affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Maryam Fiaz
Showing posts with label Maryam Fiaz. Show all posts
Showing posts with label Maryam Fiaz. Show all posts

Thursday, 17 April 2025

Kamtari ka qafas Poetry by Maryam Fiaz

کم تری کا قفس

(نظم)

ازقلم مریم فیاض

 

مرے وجود پہ تحقیر کی سیاہ لکیریں،

وہی پرانی روایت کی بے صدا زنجیریں،

کہ جن میں قید ہے صدیوں سے میرا تن و جاں،

یہ رسمِ جبر، یہ قانونِ بے اماں، اب تک۔

 

میں اک بدن ہوں، فقط زینتِ نظر ٹھہری،

کہ جیسے روح ہو ناپید، اور ہنر ٹھہری،

کبھی میں خواب کی صورت، کبھی گناہ بنی،

کبھی میں خاک رہی، اور کبھی پناہ بنی۔

 

مجھے صدا دی گئی "صبر" کی، "وفا" کی قسم،

کہ میرا حق نہیں حرفِ شکایت کا عالم،

مرے سوال کو گستاخی کہا جاتا ہے،

مرے سکوت کو پاکیزگی بنایا گیا۔

 

میں وہ چراغ ہوں جو صحن میں تو روشن ہے،

مگر ہوا سے لرزتا ہر ایک انجمن ہے،

مرے لبوں پہ جو قفلِ سکوت رکھا ہے،

وہی تو میرے لہو کا عذاب لکھا ہے۔

 

کبھی میں بیٹی بنی، اور بوجھ کہلائی،

کبھی میں بیوی بنی، تو قید بن آئی،

کبھی میں ماں بنی، تقدیس میں لپیٹی گئی،

مگر "انسان" کہلانے سے محروم رہی۔

 

میں جس کو چاہوں، وہ جرمِ عظیم ٹھہرے،

میں جو نہ چاہوں، وہ بھی نصیب ٹھہرے،

مرے ارادے، مری چاہ، میری خواہش کیا؟

یہ سب تو مرد کی مرضی کے تابع ٹھہرے۔

 

مگر سنو!

اب اور صدیوں کا یہ ظلم سہنا نہیں،

اب اپنی ذات کو مٹی میں گم کرنا نہیں،

مرے حروف میں اب تازیانہ بھی ہے،

مرے قلم میں بغاوت کا فسانہ بھی ہے۔

 

میں اب ہنر ہوں، میں آواز ہوں، میں نغمہ ہوں،

میں اک چمکتا ہوا خوابِ نوح کا چہرہ ہوں،

مرے لہو سے رقم ہو گی اک نئی تاریخ،

کہ جس میں عورت نہ محکوم ہو، نہ خاموش۔

**************

Sunday, 13 April 2025

Tanha larki nazam by Maryam Fiaz

"تنہا لڑکی"

(نظم)

ازقلم مریم فیاض

 

یہ لڑکی جو ہنستی رہی، آنکھوں میں جگنو رکھتی تھی،

چہرہ جیسے ماہِ کامل،پر دل میں اک شب بستی تھی۔

 

گھر میں سب اپنے تھے، پر دل کا گوشہ سُونا تھا،

الفاظ کے میلے لگتے تھے، پھر بھی ہر جملہ سونا تھا۔

 

محفل میں کہکشائیں تھیں،دوستوں کی باتیں گونجتی تھیں

لیکن ان آوازوں کے پیچھے،تنہائی چپکے سے روتی تھی۔

 

خوشبو جیسی بکھرتی رہی،پھر بھی جیسے بکھری ہوئی،

بھیڑ میں تنہا رہتی تھی، خاموشی کی مہر لگی ہوئی۔

 

کہنے کو سب ہمدرد بہت تھے،پر کوئی دل کا ساتھی نہ تھا

مسکان میں جو درد چھپا تھا، وہ راز کوئی جان نہ سکا۔

 

ہر راہ میں، ہر موڑ پہ، چہرے بدلے، آنکھیں بدلیں

پر دل کے صحرا میں اس کے، بے رنگی ہی بے رنگی

 

سوچا تھا، شاید کوئی آئے، جو خوابوں کو تعبیر دے،

پر ہر چہرہ، ہر آنکھ یہاں، بس اک دھوکہ، بس اک فریب تھا

 

دھوپ میں سایہ ڈھونڈتی رہی، راتوں میں کوئی خواب سجائے

پر ہر منظر دھندلا نکلا، ہر لمحہ تنہائی ہی تنہائی۔

 

اب نہ کوئی امید بچی، نہ آس کا جگنو پلکوں پر

یہ دنیا اس کی تھی لیکن، وہ خود نہ تھی اس دنیا میں۔

************