دو

شاعرہ: شفاء بتول

 

قید ہیں جوآنسوان پلکوں کی جھالرمیں

خاموشی سے ان سب کو بہا لینے دو

 

چہرے سے ہو عیاں ہر اک جزبہ ہر احساس

پھرکیوں کہتے ہوکہ غم کو چھپا لینے دو

 

پالاہےوقت نے مجھ کو، اب ایسا بھی کچھ نہیں

کوئ حربہ کوئ ہنر تو مجھے آزما لینےدو

 

دنیا کی تلخیاں ہیں گھٹا ٹوپ اندھیرا

مجھے خیالات کی آغوش میں پناہ لینے دو

 

رت بیت چکا پت جھڑ کا، ہر شے رنگین  ہے

مجھ کو دیکھ اب ساون کی گھٹا لینے دو

 

تقدیر کی یہ ڈور میرے ہاتھ میں نہیں

مادی خواہشات سے دامن چھڑا لینے دو

 

آغوش مادر میں ہے روتا وہ شیرخوار

کہ کچھ پل آنچل کی ٹھنڈی ہوا لینے دو

 

مت روکو مجھ کو ہرگز چاہے ہو دل چھلنی

جس چہرے پہ جو نقاب ہے وہ ہٹا لینے دو

 

یوں لگتا ہے کبھی کبھی کہ رونا بھی ہے ناگزیر

سیراب ہو جائیں آنکھیں ، انھیں پیاس بجھا لینے دو

 

جو لوگ کھو چکے ہیں وادئ عشق میں اس دم

کوچہء یار سے واپس انکو بلا لینے دو

 

کسی کو مضطرب نہ کرکہ وہ دستک دے باربار

جوایک بارآگیا ہے اس کوآ لینے دو

 

نہ ہی خوفِ تعبیر ہے اور نہ تقدیر سے لڑنا

ان آنکھوں میں کچھ حسیں خواب سجا لینے دو

 

بتول بہت سوچ کریہ فیصلہ دل نے ہے کیا

میں روٹھ گئ ہوں خود سے، اب منا لینے دو

************

Mangi hui duaon ka ab to jawab any ko hai Poetry by Shifa Batool

عنوان:

مانگی ہوئ دعاؤں کا اب تو جواب آنے کو ہے

 

مانگی ہوئ دعاؤں کا اب تو جواب آنے کو ہے

برسوں سے لکھے خط کا آخر جواب آنے کو ہے

 

دنیا کی تلخ باتوں نے ہم کو ہے یوں تھکا دیا

کہ نیند ہوئ ہے مہرباں ، اک اور خواب آنے کو ہے

 

کھلنے لگے جو خال و خد تو ہمیں یہ خبر ہوئ

بچپن تو ہے گزر چکا اور اب شباب آنے کو ہے

 

چہرے کی تابناکیاں تھیں گھٹا کی اوٹ میں

زلفیں ہٹیں تو یوں لگا کہ مہتاب آنے کو ہے

 

دیکھا جو بے رخی کا رنگ ہونٹوں پہ قفل لگ گئے

اب رفتہ رفتہ عشق پر بھی اضطراب آنے کو ہے

 

مجھ پہ بھلا تو ستم کر لیکن او میرے بے خبر

یہ جان لے کہ جلد ہی یوم حساب آنے کو ہے

 

بتول چند الفاظ پر یہ غزل ہوئ ہے تمام

اب جلد ہی سب کے لیے ایک اور نصاب آنے کو ہے

***************

Sunday, 20 April 2025

Gham chupa lene do Poetry by Shifa Batool

عنوان:

 غم چھپا لینے دو

شاعرہ: شفاء بتول

 

قید ہیں جوآنسوان پلکوں کی جھالرمیں

خاموشی سے ان سب کو بہا لینے دو

 

چہرے سے ہو عیاں ہر اک جزبہ ہر احساس

پھرکیوں کہتے ہوکہ غم کو چھپا لینے دو

 

پالاہےوقت نے مجھ کو، اب ایسا بھی کچھ نہیں

کوئ حربہ کوئ ہنر تو مجھے آزما لینےدو

 

دنیا کی تلخیاں ہیں گھٹا ٹوپ اندھیرا

مجھے خیالات کی آغوش میں پناہ لینے دو

 

رت بیت چکا پت جھڑ کا، ہر شے رنگین  ہے

مجھ کو دیکھ اب ساون کی گھٹا لینے دو

 

تقدیر کی یہ ڈور میرے ہاتھ میں نہیں

مادی خواہشات سے دامن چھڑا لینے دو

 

آغوش مادر میں ہے روتا وہ شیرخوار

کہ کچھ پل آنچل کی ٹھنڈی ہوا لینے دو

 

مت روکو مجھ کو ہرگز چاہے ہو دل چھلنی

جس چہرے پہ جو نقاب ہے وہ ہٹا لینے دو

 

یوں لگتا ہے کبھی کبھی کہ رونا بھی ہے ناگزیر

سیراب ہو جائیں آنکھیں ، انھیں پیاس بجھا لینے دو

 

جو لوگ کھو چکے ہیں وادئ عشق میں اس دم

کوچہء یار سے واپس انکو بلا لینے دو

 

کسی کو مضطرب نہ کرکہ وہ دستک دے باربار

جوایک بارآگیا ہے اس کوآ لینے دو

 

نہ ہی خوفِ تعبیر ہے اور نہ تقدیر سے لڑنا

ان آنکھوں میں کچھ حسیں خواب سجا لینے دو

 

بتول بہت سوچ کریہ فیصلہ دل نے ہے کیا

میں روٹھ گئ ہوں خود سے، اب منا لینے دو

**************

Thursday, 17 April 2025

Meri uljhanen apni zaat ke gird ghoomti hain Poetry by Shifa Batool

میری الجھنیں اپنی زات کے گرد گھومتی ہیں:

عنوان

 

میری الجھنیں اپنی زات کے گرد گھومتی ہیں

جبکہ تنہا ئیاں جزبات کے گرد گھومتی ہیں

 

آرزوؤں پہ بند باندھ رکھے ہیں اس لیے کہ

میری خواہشیں سب حالات کے گرد گھومتی ہیں

 

پوچھتی ہوں میں فلک کے ہر سرمیئ بادل سے

یہ کالی گھٹائیں کس برسات کے گرد گھومتی ہیں

 

دیکھا جو راہ پہ چلتے ہوۓ اک فقیر کو تو

پتا چلا کہ نگاہیں اسکی خیرات کے گرد گھومتی ہیں

 

پڑھا جو قصہء خضر تو یہ معلوم ہوا مجھ کو

ان کی متلاشی نظریں آبِ حیات کے گرد گھومتی ہیں

 

سنا ہے میں نے کہ اَفق کی کہکشا ئیں ساری

اس وسیع و عریض کا ئنا ت کے گرد گھومتی ہیں

 

تیرا ہر لفظ حرفِ آخر ہے میرے لیے کیونکہ

اک نگاہِ تسلیم تیری ہر بات کے گرد گھومتی ہیں

 

یا رب تو جانتا ھے میرے سب خیال اور سوچیں

فقط تیری نظرِالتفات کے گرد گھومتی ہیں

 

بدقسمتی سے ہم اس زمانے کے باسی ہیں

جہاں اشرفیاں بس اوقات کے گرد گھومتی ہیں

 

بتول حال ستاروں کا اب نہیں پڑھتی

کہ پیش گوئیاں ان کی ممکنات کے گرد گھومتی ہیں

***************