affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Fatima Farooq
Showing posts with label Fatima Farooq. Show all posts
Showing posts with label Fatima Farooq. Show all posts

Saturday, 19 September 2020

Mein chahta hon by Fatima Farooq

میں چاہتا ہوں کہ لب ہلیں_
کوئی لفظ گِرے،اور بات چھڑے
ہوا کی تال پہ لفظ اُس کے_
یوں رقص کریں کہ ساز چھڑے
پھر وہ باتیں کرتا جائے_
کچھ میری اپنی کہتا جائے__

میں چاہتا ہوں کہ ایسا ہو__
اور یہ بھی کہ نہ ایسا ہو__

میں چاہتا ہوں کہ گرد چَھٹے__
اِس خواب کی اب تعبیر بھی ہو
کسی گہری شام کے سائے میں_
مدہوش ہوا کی لہریں ہوں
اک وقت ہوا ہے اُس کو دیکھے
کاش کبھی تو سامنا ہو
میں چاہتا ہوں وہ دیکھے مجھے_
اور یہ بھی کہ نہ ایسا ہو_

میں چاہتا ہوں کہ ایسا ہو_
اور یہ بھی کہ نہ ایسا ہو_

Thursday, 20 August 2020

meri sadgi par woh marta tha by Fatima Farooq

میری سادگی پہ وہ مر مٹا__
جسے شوخیوں میں کمال تھا

ہر  بات  روحِ بزم  تھی_
اُسے گفتگو میں کمال تھا

قابلِ   التفات   تھا__
وہ قمر جو بے مثال تھا

رنگین و رعنا  حُسن  تھا_
کیا خوب رنگ و جمال تھا

بِن  کہے  ہی  کہتا  تھا_
کہ سخن شناس کمال تھا

وہاں چشم بھی زبان تھی__
یہاں  بولنا  محال  تھا__

وہ سمجھ کا ایسا سوال تھا
اُسے  سمجھنا  محال  تھا__

وہ  الجھا  خیال  تھا__
اپنی  مثال  آپ  تھا__

وہ ستارہ با کمال تھا
عروج  لازوال  تھا__

وہ غزل کی ایسی کتاب تھا
کہ  سر  تا  پا  کمال  تھا__

بس  کہ  لاجواب  تھا__
جو میرا واقفِ حال تھا__

Monday, 17 August 2020

Ehsas hen yeh lafaz sary by Fatima Farooq

احساس ہیں یہ لفظ سارے...
لہو سے میں نے لکھے ہوئے ہیں
یہ موتی جو میں پرو رہا ہوں...
یہ تیری خاطر بنے ہوئے ہیں
سجا رہا ہوں خیال جو میں...
یہ تذکرے تیرے حسن کے ہیں


کون ہو نہیں جانتے تم...
پوچھو ہم سے کہ، کون ہو تم؟
وہ جو ہستی کہیں نہیں ہے...
درِنایاب انعام ہو تم
بوئےگل ہو،صدائے سکھ ہو...
خزاں میں کِھلتا گلاب ہو تم
زُعمِ آفتاب تاباں قمر...
میرا دَرشنی خواب ہو تم
میرے رعنا خیال ہو کہ...
قفسِ دل میں قید ہو تم
فراق کے بنجر موسم میں...
مہکتی بہار ہو تم...


احساس ہیں یہ لفظ میرے
قرطاس پہ جو بکھر رہے ہیں
کہ نغمے تیرے لطف کے ہیں
عکس ہیں یہ رفاقتوں کے.....
کہ تیری خاطر جو لکھ رہا ہوں
احساس ہیں یہ لفظ سارے
عکاس ہیں یہ لفظ سارے....
راز ہیں یہ لفظ سارے....

Mila mudaton ke bad mujhe by Fatima Farooq

ملا مرتوں کے بعد مجھے
جو شخض میرے مزاج کا تھا
میرے جیسے خو تھی اس کی
انداز میرے انداز سا تھا۔
ہمراز میرے رازداں کا
حال میرے حال سا تھا۔
سوچ اسکی،خیال اسکا
گمان میرے گمان سا تھا۔
حرف حرف ہر لفظ لفظ
ہو بہو میری بات سا تھا۔
وہ شخص نہ تھا ہم نشیں!
مقام گویا طواف کا تھا۔
غم چھپانا ادا تھی اسکی
مسکرانا کمال کا تھا۔
جلترنگ جو  آواز بکھیرے 
سر چھڑا جوں  سازکا تھا۔
بند کیا باندھوں ستائشوں کے 
یہ تو قصہ گلاب کا تھا۔
جو تھا میری متاع ہستی
وہ سراپا سراب سا تھا۔
سانس بن کے دھڑکنا دل میں 
لہو میں بستا خیال سا تھا۔
وہ تو قصہ خواب کا تھا
وہ تو نغمہ سراب کا تھا۔
جو شخض میرے مزاج کا تھا 
وہ ساتھ میرے ساجھ کا تھا۔

وہ ساتھ میرے ساجھ کا تھا......

Meri zat samundar by Fatima Farooq

میری ذات سمندر عشق کا،ہر ذرہ تخلیق تو
میری ابتدا بھی تو ہی ھے،،میری انتہا  بھی تو ہی تو
نشان تو،پہچان تو......
میری ذات پات،میرا نام تو۔
برسات میں برسی بارش کی
ہر بوند بوند میں عیاں ھے تو
تیری بقا ھے میری بقا
میں ھو فنا جو فنا ھے تو۔
میری گفتگو،،میرا ذکر ھے تو
میرا لفظ لفظ،ہر بات تو
میری راہگزر،مقام تو
میری جستجو،،تلاش تو 
تیرا نقش میری سوچ میں 
میری آرزو،خیال تو
تیرا راج میرے دل پہ ھے
میری ذات کل تمام تو 
مجھے مرض لاحق عشق ھے
میرا چارہ گر،دوا ھے تو ۔
تو قریب آ تجھے دیکھ لو
تعبیر ھے یا خواب تو
میریذات ذرہ بے نشاں 
میں جو بھی ھو بس تو ھی تو 
میرا جو بھی ھے بس تو ھی تو ..........