affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Monday, 11 March 2024

Woh shakhas bakamal tha by Farhat Ahmad

وہ شخص باکمال تھا

حسن کی اک چال تھا

دردِ دل سے بے حال تھا

بس عشق میں نڈھال تھا

ہر لفظ اس کی زبان پے

فقط تھے میرے ہی نام کے

ہر وقت اک احساس تھا

پر پھر بھی نا پاس تھا

وہ شخص باکمال تھا

حسن کی اک چال تھا

دردِ دل سے بے حال تھا

بس عشق میں نڈھال تھا

Name: Farhat Ahmad

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Oh Foggy Night by Syeda Tehnyat Fatima Naqvi

Oh Foggy Night

Oh foggy night! You have thousand sights

 

A sight of a silent moon that gazes the fogg  behind the autumn's dry trees

 

A sight of silent stars which see the sad stars of the earth

 

A sight of autumn's yellow leaves which afraid of your darkness

 

I sight of pleasure which gaines from your fragrance

 

 Written by Syeda Tehnyat Fatima Naqvi

Saturday, 9 March 2024

Mohabbat Khuda sy by Mani Zardari

کر محبت خدا سے ای بندیا تو پا لے گا سب کچھ اس کو پا کر رک یقین اتنا خد پر کے خود خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

Mani zardari

***********

 

Chalo is paar chalty hain by Bint e Khuram Naqvi

”چلو اس پار چلتے ہیں “

چلو نا یار چلتے ہیں

چلو اس پار چلتے ہیں

جہاں منظر سہانا ہو

نا نفرت ہو یارانہ ہو

جہاں بارش کی رم جھم ہو

جہاں بوندں کی چھم چھم ہو

جہاں پھولوں کا گلشن ہو

جہاں تاروں کا جھرمٹ ہو

عقیدت ہو مروت ہو

محبت ہی محبت ہو

بھٹکتی راہیں ہوں لیکن

وہاں ہادی میسر ہو

چلو غم خوار چلتے ہیں

چلو اس پار چلتے ہیں

 

بنتِ خرم نقوی

***************

Rizq khuda deta hai by Muhammad Usman

ہے جان جس میں، اسے رزق خدا دیتا ہے

پتھر میں بھی کیڑے کو وہ غذا دیتا ہے

 

بندے ہیں جو اس کے، کرتا ہے انہیں راضی

کھانا تو وہ دشمنوں کو بھی کِھلا دیتا ہے

 

وہ چاہے تو بنے نمرود! خوراک مچھر کی!

حکم سے وہ اپنے، آگ کو گلزار بنا دیتا ہے

 

گر ہو رحمت اس کی تو، لگیں پار موسیٰ

برسے جو قہر! تو فرعون غرقِ دریا ہوتا ہے

 

اسی کی حکمت سے، گئے یونس علیہ السلام پیٹ میں مچھلی کے

قدرت سے وہ اپنی، نوح علیہ السلام کو طوفان سے بچا لیتا ہے

 

جو چاہے وہ تو، چِر جائیں زکریا علیہ السلام آرے سے

چاہے تو چُھری سے، اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیتا ہے

 

یعقوب علیہ السلام سے، یوسف علیہ السلام بچھڑے، ڈالے گئے کنویں میں

چاہے تو آ جائے خوشبو کوسوں سے،وہ بچھڑے ہوؤں کو ملوا دیتا ہے

 

بکے تھے مصر کے جن بازاروں میں کبھی یوسف علیہ السلام

امر سے وہ اپنے، یوسف علیہ السلام کو اسی مصر کا بادشاہ بنا دیتا ہے

 

ابابیلیں بن گئیں نگہبانِ کعبہ! ہوا تباہ لشکرِ ابرہہ

یہ عظمت ہے اس کی، پرندوں سے لشکر مروا لیتا ہے

 

کیا جو شک بوجہل نے نبوتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم میں

چاند ہوا ٹکڑے،کنکروں سے کلمے پڑھوا دیتا ہے

 

دن سے نکلے رات کی سیاہی، رات سے دن کا اجالا

سورج سے چمکائے دن کو،تاروں سے رات کو جلا دیتا ہے

 

ہیں یہ سارے نشاں اسی کی قدرتوں کے امین!

