affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Falak Meer
Showing posts with label Falak Meer. Show all posts
Showing posts with label Falak Meer. Show all posts

Saturday, 23 January 2021

Poetry by Falak Meer


: از: فلک میر
میں نے لفظوں کو اشکوں کی صورت
آنکھوں سے بہتے دیکھا ھے
اور جذبوں کو بے مول ھوتے
سر محفل کئی بار دیکھا ھے
کچلا ھے کئی بار انا کو اپنی
وعدوں کو کئی بار ٹوٹتے دیکھا ھے
ہنستے ،بستے خوش گفتار لوگوں کو
کئی بار اپنے آپ سے لڑتے دیکھا ھے
جو کسی کی چاہ میں مر مٹنے کے دعویدار تھے
ان لوگوں کو اجنبی ،بے پروا ھوتے دیکھا ھے
کسی کی خاطر کوئی جینا چھوڑ نہیں دیتا
کسی کے جذبوں کی موت پہ،کسی کو زندہ ھوتے دیکھا ھے
یہ دنیا سراب،بس خام خیالی ھے *فلک*
کئی دیوانوں کو اس پر مٹتے ھوئے دیکھا ھے
 از:فلک میر


**مسافت گرچہ لمبی ھے
مگر لاحاصل تو نہیں نا!
آنکھیں گر اشکبار ہیں
بے رونق تو نہیں نا!
اداسی سی چھائی ھے
یہ مستقل تو نہیں نا!
ھم مسافر ضرور ہیں
بے منزل تو نہیں نا!
وقت بدلنے والا ھے
ھم مایوس تو نہیں نا!
اللّہ کی رحمت ساتھ ھے
ھم بے آسرا تو نہیں نا!
: از: فلک میر

تم ہی بتا دو 
کہ پتھر دل کیسے
موم ھوتے ہیں؟
کسی کے جی کہ مرنے پر
کسی کے مر کر جینے پر
تم ہی بتا دو
کہ عکس کیسے مٹتے ہیں
نظر کا نور جانے پر
یا آنکھیں چلے جانے پر
مجھے تم سے ہی
ھر سوال پوچھنا ھے
دلوں پہ لکھے ناموں کو
مٹایا کیسے جاتا ھے
وہ مٹ بھی جاتے ہیں؟
یا
خود کو مٹانا پڑتا ھے
کسی کو مارنا ھو اگر
تو کیا فقط
انتظار سے ہی مارا جاتا ھے
یا سولی پر لٹکا کہ پھر
زمانہ پتھر مارتا ھے
کسی کی ہنستی بستی
اور خوش رنگ زندگی کو
اگر زنگ لگانا ھو؟
تو کیا عمر بھر کا روگ
اسے لگایا جاتا ھے؟
جن کے نام کے حروف بھی
عقیدت سے تکتے تھے فلک
ان پر کیسے کج روائی کا
الزام لگایا جاتا ھے
: از : فلک میر
مجھے بھی کبھی اختیار حاصل ھو،
اور میں بھی کر سکوں نفرتیں بے پناہ
کسی کو منزل کے قریب تر لے آ کر
پھر چھوڑ دوں بے سبب یونہی تنہا
اور پھر جواز ڈھونڈ لاؤں ان گنت
مجبوریوں کی داستان سناوں اسے
یوں کہ ترک تعلق پر وہ سوال نہ کرے
باندھے رکھے خود کو عمر بھر مجھ سے
یوں کہ مرے نام کی تختی پکڑ کر
زمانے کے سوالوں پر بیگانگی برتے
میں بسا لوں اپنی دنیا الگ سی فلک
اور وہ مرے اعتبار کی سولی چڑھے

Monday, 12 October 2020

watan ke nam poetry by Falak Meer

وطن کے نام:
از: فلک میر
اے وطن میں تمھارا ھوں
میں فقط تمھاراہی تو ھوں
سر سے لے کر پاؤں تک
مری ہر جستجو ترے لیے ھے
آغاز سے لے کر انجام تلک
مری خوشی میں ترا ذکر ھے
پالینے سے لیکر کھو دینے تک
مرے جسم میں گردش کرتا
ھر قطرہ لہو کا تمھاراہی تو ھے
مجھے زندہ رکھتی سانسیں 
اور زندگی دیتی روح مری
سب تمھارا ہی تو ھے
مرا ھر رستہ،ھر اک منزل
ھر ٹھوکر،ھر کٹھن مرحلہ
ترے واسطے ہی تو جھیلتا ھوں
اے وطن یہ میر تمھارا ہی تو ھے
سانس آنے اور سانس جانے تلک

