affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ayesha Falak
Showing posts with label Ayesha Falak. Show all posts
Showing posts with label Ayesha Falak. Show all posts

Tuesday, 1 October 2024

Beautiful poetry by Ayesha Falak

لہو میرا جو بہتا ہے تو بہنے دو

کہ یہ میرے وطن میں روشنی کا گھر بنائے گا

محبت کی لکیروں کو محبت سے یہ جوڑے گا

بکھیرے روشنی ہر سو ایسے دیپ جلائے گا

پھر ہو جائیں گی راکھ نفرت کی لکیریں

کچھ اس قدر دلکش یہ آتش مچائے گا

اِک اور وفا دب جائے گی مٹی کے ملبے میں

میرا چھوڑا ہوا سایہ پھر چھاؤں بنائے گا

میں اِک راز ہو جاؤں گا وطن کے سینے میں

میں اِک خواب ہو جاؤں جو تعبیر بنانے گا

اس وطن کی حرمت پہ اک لفظ نہ آئے

میں اعزاز ہو جاؤں جو عزم بنائے گا

اِک شوقِ شہادت سا سینے میں ہے فلکؔؔ

وہ خاص ہو جاؤں جو شہادت ہی پائے گا

 

(عائشہ فلکؔ)

 

Ayesha Falak

٭٭٭٭٭٭٭٭

بھول جاؤں اُس کو دیکھ کر میں ہر پریشانی

جیسے صحرا میں مل جائے کسی پیاسے کو پانی

جب پہلے پہل سنی تھی میں نے اس کی کہانی

ہوئی تھی بہت مجھ کو اس شخص پر حیرانی

اِتنا عاجز ، اِتنا دلکش ، اِتنی معصوم ادا

یہ وہ ہستی ہے جسے کہتے ہیں وسیم بادامی

 

(عائشہ فلکؔ)

 

Ayesha Falak

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Monday, 17 June 2024

Kuch ishaar meri qoum ke liey by Ayesha Falak

کچھ اشعار میری قوم کے لیے

میری قوم سمجھے گی تبھی وطن سنبھلے گا

اور قوم تو ملک کی ضرورت ہوتی ہے نا

قوم ہی پھر جائے گی تو یہ ملک کدھر جائے گا

اس وطن عزیز کی بنیاد تو اسلام پر تھی نا

بنیاد ہی ہل جائے گی تو یہ ملک کدھر جائے گا

اور مہنگائی بڑھ جانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا

روٹی کی قدر ہی گھٹ جائے گی تو یہ ملک کدھر جائے گا

میری قوم کے لوگو اِک بات تو بتاؤ

تم ہی بکھر جاؤ گے تو یہ ملک کدھر جائے گا

اور جذبات کے باغ میں مہکتا ہے وطن

جذبے ہی مر جائیں گے تو یہ ملک کدھر جائے گا

 

(عائشہ فلک)

***************

Gazza ka inteqam by Ayesha Falak

 ( غزہ کا انتقام )

 

بروز حشر ہوگا جب ، حساب کا وقت

ہر اک پہ آئے گا جب، جواب کا وقت

خدا کے پاس آئیں گے، سب حساب لینے کو

ظالم پہ آئے گا تب ، زوال کا وقت

پوچھیں گے فرشتے، پوچھے گا ہر بشر

پوچھے گی یہ زمیں، پوچھے گا یہ فلک

پوچھے گی یہ فضاء، پوچھے گا ہر حجر

پوچھیں گے یہ درخت، پوچھے گا ہرشجر

پوچھیں گے ستارے، پوچھے گا رب کا عرش

پوچھے گا آفتاب، پوچھے گا خود قمر

پوچھے گا ہر بچے کی آنکھ کا آنسو

پوچھے گا ہر ماں کے دل سے بہا لہو

پوچھے گا ہر اک اک ذرہ غزہ کا

بے بس جب تھا، ہر باشندہ غزہ کا

انسان تو تھا وہاں، انسانیت کہاں تھی؟

روحیں تڑپ رہی تھیں، روحانیت کہاں تھی؟

ہو جائیں گے خاموش، نہ ہوگا تب جواب

خدا کی طرف سے ہوگا، ظالم پہ تب غذاب

بزدل بھی ہوں گے اُسی صف میں شمار تب

بزدلی کا ہوگا اُن سے، سوال جب

سر شرم سے ہوں گے، جھکے سب کے سب

آئے گا غزہ لینے ، اپنا انتقام جب

 

(عائشہ فلک)

*****************

Friday, 14 June 2024

Rooh me shigaf hen to kia hoa by ayesha falak

روح میں شگاف ہیں تو کیا ہوا
چہرے پر مسکان ہے تو کیا ہوا 
دل میں اِضطراب ہے تو کیا ہوا 
آنکھیں بے قرار ہیں تو کیا ہوا
نفرتوں کی جیت ہے،محبتوں کی ہار ہے 
 کچھ ایسے میرے حالات ہیں تو کیا ہوا
  جس کو اس نے چاہا وہ مل گیا اُسے 
یہ میرے رب کی شان ہے تو کیا ہوا 
اور جس کو ہم نے چاہا وہ ملا ہی نہیں فلک
 یہ مقدروں کی بات ہے تو کیا ہوا

Sunday, 12 May 2024

To kya hua by Ayesha Falak

روح میں شگاف ہیں تو کیا ہوا

چہرے پر مسکان ہے تو کیا ہوا

دل میں اِضطراب ہے تو کیا ہوا

آنکھیں بے قرار ہیں تو کیا ہوا

نفرتوں کی جیت ہے،محبتوں کی ہار ہے

کچھ ایسے میرے حالات ہیں تو کیا ہوا

جس کو اس نے چاہا وہ مل گیا اُسے

یہ میرے رب کی شان ہے تو کیا ہوا

اور جس کو ہم نے چاہا وہ ملا ہی نہیں فلک

یہ مقدروں کی بات ہے تو کیا ہوا

*******************