affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Shayara Sahar
Showing posts with label Shayara Sahar. Show all posts
Showing posts with label Shayara Sahar. Show all posts

Friday, 18 April 2025

Aurat Poetry by Shayara Sahar



حوا سے سنتے آئے ہیں

عورت کی بے وقوفی کے قصے

عورت نے آدم کو

جنت سے نکالا

عورت نے جنگوں کے

میدانوں کو سجا ڈالا

 

جہنم کے گڑھے میں

عورتوں کو زیادہ پایا

دنیا کی آبادی میں بھی

عورت نے نام کمایا

 

زمانہ جاہلیت میں

عورت کو زندہ دفنایا

عورت کو کبھی

مال غنیمت سمجھ کر اڑایا

 

کبھی کنیز تو کبھی

رانی بن کر

خدمت گذار بنی رہی

عورت بنی تو بس

بے کار بنی

 

نبی نے عورت کو رحمت کہا

اس کے قدموں کی جگہ کو

جنت کہا

مرد کے آدھے دین

کو مکمل کرنے والی کہا

 

زمانہ گزرا

عورت واپس کوئلہ بنی

اک بار پھر اس نے

غلامی چنی

خود کی

دنیا کی

مرد کی

سوچ کی

سماج کی

 

عورت کبھی

باپ کے لئے

کمزور کڑی بنی

عورت کبھی

بھائی کے لئے

قربانی بنی

عورت کبھی

بچوں کے لیے

بوجھ بنی

عورت کبھی

شوہر کے لیے

فقط غلام بنی

 

یہ نہ کرو

یہ لڑکوں کے کام ہے

یہ نہ کھاؤ

یہ بھائی کے لئے بنا ہے

یہ نہ پہنو

لوگ کیا کہیں گے

ایسے نہ رہو

کوئی شادی نہیں کرے گا

ارے ارے کتنا ہستی ہو

حیا نہیں ہے تم میں

ارے کتنی خاموش ہے

زبان نہیں ہے تم میں

بہت موٹی ہو

کم کھایا کرو

بہت دبلی ہو

کچھ کھایا کرو

 

قد لمبا ہے

ہمارا بیٹا نظر ہی نہیں آئے گا

قد بہت چھوٹا ہے

تم نظر ہی نہیں آؤ گی

رنگ…. سانولا ہے

یہ فلاہ لیپ لگایا کرو

میک اپ کرا کرو

ارے تم کتنا میک اپ لگاتی ہو

قدرتی خوبصورتی بھی کوئی چیز ہے

 

تعلیم یافتہ ہو…..

بہت مغرور

ضدی

بداخلاق

بد کردار

اور نالائق ہو

 

ان پڑھ ہو….

جاہل ہے

گائے ہے گائے

بے کار لڑکی ہے

اسے تو کچھ بھی نہیں آتا

 

تم نامکمل ہو

اک مرد کے بنا

تم نامکمل ہو

اولاد کے بنا

تم بے رنگ ہو شوہر کے بنا

تم بد قسمت ہو شوہر کے بنا

 

 

یہ الزام

یہ فتوی

عورت نے

عورت پر جاری کئے ہیں

 

عورت

ہستی نہیں

عورت

کی کوئی ہستی نہیں

عورت

گھر کا سامان ہے

عورت

گھر کا مہمان ہے

 

عورت جنگیں نہیں لڑتی

عورت مقدمے نہیں کرتی

عورت وعدے نہیں کرتی

عورت ارادے نہیں کرتی

عورت یہ نہیں کرتی

عورت وہ نہیں کرتی

 

عورت خالی مکان ہے

خوبصورت بھی لگے

اگر بند زبان ہے

عورت کے لیے مرد سلطان ہے

عورت کب کر انسان ہے

 

بھول گئے ہیں لوگ

انسان

مرد

اور عورت خود

 

وہ حضرت آسیہ تھیں

جو فرعون سے لڑ گئی

وہ حضرت مریم تھی

جو زمانے سے بھڑ گئی

وہ ملکہ سبا تھی

جس سے سلیمان علیہ السلام

متاثر ہوئے

وہ عورت تھی

جو ایوب علیہ السلام کا

سیارہ بنی

وہ ختیجہ تھیں

جنہوں نے دین کا پرچم بلند کیا

وہ حضرت عائشہ صدیقہ ہیں

جنہوں نے احمد کے دین کو زندہ رکھا

 

