affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Khadija Riaz
Showing posts with label Khadija Riaz. Show all posts
Showing posts with label Khadija Riaz. Show all posts

Tuesday, 3 January 2023

Zindagi ek khel tamasha by Khadija Riaz

زندگی اک کھیل تماشہ

زندگی اک کھیل تماشہ

اور

ہم سب تماشائی

مقدر کے ہر وار پر

ڈگڈگی بجاتے ہوئے

اپنے آپ کو پیٹتے ہوئے

تقدیر کو مسکراتے ہوئے دیکھتے ہیں

اپنی بے بسی پر تلملاتے ہیں

اور پھر اس کھیل کا خود حصہ بن جاتے ہیں

کبھی جیت کر، کبھی ہار کر

اس کھیل کو کھیلتے ہی چلے جاتے ہیں

کبھی ہوش سے، کبھی مدہوش سے ہو کر

خدیجہ ریاض

**************

Dekho by Khadija Riaz

دیکھو!

کہیں کھو نہ جانا

ان بھول بھلیوں میں خود کو

بھول نہ جانا

کہ

ابھی کچھ منزلیں طے کرنا باقی ہیں

 

دیکھو!

ان مصنوعی روشنیوں میں

تمھاری آنکھیں چندھیا نہ جائیں

کہ

ابھی کچھ مسافتیں اور بھی باقی ہیں

 

دیکھو!

اس ہجوم میں تم کھو نہ جانا

بہک نہ جانا

کہ

ابھی کچھ خوابوں کی تعبیر باقی ہے

 

دیکھو!

 

یہ لا یعنی سوچیں

یہ لا محدود خیالات

تمھیں تھکا نہ دیں

کہ

ابھی  مامن دور ہے-

خدیجہ ریاض

***************

Chalo ao by Khadija Riaz

سال نو کے بارے میں

چلو آؤ

آج تجدید وفا کرتے ہیں

تعمیر وطن کا عھد کرتے ہیں

لا الہ الااللہ کی عملی تصویر بنتے ہیں

پیغمبر رسول کے نقش قدم پر چلتے ہیں

مہاجرین و انصار کی قربانیوں کے قصے دہراتے ہیں

چلو آؤ

آج تجدید وفا کرتے ہیں

تعمیر وطن کا عھد کرتے ہیں

ایمان اور یقین محکم کے ساتھ

اقبال کے خواب کو امر کرتے ہیں

قائد کے اقوال کو عملی جامہ پہناتے ہیں

چلو آؤ

آج تجدید وفا کرتے ہیں

تعمیر وطن کا عھد کرتے ہیں

چلو آؤ

آج اک نئی تاریخ رقم کرتے ہیں

وفا کی، خلوص کی, محبت کی تاریخ

چلو آؤ

قدم بڑھاتے ہیں، اخوت و بھائی چارے کی طرف

چلو آؤ

مٹا دے وہ مسافتیں، جو بانٹے ہوئے ہیں سب کو

چلو آؤ

'ایک 'ہو جائے، 'ایک' کی مان لیں، 'ایک' کے ہو کر جئیں-

چلو آؤ

آج تجدید وفا کرتے ہیں

تعمیر وطن کا عھد کرتے ہیں-

خدیجہ ریاض

*************

Phir kuch youn hua by Khadija Riaz

پھر کچھ یوں ھوا

بونوں کی اس دنیا میں

مجھے کچھ بونے ملے

قد آور لیکن اخلاق کے بونے

کردار کے بونے

اعمال کے بونے

پھر کچھ یوں ھوا

ان بونوں نے چھین لے

مجھ سے

میری آنکھوں میں پنپتے خواب

میری بن کہی خواہشیں

میری زندگی

اور

تھما دی مجھے

کفن میں لپٹی زندگی

اور پھر

آزاد کر دیا مجھے

بونوں کی اس دنیا سے

خدیجہ ریاض

***************

Friday, 30 December 2022

Zindagi gulzar nahi by Khadija Riaz

زندگی گلزار نہیں

 

زندگی گلزار نہیں

خارزار بھی نہیں

بس

عجیب ہے

ہر پل رنگ بدلتی ہے

کبھی بہار جیسی رونقیں لیے

کبھی خزاں جیسی ویرانیاں لیے

کبھی جون جیسی گرمی لیے

کبھی دسمبر جیسی لیے خشکی لیے

کبھی خوشیوں کا روپ دھارے

اور

کبھی غموں کا اندوهناک روپ دھارے

یہ ہر پل رنگ بدلتی ہے

کبھی بدلتے ہوئے رشتوں کی صورت میں

اور کبھی دلفریب رشتوں کی حقیقت بے نقاب کرتے ہوئے

یہ ہر پل رنگ بدلتی ہے

زندگی گلزار نہیں

خارزار بھی نہیں

بس

عجیب ہے

خدیجہ ریاض

***********

My Perception by Khadija Riaz


Ek shehar mohabbat tha by Khadija Riaz













Main aseer e zaat hoon by Khadija Riaz