affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Sophia
Showing posts with label Sophia. Show all posts
Showing posts with label Sophia. Show all posts

Friday, 12 January 2018

کسی بیتے ہوئے کل کو اتنا نہ یاد کرو kisi beety hoey pal ko itna na yad karo by Sophia Akbar


کسی بیتے ہوئے کل کو اتنا نہ یاد کرو
کہ ہر سانس میں تمہیں  وہ لمحہ یاد آیا کرے
ہر بات میں'   وہ شخص یاد آیا کرے
ہر کل میں اس کل کا انتظار رہے
وہ  لمحے،  وہ یادیں،   اور وہ  باتیں
کبھی نہیں بھولے ہم تمہیں
کبھی تو زندگی کے کسی موڑ پہ ملاقاہوگی
کبھی تو پھر اک بار تم سے ملاقات ہوگی
  کیسے ہم  اندازہ لگائیں کے،   کہاں ہوں تم
تمہیں تو یہ بھی خبر نہیں
کہ تمہیں  کوئی اتنا یاد کرتا ہے
تمہاری ہر بات کو'  تمہارے ہر انداز کو
تصور کر کے ہنستا  ہے

وہ شخص آج بھی"  تمہیں بہت یاد کرتا ہے

Saturday, 21 October 2017

ایک دن چاند کی طرح از صوفیہ Ek din chand ki trah by Sophia

ایک دن چاند کی طرح

تمہیں بھی روشنی ملے گی

ایک دن ستاروں کی طرح
  
تم بھی چمکوں گے

ملے گا تمہیں وہ سب

جس کے تم قابل ہو 
 
نہ  گهبراؤ  اس دنیا کے لوگوں  سے  

ان کا تو کام ہے یہ 
 
دوسروں کی خوبیوں کو

خامیوں کا رنگ دینا

پر تم اپنے ارادوں کو 

مضبوط کر کے چلنا 

قدم بڑھاتے رہنا  

اپنی منزل کو پا کے رہنا

Tuesday, 12 September 2017

Chehray by Sophia

آج مجھے  پتا چلا
  چہرے  خوشیوں  سے  نہیں  
تکلیفوں سے  بدلتے  ہیں  

Thursday, 17 August 2017

وقت کے ساتھ ساتھ

وقت  کے  ساتھ  ساتھ  میں  بہت  کچھ  سمجھتی گئی  
لوگوں  نے مجھے  چپ کرا دیا  اور  میں  چپ ہوتی گئی  
ہر  کوئی  نظرانداز  کرتا  رہا  
اور  میں  نظرانداز  ہوتی  رہی  
دل میں  ہیں  بہت  سی  باتیں  
پر کوئی  سنتا  نہیں  
خوش  تھی  میں  بھی  اپنے بچپن  میں  
پر کبھی  کسی نے مجھے  بچہ  سمجھ ہی  نہیں 


Saturday, 12 August 2017

Mujhe zindgi se kia mila by Sophia

مجھے  زندگی میں  کیا    ملا
اس کی  مجھے  کیا خبر
دل بہت  ٹوٹا  آنسو  بہت  بہائے
اس کی کسی  کو  کیا خبر
تھی میں  سب کے درمیاں اکیلی
اس کی کسی  کو کیا  خبر
ہاتھ تھے میرے  خالی
دل میں  تھی بےقراری
رہی  زندگی  تو
پوچھوں گی  ان لوگوں  سے
زندگی  تو دو دن کی ہے
آج میری  تو
کل تیری  باری ہے