You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Friday, 26 August 2022
Friday, 11 February 2022
Rajkumar aur Faria Syeda Sughra Ghazi
سپنوں کا راجکمار اور فاریہ
( سیدہ صغریٰ غازی)
اففف
نا پوچھیے کل دیکھا اک حسیں خواب
جو
تھا نا تصور میں ایسا حسیں خواب
میں
کھڑی تھی پہنے سفید پریوں والا فراک
ہلکا
ہلکا میک اس پر واللہ میری تیکھی ناک
حد
نگاہ سجی تھی راہ سرخ گلاب سے
تھمتی
نا تھی روشنی میرے حسن و شباب سے
بالوں
کا بنا کر جوڑا اک طرف شانے پر گرائے
تھی
انتظار میں میرا سپنوں کا راجکمار آئے
اچانک
سے گرد اٹھنے لگی اور ارتعاش بپا ہوا
میری
سانس اٹکی اور دل زور سے دھڑکنے لگا
اپنی
مخروطی انگلیوں سے بکھری زلفوں کو سنوارا
اک
ہاتھ دل پر رکھا جو دھڑکے جا رہا تھا بیچارا
پھر
بنا کر ہاتھ کی چھاؤں سے دیکھا نظر اٹھا کر
آرہا
تھا کوئی دور سے گدھا گاڑی پٹر پٹر چلا کر
دل
مسوس کر رہ گئی میں نازک حسینہ
جانے
کہاں دیر کردی رہ گیا کہاں وہ کمینہ
پھر
رخ موڑ کر میں نے منہ کے زاویے بگاڑے
حسن
والوں نگاہ نہ پھیرو ہم ہیں تمہارے سہارے
سن
کر یہ رومانوی اور پیار سے چور آواز
آہ
ہ ہ دل الگ لے پر دھڑکا افففف یہ میٹھی آواز
آگیا
وہ جس کا تھا مجھے کب سے انتظار
پھر
رخ موڑ کر دیکھا اپنا دلربا راجکمار
یہ
کیا بکواس تھی یہ کیسا گھناؤنا تھا مذاق
گدھا
گاڑی کے ریڑھے سے اترا وہ خوش خوراک
تراہ
نکلا میرا میں ہوگئی پیچھے کو دو قدم
گوبھی
کا پھول لیے قریب میرے آیا وہ ہمدم
اجی
ڈریے نہیں ہم ہیں پہچانیے فاریہ دیکھیے زرا
تازہ
تازہ لایا ہوں پھول آپ کے واسطے ہرا ہرا
یوں
رخ موڑ کر مجھ غریب پر قیامت نہ ڈھائیے
کچھ
میری سنیے تو چند اک اپنی بھی سنائیے
کرایہ
دے دو بابو مجھے کیوں کیا ہوا ہے کھڑا
مزدور
پیشہ بندہ ہوں میری بھی سن لو زرا
ادھر
ادھر جیبوں میں تلاش کرنے لگا پیسہ
نکلا
نہ اک آنہ کیا نکلنا تھا کرائے کا پیسہ
پلو
کے ساتھ بندھے پیسوں سے کیا ادا کرایہ
راجکمار
نے شرمندگی سے کھسیانا منہ بنایا
پھر
کہا میں نے یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ
کہنے
لگا جانتا ہوں آپ کے دل کے حالات
یار
سرکاری نوکری کے لیے کیا ہے اپلائی
نوکری
لگ جائے پھر جہاز میں کریں گے فلائی
صرف
یہ پھول افورڈ کرسکتا تھا تو میں لے آیا
ابا
اماں کے ڈنڈوں سے بچ کر گدھا گاڑی پر آیا
میں
نے کہا پھوٹی قسمت یہ کیا ہے بیہودگی
فیسبک