*****

اے مرے کم نصیب !!!
اے مرے واحد رقیب!!!
ہندوستان کے نام سے
مری سرحدوں پر!!
بتلائے بنا ہی
دھاوا بولنے والے!!
تم کشمیر کے اپنے ٹھرے
چلو تم باوفا!!!
اور ھم بے وفا
تم پارسا!!
ھم کج روا!!
فرق بس اک حرف کا
پھر کیوں ترے من کا
کوئی بھی گوشہ
آسودہ نہیں!!!
میں پرسکوں ھوں
تم بے چین کیوں؟؟؟
یہ فرق بھی تو ملا نہیں
ترے ھاتھوں میں
ھتھاروں کی جگمگاہٹ
مرے ھاتھ میں قلم کی زینت
تم مار دینے کے قائل 
اور میں سکوں کا متحمل

*******

مرے شہر کے اداس لوگو!!!
اداس رہنا اب چھوڑ دو تم
کہ وقت اب تو بدل چکا ھے
کوئی بھی تم کو اداس پا کر
کبھی نہ پوچھے گا کیا ھوا ھے
زمانے کی نظروں میں خود کو نہ حقیر جانو
کہ شہدا کا لہو تم سے حساب مانگے
ھمیں لوٹا دو وطن ھمارا!!!
جاؤ اداسی میں رہنے والو!!!

********

میں نے دیکھا تجھے کبھی بھی نہیں
پھر بھی تم کو چاہا ھے
یہ فلسفہ تو پھر غلط ٹھرا
کہ محبت آنکھوں کے رستے
دل میں اتر جایا کرتی ھے
تو نے جو کچھ کہا 
میں نے مان لیا
تو یکتا ھے،تو تنہا ھے
مرا تجھ پر ہی ایماں ھے
تو محبت ہی محبت ھے
مرا یقین محکم ھے
تو سمیع ھے ھر اک صدا کا
تو مصور ھے سارے جہاں کا
تو نے کہا تو عرش پر ٹھرا
اور مرا دل بہت اداس ھوا
اور جب مجھے احساس ھوا
کہ تو ،تو شہ رگ سے بھی قریب تر ھے
تو مرا دل خوشی سے جھوم اٹھا

*******

ایک نوٹ
کاش کہ میں ترے ھاتھ کا
اک کڑ کڑاتا ھوا نوٹ ھوتا
تو بڑے مان سے اور چاؤ سے
اک خزانے کی طرح مجھے سنبھالے پھرتی
گردش دوراں کے زیر اثر
جو تو نا امیدی میں گھری ھوتی
پھر فقط میں اور بس میں
تری امیدوں کا واحد مرکز ھوتا
تو مجھے کسی متاع کی طرح
اپنے ھاتھوں میں تھامے پھرتی
ترے ھر اٹکے کاموں پر
پھر اچانک مرا نکلنا ھوتا
تو جس شے پر ھاتھ رکھتی
وہ فقط تیری ھو جاتی
جو اگر میں تری تجوری میں
بڑے مان سے پڑا ھوتا

******

یہ تم ھر بار کیوں؟؟
مری اداسیوں کو
عشق کی نامزدگی کا 
چولہ پہنا کر
ان گنت سوال کرتے ھو
تم کیوں سمجھتے ھو؟؟
کہ مری روح جن زخموں سے
ھر بار گھائل رہتی ھے
وہ ناکامی عشق کے
چلائے گئے وار ھونگے
مری آنکھوں کے 
اشک بار ھونے کو
کیوں تم ھر بار؟؟
کسی کے چھوڑ جانے کا
صدقہ سمجھتے ھو؟؟
یہ روح تو!!!
انسانیت سے عاری درندوں کی
معصوموں کیساتھ ظلم کے
نئے باب کھولنے والوں کی
فتنہ پروری سے 
گھائل رہتی ھے
یہ اشک تو اہل وطن کی
بے حسی اور نادانی پر بہتے ہیں
یہ ھاتھ تو اب بھی لرزتے ہیں
سماعتیں اب بھی شکوہ کناں ہیں
مجھے عشق کی سزا کا
حقدار سمجھنے والو!!!
سنو!!!
میں شہیدوں کے لہو سے ھر روز
شرمندگی سی محسوس کرتا ھوں