عورت جنت کا پھول ہے

عورت زمین کا رنگ ہے

عورت نرم دل ہے تو

عورت خطرناک تلوار ہے

عورت گلستان ہے تو

عورت قبرستان ہے

 

عورت موتی ہے

عورت ہیرا ہے

عورت کو رلانا

گناہ کبیرہ ہے

 

عورت باوقار ہے

عورت کا اونچا کردار ہے

عورت اپنے آپ میں پوری ہے

عورت سانسوں کی مانند ضروری ہے

 

گر عورت عورت کا مان رکھے

تو دنیا عورت کو یاد رکھے

جیسے

کلپنا چاولا

سنیتا ولیم

رضیہ سلطانہ

لکشمی بائی

جیسے

میں

اور

تم……….


شاعرہ سحر

Sunday, 13 April 2025

Meri kitab Poetry by Shayara Sahar

میری کتاب

 

میں نے کوشش کی مگر میں ہار گئی

امیروں کی ڈور پکڑ کر میں نے دوبارہ کوشش کی

مگر مقدر کے ہاتھوں میں دوبارہ ہار گئی

میرے لیے کوشش ضرورت تھی

میں چاہتی تھی کہ ہار میری عادت یا فطرت نہ بنے

میں کوشش کرتی رہی مگر……..

 

امتحان کے پرچے کو دیکھ کر میں نے ایک آہ بھری

قلم کو اٹھا کر جواب لکھنے شروع کیے

کچھ سوال آسان تھے تو کچھ بہت مشکل

کچھ تو دماغ سے پرے تھے

میں نے ایک لمحہ رک کر آس پاس نظر دوڑائی

سب مصروف تھے

اپنی اپنی کوششوں میں…….

 

میں نے وقت دیکھا پانچ منٹ باقی تھے

ڈھائی گھنٹے کا وقت ریت سا گزر گیا

ایگزامنر نے انسر شیٹ چھین لی

سب کے چہرے پرسکون تھے

سوائے میرے

حالانکہ میں نے اپنی پوری کوشش کی تھی…..

 

نتیجہ میرے ہاتھ میں تھا

میں نے ہمت کر کے اپنی آنکھیں کھولی

ہمیشہ کی طرح ناکام رہی

لاکھ کوششوں کے باوجود میں عام رہی…..

 

کتب کھانے کے کونے میں بیٹھی

پنوں کو پلٹتی ہوئی میں

چہرے پر بے حد بیزارگی لیے

بالوں کو نوچتے ہوئے

پریشان ہو رہی تھی……

 

میں نے قلم اٹھا کر علم ریاضی کے سوال

حل کرنا شروع کیے

میرے کانوں میں کوئی اہٹ سنائی دی

پرسکون، مطمئن ، ہمدرد، اور مرہم سی

میں نے نظر اٹھائی

دیوار کے کونے سے لگی ریک میں

ایک کتاب

تاروں کی مانند جگمگا رہی تھی……

 

میں نے نظر انداز کرنا چاہا

مگر نہیں کر پائی

ہمت کرتے ہوئے میں

اس کتاب کے پاس آئی

کتاب کو آہستہ لے کر

میں نے پہلا پنہ کھولا

"آہہ……آخر تم نے مجھے ڈھونڈ ہی لیا"

بڑے بڑے لفظوں میں لکھی وہ عبارت

کو دیکھ کر میں نے فورا وہ کتاب بند کر دی

فورا اپنا سامان لے کر

اپنی پوری رفتار سے باہر کی طرف بھاگی

عجیب تھا….. بہت زیادہ عجیب

 

خالی سڑک پر صرف میں تھی

اور میری تیزی سے چلتی دھڑکن

میرے ماؤف ذہن کو اس عبارت میں

الجھا کر رکھ دیا تھا……

 

اپنی چھوٹے سے کمرے میں

سٹڈی ٹیبل پر بیٹھے

میرے سامنے علم ریاضی کے سوال تھے

اور ایک طرف گرم دودھ کا گلاس

جس سے دھواں ہوا میں شامل ہو رہا تھا

میں نے دونوں کو باری باری دیکھا

کتاب کھولا تو

وہ جملہ ایک بار پھر ذہن میں آیا

"کیا وہ کتاب مجھے جانتی ہے؟………

 

 

دن گزرتے گئے

میں نے دوبارہ کتب خانے میں قدم نہیں رکھا

ہمت ہی نہیں ہوئی

امتحان میں پوری کوشش کے باوجود بھی

ہار ہی نصیب ہوئی

کیا ہار میرا مقدر بن گئی تھی…….