انسٹا گرام پر نہ تھی ایسی سادگی
اجی
وہ تو سوشل میڈیا کی دنیا کے انداز نرالے
اب
بھلا کون سارا کتھا چتھا وہاں لکھ ڈالے
میں
نے رونا ڈال دیا ہوا ظلم ہائے ظلم ہائے
بھلا
ایسے راجکمار سے کون عشق لڑائے
دھڑام
سے گر کر زمین پر میں رونے لگی وہیں
وہ
بیچارا گوبھی پکڑے بیٹھ گیا پاس وہیں
اب
جو اچانک یاد آنے پر میں نے سر اٹھایا
اف
یہ نیلی جینز پر کیسا ستم تھا ڈھایا
جا
بجا ٹانکے لگے اور شرٹ پر بھی کالا سایہ
میرے
کچھ کہنے سے پہلے راجکمار چلایا
اوئے
خبردار میری جینز کو نا ہی کچھ کہنا
پھٹی
جینز فیشن ہے اس پر طنز نہیں سہنا
میں
نے کھینچ کر ہاتھ سے اسے گوبھی دے ماری
وہ
ہٹ کر پیچھے ہوا اور ہنس کر آنکھ ماری
آ
آ آ چیخ مار کر میں اچھلی یکدم یہ دیکھ کر
پونی
ٹیل تھی پیچھے جو جناب کی دیکھ کر
یہ
زنانہ شناخت بھی کہہ دو کے فیشن ہے
ایک
بار سکون سے گنوادو کیا کیا فیشن ہے
ارے
آج کل تو یہی ہے ہر جگہ چل رہا
پھٹی
جینز اور ساتھ میں پونی کا سیزن چل رہا
میں
نے کہا غضب خدا کا ایسا کب ہوا
کہنے
لگا جب پڑھائی کررہی تھیں تب ہوا
میں
نے کہا یہ گرد سے اٹا چہرہ یہ کپڑوں کا حال
سنا
نہیں کبھی اس قسم کے راجکمار کا احوال
کہنے
لگا ٹک ٹاک اسٹار ہوں یوں ہولا نہ لیجیے
دل
ہے جو آپ کا خدارا ہمارے نام کیجیے
توبہ
میری کہہ کر بولی میں ہٹ چل پرے
اندھی
ہوں جو دل میرا تم پر جا مرے
کہنے
لگا حد ادب نہ کیجیے کوئی ایسی ویسی گستاخی
پھر
چاہے ناک رگڑیں نہ دوں گا بعد میں معافی
انگلی
اٹھا کر میں نے اسے دی یہ دھمکی
جائو
کام کرو اپنا آیا بڑا ہیرو فرضی
کہنے
لگا پہلے تو بڑی شدت سے تھا انتظار
اب
دیکھو نخرے محترمہ کے سو سو ہزار
ہاتھ
جوڑ کر کہا خطا معاف یہاں سے جائیے
کہنے
لگا نہیں اففف یوں دل نہ دھڑکائیے
میرے
ہاتھوں کو قید اپنے ہاتھ میں کرلیا
آواز
دھیمی کر کے یوں کہنا شروع کیا
دیکھیں
یہ کیا لڑنا جھگڑنا اب جانے دیجیے
خوشیوں
کا استقبال کیجیے انہیں آنے دیجیے
بولی
میں در فٹے منہ کونسی خوشیاں کیسا استقبال
ہائے
ہائے یوں نہ بولیں ہو نا جائے یہیں میرا انتقال
میں
نے کہا خس کم جہاں پاک ابھی مر جائیے
کہنے
لگا سچ کہتی ہیں تو ہماری قسم کھائیے
گھوری
سے نواز کر میں اٹھی سنبھل کر وہاں سے
جی
کیا اٹھ جائوں ابھی کے ابھی اس جہاں سے
پھر
جو ہوئی تو تو میں میں مت پوچھیے
راجکمار
عرف باوا مرشد کیا بولا مت پوچھیے
میں
نے پکڑا دونوں طرف سے فراک اور لگادی دوڑ
دل
