affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Noor Shayara
Showing posts with label Noor Shayara. Show all posts
Showing posts with label Noor Shayara. Show all posts

Wednesday, 5 March 2025

Ajab rishty Poetry by Noor Shayara



نظم:

 "عجب رشتے"

از قلم:  نور شاعرہ

 

عجب رشتہ بنا کر خود ہی الجھ گئی ہوں....

خود ہی نے نبھایا خود ہی ختم کر چلی ہوں

میری کیفیت عجب سی ہے اس وقت......

جانو گے نہ تم غضب سی ہے اس وقت

نہ ہی کوئی اپنا مجھے سمجھتا ہے

نہ تو کوئی اپنا مجھے سمجھاتا ہے.......

بڑی بے چینی کہی پے نہ سکوں ہے

نہ ہی ساتھ دینے والا کوئی محبوب ہے.....

میں منزل کی خاطر در در پھری ہوں

گرایا ہے سب نے میں ہر بار گری ہوں......

گرانے تو پھر یوں ہی سب آہی گئے تھے

پر اٹھانے کو نہ کوئی اپنے ملے ہیں....

میں نے لفظ لکھے جس کے ہیں خاطر

اسے تو بتاؤ میں ہوں بتانے سے قاصر....

نہیں ہے دکھاوا نہیں ہے کوئی جتاوا

یہ محبت ہے پاگل نہ سمجھ مجھے پرایا

کسی پر کرنا ہو بھروسہ تو تیار رہو ٹوٹنے کے لئے.....

نہیں ملتی محبت یہاں محبت کے بدلے

میرا اسکا رشتہ پھر تھا ہی بڑا نرالا....

دنیا کے لئے تھا وہ بس ایک کڑوا نوالا

دوستی تھی یا محبت وہ یہی نہ جانا....

نہیں تھا وہ ان باتوں سے بلکل ہی انجانا

جو بھی ہوا اس نے کچھ بھی تو نہ جانا

پھر اس نے تو مجھے خوب ہی پہچانا...

ہم نے خوب رشتوں کو دل سے نبھایا

اور سب نے مل کر ہمارا مزاق بنایا....

کسی نے اس بات کو دل سے نہ مانا

کے ہم نے تو چاہا پر وہ ہی نہ مانا

غیروں نے کہا ہمیں اتنا ستایا ہے....

اپنوں نے زیادہ ہی کچھ تھکایا ہے

کبھی تو دشمن کو بھی دوست بنا لیا

کبھی تو دوست کو بھی سر پے بٹھا لیا....

ہم نے دل کے سکون پر محبت کو ترجیح دے دی

ہم نے محبت پے خاموشی کو ترجیح دے دی...

نہیں صاحب قسمت بھلا کہا بری ہوتی ہے

جب لکھنے والا ہی رحیم و کریم ہوتا ہے

کچھ قصور ہم خود ہی کرجاتے ہیں......

اذیتوں کو اپنی دعاؤں میں مانگ جاتے ہیں

پھر یہ کیوں مانے کے ہے یہ غلطی کی سزا

وہ نہیں دیتا یونہی ہر گناہ کی سزا.....

وہ دیتا ہی ہم کو بہتر سے بہترین ہے

ہم ہی ہیں غلط جو سمجھتے ہر کوئی بہترین ہے....

ہم ہی نہ سمجھ اور اجالوں میں ہیں اندھے

نہیں معلوم ہوتے نہیں دکھتے لوگ ہیں گندے

نہیں دکھتی لوگوں کے چہروں میں چھپی مکاری....

دنیا میں چلے جا رہا ہے بس یہی سب ہی جاری

محبت جسموں کا نام ہوتی ہے نور شاید

جسنے عشق سچا کیا اسے کہتے ہیں غالب....

https://youtube.com/@syedanoor-ul-ainofficial?si=3ILfnR1NsAdWPyiL

Syedanoorulain4444@gmail.com

 

Friday, 27 September 2024

Sari baton ki waja ap hain by Noor Shayara


ساری باتوں کی وجہ آپ ہیں....

