affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Tehseen Ali
Showing posts with label Tehseen Ali. Show all posts
Showing posts with label Tehseen Ali. Show all posts

Wednesday, 8 December 2021

Kya acha hai by Tehseen Ali Naqvi

اعتبار اچھا ہے۔۔۔۔؟

کیا بخار اچھا ہے۔۔۔۔؟

 

دوستوں سے بدظن ہوں

گل سے خار اچھا ہے

 

وہ کیے پہ ہے اپنے

شرم سار....؟ اچھا ہے

 

جو برائی سے روکے

ایسا یار اچھا ہے

 

چھوڑو نوکری بھائی

کاروبار اچھا ہے

 

نفرتوں سے کیا حاصل

دیکھ!!!......... پیار اچھا ہے

 

قتل پر مرے بولے

یہ شکار اچھا ہے

 

تحسین علی نقوی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Friday, 21 May 2021

Rasty mein by Tehseen Ali Naqvi

حساب لینے لگے وہ بُلا کے رستے میں

کیا زلیل مُجھے یوں بٹھا کے رستے میں

 

مرے رفیق سبھی خوش ہیں یوں کہ میں جانوں

مجھے ہی خار ملے ہیں وفا کے رستے میں

 

شراب چھوڑ کے تُو راہِ حق پہ چل کے تو دیکھ

دعائیں دیں گے فرشتے بھی آ کے رستے میں

 

کہاں سلام جوابِ سلام تک نہ دیا

گزر گئے وہ مرا دل جلا کے رستے میں

 

میں وہ ہوں جسکو ہر اک شخص ہی بُرا جانے

کوئی مُجھے نہ مِلا مُسکرا کے رستے میں

 

کہا بھی میں نے چلیں گھر ہے پاس میں ہی مرا

وہ بس کھڑے ہی رہے منہ بنا کے رستے میں

 

تحسین علی نقوی

Tuesday, 11 May 2021

Kidher dekhty hain by Tehseen Ali Naqvi

کدھر دیکھنا تھا کدھر دیکھتے ہیں

یہ راہی لحد کے سحر دیکھتے ہیں

 

اُنھیں آنکھ اٹھا کر اگر دیکھتے ہیں

تو کہتے ہیں فوراً کدھر دیکھتے ہیں ؟

 

مریضِ غمِ ہجر کی موت بہتر

مگر یہ کہاں چارہ گر  دیکھتے ہیں

 

ملیں خواب میں مجھ سے موسیٰ تو پوچھوں

تجلی کا اب بھی اثر دیکھتے ہیں ؟

 

نہیں تیرے در پر سوالی جو بنتے

بھٹکتا اُنھیں دربدر دیکھتے ہیں

 

کہاں تک کوئی اپنے دل کو سنبھالے

جو ہم سے ہو سکتا تھا کر دیکھتے ہیں

 

ہمیشہ جہنم کے ڈر سے کیے ہیں

محبت کے سجدے بھی کر دیکھتے ہیں

 

اُنھیں ہے غرض اپنے ظُلم و ستم سے

کہاں میرا زخمِ جگر دیکھتے ہیں

 

گزرتے  نہیں ہیں یہ کچھ دن بھی ہم سے

یہاں لوگ عمرِ خضر دیکھتے ہیں

 

تحسین علی نقوی

Saturday, 19 September 2020

Agarche kam achha ab by Tehseen Ali

اگرچہ کام اچھا اب سبھی سے ہو نہیں سکتا
جو کرنا چاہے تو پھر کیا کسی سے ہو نہیں سکتا 

کبھی ہم ایک تھے لیکن یہ تم نے کیا غضب ڈھایا 
بھلائی کا صلہ یارو بدی سے ہو نہیں سکتا 

مجازی عشق ہو چاہے مگر کچھ تو مرائل ہیں 
فقط آنکھوں کا لڑنا کیا؟...... لڑی سے ہو نہیں سکتا  

غنیمت ہو جو کر لیں اب کسی کے دل پہ ہم قابو 
خود اپنے دل پہ قابو اب ہمی سے ہو نہیں سکتا 
 
بظاہر آپ کے طرزِ سخن میں خوب ہے لیکن 
مگر ہر فیصلہ اب خامشی سے ہو نہیں سکتا 

تمہارے لمس کی خوشبو جو کرتی ہے چمن پاگل 
یہ غنچے کر نہیں سکتے کلی سے ہو نہیں سکتا 

بلا لیں اب مجھے یا آپ وہ تشریف لے آئیں
یہ اُن تک ہے فقط میری خوشی سے ہو نہیں سکتا

بھری محفل میں اکثر طنز سے کہتے ہیں وہ مجھ سے 
کہ اچھا کام تو تحسیں علی سے ہو نہیں سکتا

تحسین علی

**********

جب اُنکی نگاہوں کو ہم دیکھتے ہیں 
بڑے رشک سے جام وجم دیکھتے ہیں 

کہاں اپنے ظلم و ستم دیکھتے ہیں 
وہ ہنس کر میری آنکھیں نم دیکھتے ہیں 

کبھی دیکھتے ہیں وہ مشکِ سکینہ 
کبھی آنکھ اُٹھا کر علم دیکھتے ہیں 

نہ ہو کیوں مجھے رشک قسمت پہ اُنکی 
جو ہر روز دیر و حرم دیکھتے ہیں 

وہ چاہتے تو ہیں آنا بانہوں میں میری 
مگر پھر حیاو شرم دیکھتے ہیں 

الہی یہ کیسا ہے دن آن پہنچا 
وہ خود آکے میرے زخم دیکھتے ہیں 

انگھوروں کے شربت تمہی کو مبارک 
شرابِ طہورہ کو ہم دیکھتے ہیں

بڑے چپکے چپکے بھری بزم میں ہم 
حسینوں کی زلفوں کے خم دیکھتے ہیں 

تحسین اُنکی آنکھوں کے صدقے میں جاؤں 
جو شام غریباں کے غم دیکھتے ہیں 

تحسین علی

Monday, 11 May 2020

Barbad na kr by Tehseen Ali


شرابِ ارغوانی مجھے برباد نہ کردے 
 یہ تیری مست جوانی مجھے برباد نہ کردے

 ٹھیک تھے تیرے ظلم وستم ہی مجھ پر
اب یہ خوش کلامی مجھے برباد نہ کردے

جو تیرے ہجر کی راتوں میرے لبوں نے کری
ایسی نوحہ خوانی مجھے برباد نہ کردے

اس قدر عنایت پہ میں قربان مگر
یہ تیری بادہ خرامی مجھے برباد نہ کردے

ہر حکم تیرا مانوں پھر بھی یہی ڈر ہے
کہیں اک بھی نافرمانی مجھے برباد نہ کردے

دل بھرتا ہی نہیں گناہوں سے
 یہ جوانی مجھے برباد نہ کردے

 گھٹیا لوگوں سے میں نہیں اُلجھا
کہیں بدزبانی مجھے برباد نہ کردے

 تحسین خواہشِ موت عشقِ مجازی میں
ایسی نادانی مجھے برباد نہ کردے
 شاعر: تحسینؔ علی