گردہ پھیپھڑے میں درد کے اٹھنے لگے مروڑ
ہائے
سن لیجیے یوں بھاگ کر مت جائیے
اچھا
میری مستانی کرایہ تو دیتی جائیے
خدا
بخشے میرے گناہ نہیں چاہیے ایسا راجکمار
گھر
کی صفائی جھاڑو پونچھا ہی بہتر پیر تا اتوار
ارے
سنیے سبسکرائب کردیجیے گا یوٹیوب چینل میرا
پیچھے
دیکھے بنا دھاڑی میں پیچھا چھوڑ دیجیے میرا
اچانک
سے منہ پر میرے پانی کا دریا بہایا گیا
اماں
جی کی آواز سے مجھے خواب سے جگایا گیا
ہڑبڑا
کر اٹھی میں دوستو حیران و پریشاں
شکر
ادا کیا خدا کا لوٹی جو حقیقت کے جہاں
توبہ
کی میں نے واپس آگئی صحیح سلامت
اب
نہیں کہنا ملے ایسا نکما راجکمار تا قیامت
چلو
دوستوں نکلو یہاں سے اور کوئی کام کرو
دنیا
میں اپنا دن رات محنت سے نام کرو
حاضر
ہو گی غازی پھر رہی جو زندگی
تب
تک کے لیے جائیے جان چھوڑئیے میری
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Thursday, 10 February 2022
Rani ho gei frar Poem by Syeda Sughra Ghazi
نظم:
رانی ہوگئی
فرار
شاعرہ: سیدہ
صغریٰ غازی
آئو سنائوں یاروں میں تم
کو اک کہانی
ایک ایسے راجے کی جسکی
بھاگ گئی رانی
اس رانی کے محبوب کا نام
تھا قرار
رات اندھیرے جس کے سنگ
رانی ہوئی فرار
موسم تھا بہار، دن تھا
اتوار کا
بد قسمتی کا دن راجا کی
دستار
پیٹرول مہنگا تھا اور یار
تھا بیچارا
ایم پاس پڑھا لکھا ایک
نمبر کا آوارہ
سکوٹر پر تو بھاگ نہ پائے
سو پیدل مارچ کیا
رستے میں ہر چوکی نے اپنا
حصہ چارج کیا
کر گئی اندھیر نگری راجا
کا وہ راج
گر گیا راجا جی کے سر سے
تاج
فوج بھاگی راجا جی کی ان
کے پیچھے پیچھے
میڈیا والے بھی کیمرا
پکڑے دوڑے پیچھے پیچھے
سانس پھول گیا لیکن مانی
نہ انہوں نے ہار
ٹفن میں بوتل پانی کی،
ساتھ پر اٹھا اچار
مچ گیا ہنگامہ ہر سو
ہوگئی ملک گیر ہڑتال
تاجر برادری نے کہہ دیا
بکے گا نہ اب کوئی مال
کوئی کہے اچھا ہوا بہت
راجا جی کے ساتھ
بڑا بنتا پھرتا ہے راجا
دیکھوخود کے
حالات
ایک بیوی سنبھال نہ پایا
چلا ہے ملک چلانے
ایف آئی یار درج کروائے
جاکر اب یہ تھانے
اک بی بی بولی سیانی راجا
کو کھاگئی نظر زمانے کی
ضرورت کیا تھی ہیپی کپل
اسٹیٹس روز لگانے کی
باواجی پھر کیسے پیچھے
رہتے چیخ کر للکارے
عذاب ہے یہ مانو نہ مانو
راجا پر دن دیہاڑے
رعایا پر رحم نہ آیا اس
کا یہی ہوتا انجام
منہ چھپائے پھرتا ہے اب
راجا صبح وشام
پیٹرول مہنگا، چینی مہنگی
اور کیا کیا سناؤں