تحریر  : نور شاعرہ

 

* ہاں یار دل بڑا ہمدرد ہے پر محبت کے معاملے میں بے بس ہے کسی کا چاہ کر بھی احساس نہیں کر پاتا.

 

* اس اذیت بے سکونی جو محبت سے ملتی ہے برا کہوں کیا؟ پر اگر یہ بھی نہیں تو پھر اور کیا؟....

 

* بولو ایک شاعر کیا لکھے گا اگر اسکے پاس درد بھی نہ ہو تو......

 

* مقدر کو ماننے والے بھی اکثر بے سکون ہوجاتے ہیں کیونکہ انکے آج میں کافی اتفاق ہوجاتے ہیں کسی کے ملنے کا بچھڑنے کا.....

 

* لوگ ٹھیک کہتے ہیں جھکو نہیں منتیں نہ کرو اپنے معیار سے نہ گرو.....

 

* مجھے لوگوں کا بس احساس ہے پر ترس تو خود پے آتا ہے.....

 

* زمانہ ہنسی دیکھتا ہے مجھے اچھا بھی کہتا ہے پر دل نہیں رکھتا.....

 

* رشتوں کی قدر جتنی ہے یہی وجہ بنتے درد دل کی بات پھر دوائیوں تک آجاتی ہے پتہ نہیں لوگوں کے چھوڑ جانے کے ڈر سے آخر کب باہر آئے گے کیا جب دنیا چھوڑ جائے گے.....

 

     "یہ محفل آپ کی ہے

      لفظ کتاب جذبات

      اب مرضی آپ کی ہے

      بیٹھے سنے یا جائے"

 

         شاعری ہے زندگی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

https://youtube.com/@syedanoor-ul-ainofficial?si=3ILfnR1NsAdWPyiL

Syedanoorulain4444@gmail.com

Sunday, 23 June 2024

Mohabbat by Noor Shayara




نظم

(مُحبت)

تحریر:نُور شاعرہ

 

*تُمھیں کیا پتہ یہ مُحبت کِتنا ستاتی ہے-

جو ترستا ہے اُسے اور ترساتی ہے!

کیا معلوم ہے ؟ایک حقیقت....

یہ مُحبت کُتّے کی طرح بھگاتی ہے

ویسے تو یہ ایک کِھلتا پھول ہے

پر لوگوں کو یہ مُرجھاتی ہے

اُداسی کی شامیں ابھی کہاں؟

ابھی تو پیار کے گیت سُناتی ہے-

کبھی دُور ہی چلی جاتی ہے

کبھی بارش میں بِھگاتی ہے

یہ مُحبت ہے, مُحبت ہے صاحب!

نا جانے کیا کیا کر واتی ہے....

زندگی کا سفر پھر آگے برھتا ہے

صنم سے شوہر اور پھر پاؤں دبواتی ہے!

ایک امتحان ختم ہوتا نہیں کے بس یہ پھر نئے سبق پڑھاتی ہے......

ابھی تو جوانی کے دن تھے یار

کیسے یہ چار بَچّوں کی امّا بناتی ہے!

ہائے یہ مُحبت! ہائے یہ مُحبت

نا جانے کیا کیا کر واتی ہے.....

https://youtube.com/@syedanoor-ul-ainofficial?si=3ILfnR1NsAdWPyiL

Thursday, 16 May 2024

Ghazal by Noor Shayara



غزل

 

تحریر : نُور شاعرہ

 

*روز خُواب میں وہ آتا ہے

اور پھر باتوں میں سَما جاتا ہے

اور!

ایسا کیا ہے اُس میں ؟

جو صرف اُس میں نظر آتا ہے

جب دیکھتی ہُوں اُس کی جانب

تو اُس میں کھو جانے کو مَن

کرتا ہے...