 

وہی ہوا جو گمان تھا

ہر بار کی طرح عام سے نمبروں سے

پاس ہوئی تھی میں

کیوں قسمت کا دروازہ بند تھا

کیوں میں ہر کوشش کے باوجود تھک جاتی تھی…..

 

 

اسکول سے پڑھائی ختم کر کے

میں سڑک پر اکیلی چل رہی تھی

بال بری طرح بکھرے تھے

اور اسکول یونیفارم پر

سیاہی کے نشان تھے

آنکھوں میں نیند

اور بہت گہری تھکن تھی…….

 

 

میرے قدم بے اختیار اس کو تو کھانے کے آگے رک گئے

اور ساتھ ہی ساتھ میرا دل

"کیا وہی حل ہے میرا.."

 

میں نے ڈرتے ڈرتے

کتب کھانے کی طرف قدم بڑھائے

بالکل مدہم سانسوں کی طرح

آہستہ آہستہ……

 

 

اس کتاب کے سامنے کھڑے ہو کر

میں نے دوبارہ خود کو روکا

مگر……..

 

میرے ہاتھوں نے وہ کتاب کھول دی تھی

وہی عبارت

اسی شدت سے میرے ذہن میں اتری

"آہ…. آخر تم نے مجھے ڈھونڈ ہی لیا"

 

دوسرا پنہ پلٹا تو

حیرت آنکھوں میں اتری

"ڈرنا نہیں

میں تمہارے ساتھ ہوں

ہر دم ہر پل"

"کیا مجھے کوئی جانتا ہے؟"

میں نے کتاب کو فورا بند کر دیا

اس کو سینے سے لگا کر

گھر پہنچی……

 

کتاب کو ڈیسک پر رکھ کر

میں کھانا کھانے چلی گئی

عام گفتگو تھی

ماں باپ کے روز مرہ کے سوال

وہی سبزی کی مہک

اور وہی عام سا ذائقہ…..

 

میں نے کپڑے بدل کر

کتاب کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی

وہ کتاب……..

واقع اس کے سوالوں کا جواب تھی

اس کے ہر مسئلے کا حل……

 

اس کتاب کے کاغذوں میں

کسی نے بڑے آسان طریقے سے

سوالوں کو حل کر رکھا تھا

واقعی بہت آسان

ایک  دل فریب مسکان

میرے چہرے پر آئی

زندگی کی طرح….

 

امتحان انے والے تھے

میں نے اس کتاب کا سہارا لیا

ہر راہ

ہر سوال

میرے لیے آسان بن چکا تھا

وہ کتاب وہی بتاتی تھی

جو میں جاننا چاہتی تھی

وہ میرے لئے گوگل بن چکی تھی…..

 

امتحان کا دن

عام سی گھبراہٹ

مگر مطمئن سی سانسیں

پریس کئے ہوئے کپڑوں

نے مجھے پر اعتماد بنا رکھا تھا

بال کمر پر پھیل کر

مجھے سہارا دے رہے تھے

شاید…. یہ درست راہ تھی……

 

سوالی پرچہ

میرے لیے کبھی اتنا آسان نہیں تھا

ہر سوال

مانو مجھے پہلے سے معلوم تھا

آنکھوں میں چمک

اور انگلیوں کی تیز رفتار

وقت سے پہلے

سارے سوال حل ہو چکے تھے

پہلی مرتبہ

عجیب تھا مگر خاص تھا…….

 

نتیجہ کا دن

مگر خوف کہاں تھا

شاید

کتب خانے کی

کسی دیوار میں

راز کی مانند

دفن تھا

 

میرے والد نے ویب سائٹ کھولی

میرے رزلٹ نے

ان کی آنکھوں کو حیرت سے

بڑا کر دیا تھا

میں نے اول درجے سے

کامیابی حاصل کی تھی

میری خوشی کی انتہا نہیں تھی

میں پہلی بار زمین پر قدم رکھ کر

آسمان میں اڑ رہی تھی…..