کر لے گر اس کا یقیں عثمان! تو مؤمن وہ بنا دیتا ہے۔


*************

Friday, 8 March 2024

Poetry by Malaika Mehfooz






Poetry by Malaika Mehfooz

 

محبت کو یکطرفہ مت کہو

یہ الگ بات ہے وہ اقرار نہیں کرتے

مگر پیار بہت کرتے ہے

امید کی اسی ایک کرن پے تو جی رہےہے

کے وہ ہم پر اعتبار بہت کرتے ہے

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

ہم تجھے دریا تو لکھتے رہے

لیکن ہمیں کوئی غرض پیاس نہیں

لوگ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹ بہت بولتے ہے

لیکن سچ میں وہ مٹھاس نہیں

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

آج کچھ مانگو تو ملے گا کیا

یا ہمارے نصیب کا بھی ہے کسی اور کو ملنا

ذیادہ کچھ نہیں بس ایک چھوٹی سی فرمائش ہے

پہلے کی طرح ہنس کے خدا خافظ کہنا اور گلے لگا کے ملنا

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

اے چاند ہم دھو دیتے تیرے داغ

لیکن تجھ تک رسائی مشکل ہے

اس دنیا میں بہت کچھ مشکل ہےلیکن

محبت سے مٹانا رسوائی مشکل ہے

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

گرتے گرتے پایا ہے منزل کو

اور بہت کچھ سیکھا ہے ٹھوکر میں

یہ الگ بات ہے کہ پیش نہی کیے اپنی بے گناہی کے ثبوت

ویسے تو بہت خط پڑے ہے ان کے میرے لاکر میں

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

نہ پوچھو مجھ سےمحبت کے قصے

پرانے ہے دل کو دُکھانے لگے ہے

میری آنکھوں میں تھے جو خواب اُس کے

اب راتوں کو وہ بھی جگانے لگے ہے

اُس کی یادیں جو ہے پاس امانت میرے

دل پے گہرے زخم بنانے لگے ہے

اُسے بولو میرے سامنے نہ آیا کرے اب

اُسی کی خاطر ہم خود کو مٹانے لگے ہے

قصور آنکھوں کا تھا تو سزا بھی اِنہی کو ملتی نہ

کیوں دل پر ہی کسی کے نشانے لگے ہے

اِسی لیے اب خاموش ہو بیٹھی ہوں

اُس کی جھوٹی محبت کے آثار مجھ میں بھی نظر آنے لگے ہے😔

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

تیری یاد میں جو جلائے تھے دئیے ہم

اسی مشعل میں تم نے جلایا مجھ کو

تجھے کیا بتاؤتنہائی میں بھی اسی عشق نے آکر ستایامجھ کو

اسے معلوم تھا کہ مجھے پھول بہت پسند ہے

کانٹوں پے آکر سلایا مجھ کو

لوگ کہتے ہیں کہ عشق ہساتا ہے

اسی کمبخت عشق نے تو رُلایا مجھ کو

ہم کہنے ہی والے تھے کہ ہم تم کو چاہتے ہے

وہ کسی اور کو چاہتا ہے اُس نے آکر بتایا مجھ کو🥹

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

ہم یوں ہی مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں پر سجائے بیٹھے ہے