اور!

ایسا کیا ہے اُس میں ؟

جو صرف اُس میں نظر آتا ہے

نہیں ملی حقیقت میں اُس

سے کبھی...

اُسکی بات بھی کرو تو نظر میں

چہرہ بن جاتا ہے...

اور!

ایسا کیا ہے اُس میں ؟

جو صرف اُس میں نظر آتا ہے

لوگ چہرے پر مِٹا کرتے ہیں

نُور....

ہم تو اُن کے نام پر مر مِٹے ہیں

ایسی ہی اُس میں کوئ خاص

بات ہے...

*****************

https://www.youtube.com/@syedanoor-ul-ainofficial

Syedanoorulain4444@gmail.com

 

Saturday, 3 June 2023

Main bhi parhna chahti hoon poetry by Noor Shayara



میں بھی پڑھنا چاہتی ہُوں!

(نظم)

*میں لڑکی ہُوں اُڑھنا چاہتی ہُوں

نا میں کسی سے ڈرنا چاہتی ہُوں

خود کے لئے کُچھ کرنا چاہتی ہُوں

حق کی بات میں کرنا چاہتی ہُوں

میں بھی پڑھنا چاہتی ہُوں

پڑھ کے کُچھ بننا چاہتی ہُوں

*گھر کے ہمیشہ کام کروں

سُسرال میں اپنا نام کروں

اور ظلم ہمیشہ سہتی رہوں

ہر ظلم سہ کے چُپ ہی رہوں

میں بھی پڑھنا چاہتی ہُوں

پڑھ کے کُچھ بننا چاہتی ہُوں

*باپ کہتا ہے میں کیوں پڑھاؤں

شوہر کہتا ہے گھر کے کام کراؤں

کوئ نہیں کہتا لڑکی کو پڑھاؤ

اسے جینے کے ڈھنگ سکھاؤ

میں بھی پڑھنا چاہتی ہُوں

پڑھ کے کُچھ بننا چاہتی ہُوں

*میں کبھی بیٹی ہُوں' کبھی بہن ہوں!

میں کبھی بی وی ہُوں' کبھی ماں ہُوں!

اور میں ہر رشتے کو ہی نبھاؤں

سب سے ہی اپنا درد چُھپاؤں

میں بھی پڑھنا چاہتی ہُوں

پڑھ کے کُچھ بننا چاہتی ہُوں

*ہاں تھی مُجھے بھی کسی سے چاہت!

پر نہیں کی میں نے کوئ بغاوت

وہ تو خود ہی تھا چاہت میں رُکاوٹ!

یہاں تو ہے ہر رشتے میں ایک نئ بناوٹ...

میں بھی پڑھنا چاہتی ہُوں

پڑھ کے کُچھ بننا چاہتی ہُوں

*کیوں کہتے ہو لڑکی باغی ہو جائے گی!

پڑھایا تو پھر بڑے گُل کھلائے گی

بدنام کروا کے گھر سے بھاگ جائے گی!

دُنیا کے سامنے کھڑی ہو جائے گی

میں بھی پڑھنا چاہتی ہُوں

پڑھ کے کُچھ بننا چاہتی ہُوں

*شریعت کی بات کرے تو وہ بُری ہوجاتی ہے!

ماں باپ رشتے داروں کے سامنے بدتمیز کہلاتی ہے!

لوگ کہتے کے ہمیشہ باپ کے لئے تھوڑی کماتی ہے!

پہلے جاکے حدیثِ نبوی پڑھو پھر تُمھے کُچھ سمجھ آتی ہے!

میں بھی پڑھنا چاہتی ہُوں

پڑھ کے کُچھ بننا چاہتی ہُوں

تحریر :"نُور شاعرہ

**************

Syedanoorulain4444@gmail.com

https://youtube.com/@syedanoor-ul-ainofficial709