affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Komal Noor
Showing posts with label Komal Noor. Show all posts
Showing posts with label Komal Noor. Show all posts

Thursday, 21 May 2020

Tera he dor hay by Komal Noor

"آج کے مسلمان کے نام جس کی مثال آج اس آگ کی طرح ہے جس کے اپنے ہی بعض حصے بعض حصوں کو جلا رہے ہیں اور اس کی تپش سے دشمن جاناں مستفید ہوکر خود کو زمانہ کے سامنے گرما کر اوج ثریا حاصل کرنا چاہتا ہے"

(((تیرا ہی دور ہے)))

سوچ وہ کوئی گماں نہیں
یہ درد ہے ،  کہ دردِ دوا نہیں
تیرے دل پہ تیرا  زور ہے
تیرا عشق ہے، تیرا سوز ہے
تو عکس رکھ ، تو مکاں بنا
تو رکھ قدم ، تو سماں بنا
تو دے دعا ، تو جہاں بنا
تو کہے تو اک عرض کروں!!
لفظوں میں یونہی بہا نہ کر
کبھی در بدر  پھیرا نہ کر
تو ان کہی باتوں کو سنا نہ کر
خود میں خود کا سنگ رکھ
ساز باز تو توڑ دے 
محبت کا نیا رنگ رکھ
شناسائی  رکھ ، کردار رکھ
ناحق کہیں جما نہ کر
تیرا ردھم تیرا جمال ہے
رنجش میں خود کو تباہ نہ کر
منظر سے پرے نہ ہٹ
ستارے جبین پر رکھ
مکتب بنا ، قلم رکھ
مقتل کو خونِ گلاب دے
اپنے تشخص کو برقرار رکھ
تو بس اتنا سا کام کر
دشمنِ جاناں سے نباہ نہ کر

Saturday, 2 May 2020

Darbar e muhabbat by Komal Noor

وحشت،خامشی،درد جیسا انجام حاضر ہے
جو کہتا ہے کہ محبت کا بھی دام حاضر ہے

نہ چھیڑ قصہ ، وہی لوگ حق پر  تھے
خطاوار چاہیے ، میرا نام حاضر ہے

شبنمِ پھول ،نہ میسر ہوا کا لمس مجھے
مگر  زندان میں تنہائی کا دوام حاضر ہے

کارِ دنیا میں میری صبح  گزر جاتی ہے
مگر تیری یاد کے لیے میری شام حاضر ہے

یہ کون شخص آیا ہے آج مہ خانے کہ
ساقی خود کہہ رہا ہے  جام حاضر ہے

کاش!دربارِ محبت میں مجھے پکارا جائے
میں کہوں ! حاضر ہے تیرا غلام حاضر ہے