مہنگی بجلی گیس ہوئی یہ
کیسے میں بتائوں
رانی ہوکر رانی بیچاری
بھاگی ہے پیدل
سکوٹر میں پیڑول نہ تھا
سو بھاگے دونوں پیدل
میڈیا کہتا ہے بھگانے
والا ہے ملازم سرکاری
رشوت نہ لیتا تھا سو نہ
تھی پاس گاڑی
آڈیشن دینے گیا لیکن ہوا
صرف خوار
رانی نے پچھلے ہفتے راجا
سے شاپنگ کروانے کو کہا
راجا نے تیوری چڑھا کر
رانی کو دو آنے کا کہا
اب بتائیں ناظرین یہ ظلم
نہیں تو کیا ہے
ایک لڑکی شاپنگ نہ کرے تو
زندگی ہی کیا ہے
اب دونوں کو بھاگے ہوئے
دن ہوگئے چار
راجا جی ٹوٹ گئی کمر تو
تھام لی دیوار
رانی کا معلوم نہ ہوپایا
کسی کو کوئی ٹھکانہ
تھو تھو کرنے لگا راجا پر
سارا زمانہ
اب راجا نے سوچا کروں یہی
استعمال آخری ہتھیار
مہنگی تمام اشیاء کی کردی
سستی پیداوار
اب رعایا نے جشن منایا
اور خوب منایا
تب راجا نے اعلان کیا اور
خوب کہلوایا
پیش کرے گا جو رانی سنگ
یار کے سر دربار
ملے گی انعام میں نوکری،
بنگلہ ،پیسہ کار
لوجی مہنگائی ختم ہونے پر
راجا کی ہوگئی دھوم
رانی کی تلاش میں پاگل
عوام باہر نکلی جھوم جھوم
پہنچ گئے سر پر ان کے
سبھی پکڑے تلوار
بیٹھے تھے دونو فرار
پنچھی جہاں پانی کے اس پار
بالآخر ہوگئے دونوں
گرفتار اور ذلت کا شکار
اب بیٹھے ہیں قید میں
راجا کی وہ دونوں یار
مہنگائی دوبارہ سے کردی
راجا جی نے
پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی
جو کی تھی باوا جی نے
جس نے پکڑا رانی کو اب وہ
بندہ ہوتا ہے روز خوار
انعام کی خاطر چکر لگائے
وہ سرکاری دفاتر کے بار بار
اب ساری رعایا کرے یہ
دعائیں بار بار
یا خدا بھاگ جائے رانی
پھر سے اک بار
دیکھا یاروں مطلب تو سب
ہوئے رانی کے سنگ
انعام کا سنا تو کیسے بدل
گئے سبھی اپنا رنگ
قیامت ٹوٹ پڑی ہے پھر سے
جو مہنگائی کی
خلاف راجا جی کے سب نے دہائی دی
راجا نے کرلی دوسری شادی
جو ہے ٹک ٹاک اسٹار
اس کے ہر قدم پر رکھے
ہوئے راجا نے پہرے دار
بلاناغہ اسٹیٹس لگائیں اب
راجا جی جے دربان
راجا اپنا اچھا ہے ہم سب
کا اس پر ایمان
یہی دنیا داری ہے چاہے
جہاں بھی تم چلے جائو
مطلب پرستی، مفاد پرستی
سے ہی ہوگا تمہارا ٹکراؤ
پڑھ کر نظم یہ غازی کی
اسے برا بھلا نہ کہنا
حد میں رہنا اچھا ہے تم
بھی حد میں رہنا
غازی کی پڑھ کر یہ من
گھڑت کہانی
کیسی لگی تمہیں کرو کھل
کر گل افشانی
اب اجازت چاہوں گی میں
غازی کے سنگ
آئوں گی پھر کبھی یونہی
غازی کے سنگ
._._._._._._._._._._._._._._.