 

آخر کار میں

میں کامیاب ہوئی

میں نے خود کے ڈر کو ہرا دیا

واقع میں نے جیت کو پا لیا

کیا یہ اتنا آسان تھا

بہت مشکل تھا

دل نے جواب دیا

 

جشن کے بعد

میں نے اپنی کتاب کا

آخری پنہ کھولا

" دیکھا جیت گئی نہ تم"

عبارت پر انگلی پھیرتے ہوئے

مجھے احساس ہوا کہ

لکھنے والے کو

مجھ پر مجھ سے زیادہ یقین تھا

جیسے وہ بہت زیادہ پرجوش ہوا تھا

کیا اس کی جیت کا

اس سے زیادہ بھی کسی کو انتظار تھا

ہاں……..

 

 

16 سال کی عمر میں

میری زندگی میں پہلی بار

محبت کی

بنا دیکھے

بنا جانے

اور بنا سوچے

کہاپنے دل کی وراثت اس شخص کو دے دی

"کاش تم میرے سامنے ہوتے".......

 

مجھے پتہ نہیں تھا

وہ کتاب مجھے سنتی ہے

رات کی مانند

نیند کی مانند

آئنہ کی مانند

یا عکس کے مانند……

 

آخری دن تھا

سب جمع تھے

یادیں اکٹھا کر رہی تھے

سفید لباس میں

میری سیاہی کے نشان بناتے ہوئے

استادوں کو تحائف دے کر

دوستوں اور عزیزوں کو گلے لگا کر

الودا کہا جا رہا تھا…..

 

 

ان سب کو دیکھ کر

مایوسی سے میری آنکھیں نم ہوئیں

ان کی طرح میری یادیں

خوشگوار نہیں تھی

بلکہ تلخ تھی

"کیسا لگ رہا ہے جیت کر"

اچانک آواز پر

میں نے دائیں طرف دیکھا

ہاں

وہ وہی کتاب تھا

وہی عبارت تھا

کالی شرٹ اور سفید پینٹ میں ملبوس

بالوں کو آگے کیے ہوئے

سنہری بڑی آنکھیں

دلکش چہرہ

دراز قد

کیا میں نے اسے کبھی دیکھا تھا

شاید ہاں…….

 

باسکیٹ بال کے گراؤنڈ میں

پسینے سے شرابور

ہاں ہاں کینٹین میں

آوارہ گردی کرتے ہوئے

ہاں آیا

یہ میرا سینیر تھا

کیا وہ واقع میری کی کتاب تھا……

 

"ہاں میں ہی ہوں

تمہاری اپنی کتاب"

میں نے چونک کر

اپنی پلکیں جھپکائ

میں نے کچھ بولا نہیں تھا

" سن رہا ہوں"

وہ اب بھی سامنے دیکھ رہا تھا

"کیسے"

" میں کتاب ہوں تمہاری

تمہارے پریشان پا کر

تنہا پا کر

لکھی گئی کتاب"

مگر میں نے کیوں پوچھا

" ایسے ہی"

کندھے اچکا دیے گئے

بڑا آسان اور سادہ جواب تھا

" آگے بھی تمہاری کتاب بن کر رہوں گا

آئینہ کی طرح

عکس کی طرح

رات کی طرح

نیند کی طرح……"

 

اس کی کتاب

آج واقع بول رہی تھی

اور بہت خوبصورت

" اس احساس کا نام نہیں ہے میرے پاس"

" مگر میرے پاس ہے"

میں نے فورا کہا

وہ چونک کر

میری طرف متوجہ ہوا

پھر مسکرایا

شاید

اسے میرا جواب پسند آیا تھا

"کیا"

وہ میرے قد تک جهک کر

نظریں ملا کر بولا

" محبت

عبادت

تقویت

شدت

جنونیت

راحت

اور مزید ہیں"

وہ ایک بار پھر مسکرایا

شاید وہ سننا اور بولنا چاہتا تھا

 

" منظور ہے؟

میری عمر بھر کے لیے

کتاب بننا"

اس نے ایک لمحہ لیا

پھر اثبات میں سر ہلایا

پرجوش اور بے حد خوش

 

"منظور ہے تمہیں؟

مجھے تاعمر پڑھنا

میرے لفظوں کو

اپنا حل بنانا

اپنا راستہ بنانا"

میں نے ایک لمحہ لیا

پھر پرجوش انداز میں

اثبات میں سر ہلایا

میری واقع جیت ہوئی تھی

لکھاری اور کتاب

دونوں میری قسمت تھے

خوبصورت

حسین ذہین

وہ میری کتاب تھا

ہمیشہ کے لئے…….. 


شکریہ قارین