اور نہ جانے کتنے غم اپنے دل میں چھپائے بیٹھے ہے

تجھے یاد کر کے روتے ہے

اور تیری تصویر کو سینے سے لگائے بیٹھے ہے

دل میں تیرا خیال رہتا ہے اور آنکھوں کو تیرے دیدار کا انتظار

ہم کسی سے کیا گلہ کرے ہم اپنے دل کے ستائے بیٹھے ہے

اب سوچ لیا بھروسہ نہ کرے گے دل پر

کیونکہ ہم اپنے دل کو آزمائے بیٹھے ہے

ہم کہاں ہے اور کہاں نہیں کچھ خبر ہی نہیں

جب سے دیکھا ہے اُسے ہم اپنے خوش گنوا بیٹھے ہے

وہ ہمیں یاد کرے یا نہ کرے

ہم اُس کی یا کو اپنے دل میں بسائے بیٹھے ہے🫶

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

میں سب جانتی ہوں

پھر بھی کوئی دُکھ نہیں ہے

وہ میرے ساتھ تو رہتی ہے

مگر خوش نہیں ہو سکتا

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

تم آؤ تو کسی دن

ہم پیار کے گیت گائے گے

لفظوں کو چائے پر بلائے گے

پھر تم پر غزل بنائے گے🫵

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

لکھنے پے آؤں تو کیا کیا لکھ دوں

تیرے ساتھ رہنا ہے تیرا ہمدم لکھ دوں

ذہن میں جو پہلا خیال آتا ہے وہ تیرا ہے

اور دل کہتا ہے اسے تیرا پابند لکھ دوں

Malaika Mehfooz

٭٭٭٭٭٭٭

Monday, 4 March 2024

Poetry by Malaika Mehfooz

تم ملے تھے وہاں مجھے جہاں محبتوں کے باغ تھے

گیت تھے نغمے تھے

سُر تھے اور ساز تھے

آنکھوں نے صرف تمہیں دیکھا

دل نے صرف تمہیں چاہا

قسم سے تم لا جواب تھے

خزاں کی رُت میں بہار تھے

گلوں کا تم نکھار تھے

چنبیلی، موتیا، اور گیندا

یوں پھول تو ہزار تھے

لیکن اُن میں تم گلاب تھے

مل کر تم ہی جدا ہوئے تھے

بچھڑ کر تم ہی خفا ہوئے تھے

میرے تو زہن ودل پر سوار تھے

نا جانے تم حقیقت تھے یا

یہ سب میرے خواب تھے

Malaika Mehfooz

************

دو کشتیوں میں سوار

کتنے عجیب ہے ہم

کبھی وہ قصور وار تو

کبھی بے گناہ لگتی ہے

پیار ہے ہمیں تنہاء چاند

اور اُداس راتوں سے

ہماری محبت بھی اب ہمیں

رسوا لگتی ہے

ملنا نہ ملنا تو مقدر کی بات ہے

کبھی سوچا ہے

چاندنی کیوں چاند سے جدا لگتی ہے

کبھی تو تنہائی میں بیٹھ کر

اسے یاد کرنا اچھا لگتا ہے

کبھی یہ تنہائی ہمیں جینے کی سزا لگتی ہے

لوگ کہتے ہیں ساری غلطی دل کی ہے

ہمیں تو یہ آنکھوں کی خطا لگتی ہے

Malaika Mehfooz

************

ہم پر غموں کے پہرے ہے

کچھ ذخم بہت گہرے ہے

تم ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہو

جبکہ ہم تمہارے لیے چلتے چلتے ٹھہرے ہے

Malaika Mehfooz

Tamasha by Eishal

نظم کانام : تماشا

شاعرہ : عیشال

نا رنگ کی فکر نا روغن کی پرواہ

او تم بھی بیٹھو دیکھو جی بھر کر

یہ عزت میری ہے یا ہے ایک لطیفہ

جسے سب گلی گلی میں اچھالے، کرم کر

تماشا تماشا تماشا لگا ہے

 

دیکھو کالی یا  نیلی پیلی ہو جاووں

دکھاوں  تم کو میں یہ دل کیا چیر کر

اسے چاند کے خول میں بھی  بند کر لو

دیکھے گا تمہیں نیلا پیلا ہی بن کر

تماشا تماشا تماشا لگا ہے