Thursday, 27 January 2022
Faria Ne Dekha khwab by Syeda Sughra Ghazi
نظم:
فاریہ نے دیکھا خواب
شاعرہ: سیدہ صغریٰ غازی
کل
رات خواب میں میں نے عجب نظارہ دیکھا
سالار،
عمر، اور جیل پلٹ فارس ہمارا دیکھا
اک
طرف میجر احمد عرف ڈولی کھڑے منہ لٹکائے
دیکھا
تو سامنے سے ہی عالیان بھی چلتا آئے
سلام
دعا کرکے پوچھا میں نے سب کا حال
فارمی
چوزے جیسی شکلیں لیے سبھی تھے بے حال
فرائنگ
پین لیے آگے کو آیا ڈولی عرف جہان
کہنے
لگا حل بتائو غازی ہم ہیں بہت پریشان
دیکھو
زرا ان رائٹرز نے ہمیں کیا سے کیا بنادیا
میجر
مجھے بنوا کر بھی یہ فرائنگ پین تھما دیا
اک
انگھوٹھی کے لیے یہ ریڈرز کو کیا پڑھایا
امامہ
کے لیے ہائے سالار کا دیوالیہ کروایا
یہ
فارس کی عزت تو ہے ہی نہیں جیسے
زمر
اسے طعنے دیتی ہے ہر بات پر ایسے
امرحہ منحسوس مینڈکی کو
دے دیا عالیان
ایسی
لڑکی ہے وہ خدا کی پناہ الامان
تھپڑ
امامہ نے مارا تھا یہ بھی اسے بتائو
اور
سلش جو تم پر پھینکا حیا نے وہ بھی سنائو
اور
زمر نے دکھا دکھا کر جو جوس تھا پیا
ہسپتال کے بستر پر میرے
ارمانوں کا خوں کیا
سب
دکھ اپنے اپنے سناتے گئے باری باری
پھر
مڑ کے بولے عمر سے اب ہے تیری باری
کہنے
لگا وہ منہ چار گز کا سوجائے
کیا
بولوں مار دیا مجھے ہائے غازی ہائے
ہائے کے بچے جوڈتھ سے کر
لیا اعتراف محبت
کرنا
تھا علیزہ سے جاہل تو نے اعتراف محبت
چھوڑ
جہان دکھی ہوں میں آجا لگ جا گلے
مر
گیا ہوں آخر بیشک ناراض ہے مجھ سے بھلے
بولا
سالار بیٹی میری مجھے بلاتی ہے سالا سالا
جہان
کہنے لگا خودکشی کا شوقین ہی کہلاتا ہے سالا
ہاں
حیا تو ہر بات پر جہنم جیسے بھیجتی ہے مجھے
جانتے
ہیں جنجر بریڈ خراب کرنے والے پنکی ہم تجھے
یار
ویسے تم سب کو شرافت چھو کر نہیں گزری
سر
گوشی کی فارس نے جھاڑ کر اپنے کالر فرضی
واہ
واہ دو نمبر آدمی تم نے بات کی کمال
میں
عمر نہ بخشتا تمہیں ہوتا نہ جو میرا انتقال
ہزاروں
لڑکیاں مرتی ہیں بس قدر کرتی نہیں حیا
آگئی
شکی عورت پیچھے میرے ترکی بے حیا
بیٹا کم نہیں میرے عشق
میں بھی دیوانیاں
مر
کر بھی امر ہوئی عمر جہانگیر کی کہانیاں
جا
بھئی تو تو بھاگتا تھا علیزہ سے آیا بڑا شہزادہ
اور
یہ فارس تھا ہاشم کے کیس میں ایک پیادہ
اوئے
میری بیوی ہے زمر میرے منہ نہ لگ جہان
آیا
بڑا فوراً سے مجرا ویڈیو ڈیلیٹ کرنے والا حکمران
اور
یہ عالیان کی دیکھو آیا امرحہ کے واسطے پاکستان
مہنگائی
بجلی گیس کے بکھیڑوں سے ہوئے خطا اوسان
دیکھو
میری طرف نہ آنا میرا یار ہے کارل منحوس مارا
چٹکیوں
میں یوں غائب کرے گا ملے گا نہ نشاں تمہارا
میں
بولی بس کریں یہ کیا چخ چخ لگا رکھی ہے
یوں
خواب میرے میں آکے تباہی سی مچا رکھی ہے
مسلئہ
کیا ہے آپ کا بتائیں مجھے زرا صاف صاف
دیکھتے
ہیں پھر کیا ہوسکتا ہے آپ کے ساتھ انصاف
پھر
زرا سنبھل کے آگے آیا میرے سلجھا ہوا سالار
دیکھو
غازی! بات سادہ تم بھی رائٹر ہو ہماری جان
ان
باقی رائٹرز کو دے دو خدارا ہمارا یہ اک پیغام
ہم تنگ آچکے یہ ہیرو ہیرو
کی رٹ سے صبح و شام
ایک انسان ہیرو بن کر
پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے
پھر
وہ انسان نہیں رہتا مخلوق خدائی بن جاتا ہے
ہم
تو مشہور ہوئے بے شک بہت زمانے میں
لیکن
مشکل سفر ہوتا ہے ہیروئین کو منانے میں
ہیرے
کی انگوٹھی دے کر کروالیا میں نے نقصان
اب
قسطیں دے کے گھر کی بھر رہا ہوں بھگتان
یہ
جہان کے ماموں کی آئی جو ترکی بٹیا رانی
اب
ہر لڑکی مرتی ہے ترکی ترکی کی ہو کر دیوانی
پھر
ہر دوسری لڑکی زمر جیسی بننا چاہتی ہے
اپنا آپ بھول کے ہیروئین
جیسی لگنا چاہتی ہے
کسی
کی سوچوں میں ہے امامہ جیسی شباہت
اب
بھلا جو خدا نے بنایا اس میں کیا ہے قباہت
اور
کچھ ہونے لگتی ہیں امرحہ جیسی عجیب و غریب
کبھی
تو مینڈکی جیسی کبھی نری عجیب و غریب
سن
کر یہ باتیں میں نے اک گہرا سانس بھرا
پھر
تسلی والا ہاتھ سالار بہنوئی کے شانے پر دھرا
باتیں آپ کی درست ہیں باکل
سو فیصد سولہ آنے
کرتی
ہوں میں بات اگر رائٹر کوئی جو مانے
اب
بس بھولی بھالی نا بنائیں یہ شکلیں معصوم
جانتی
ہوں اچھے سے آپ کو کتنے ہیں مظلوم
میری
یہ بات سن کر سب نے منہ کے زاویے بگاڑے
ارے ایسے تو نہ کہو غازی بڑے ہیں ہم تمہارے
خیر
تم نے بات سنی، ہے ہم پر تمہارا احسان
خوش رہو ہمیشہ قائم رہے
یہ تمہاری مدھم مسکان
فارس
بھیا کو میں نے دیکھا اٹھا کے تیکھی نگاہ
لائن
مارنے سے باز رہیں زمر کو ورنہ دوں گی بتا
اب
جائیں میری طرف سے سب کو بائے بائے
سپنوں
کے راجکمار کی بجائے آپ ہیں چلے آئے
پھر
سر پہ ہاتھ مار کر توبہ میں نے کی
نہیں
نہیں ویسے ہی میرے منہ سے بات نکلی
اچھا
اچھا چلیں اب جائیں آپ سب یہاں سے
اور
پہنچ کر میسج کردینا مجھے وہاں سے
پھر
وہ سب یونہی ہنستے ہنساتے چلے گئے
نوک
جھونک کرتے ہنستے ہنساتے چلے گئے
اب
میں بیٹھی ہوں صبح سے سوچوں میں گم
کس رائٹر سے بات کروں انہی
سوچوں میں گم
چلتی
ہے اب غازی یاروں ہزاروں کرنے کو ہیں کام
تم
سب تو فارغ رہتے ہو ہر دم صبح وشام
****************


