"لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں... دکھ تو نہیں ہوتا...؟ جواب دوں..؟ کرو تصور.. اک پل کو.. جس باپ کا سایہ ہمیشہ سے سر ہر ہو ماں کا لاڈ ہو جس تم پوری طرح چاہ رہے ہو...حق جتا رہے ہو.. یہ میرا ہے میری ماں ہے میرے پاس میرے لاڈ اٹھا نے والے ابو ہیں... وہ چلے جائیں ہمیشہ کے لیے وہاں .جہاں سے تو کوئی آتا بھی نہیں... تمہارا ان ہرکوئ حق نہیں رہتا. پکارنے تک کا نہیں.. دیکھنے کا بھی نہیں...دکھ تو نہیں ہوا..؟ چلو اب ہنسو...کھل کے ہنسنا ہے سب کے سامنے...جاندار قہقہہ... اک پل کے اندر عمر بھر کے دکھ کا حساب سمیٹ کے لا سکتے ہو اے لوگوں۔۔.بتاو.. مردہ ہوتے حواس کے ساتھ مسکرا سکتے ہو اے زمانے والو...؟؟؟
You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Mayeda Anwaar. Show all posts
Showing posts with label Mayeda Anwaar. Show all posts
Tuesday, 10 July 2018
Dukh by Mayeda Anwaar
"لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں... دکھ تو نہیں ہوتا...؟ جواب دوں..؟ کرو تصور.. اک پل کو.. جس باپ کا سایہ ہمیشہ سے سر ہر ہو ماں کا لاڈ ہو جس تم پوری طرح چاہ رہے ہو...حق جتا رہے ہو.. یہ میرا ہے میری ماں ہے میرے پاس میرے لاڈ اٹھا نے والے ابو ہیں... وہ چلے جائیں ہمیشہ کے لیے وہاں .جہاں سے تو کوئی آتا بھی نہیں... تمہارا ان ہرکوئ حق نہیں رہتا. پکارنے تک کا نہیں.. دیکھنے کا بھی نہیں...دکھ تو نہیں ہوا..؟ چلو اب ہنسو...کھل کے ہنسنا ہے سب کے سامنے...جاندار قہقہہ... اک پل کے اندر عمر بھر کے دکھ کا حساب سمیٹ کے لا سکتے ہو اے لوگوں۔۔.بتاو.. مردہ ہوتے حواس کے ساتھ مسکرا سکتے ہو اے زمانے والو...؟؟؟
Musafir by Mayeda Anwaar
جب سےتو گیا ہے ۔۔۔
حسین موسم بھی جیسے روٹھ گیا ہے۔۔۔۔
کالے بادلوں کا ہر سو بسیرا ہے۔۔۔
لٹے ہوئے مسافر کی طرح ۔۔۔
میں سمجھتی ہوں جیسے تو آج بھی میرا ہے۔۔
حسین موسم بھی جیسے روٹھ گیا ہے۔۔۔۔
کالے بادلوں کا ہر سو بسیرا ہے۔۔۔
لٹے ہوئے مسافر کی طرح ۔۔۔
میں سمجھتی ہوں جیسے تو آج بھی میرا ہے۔۔
از۔قلم مائدہ انوار
Ik nazer by Mayeda Anwaar
ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﻧﮩﯿِﮟ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﻭﮦ ﻧﺸﮧ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻧﺸﮧ ﺣﻼﻝ ﻧﮩﯿﮟ.
"
ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ چاہئیے___
از۔قلم مائدہ انوار
Heer by Mayeda Anwaar
بانسری کی دھن پر'چھیڑ تو دوں محبت کا راگھ
لیکن اب وہ رانجا کہاں جس کے لیے میں ہیر تھی__
لیکن اب وہ رانجا کہاں جس کے لیے میں ہیر تھی__
از۔قلم مائدہ انوار
Saturday, 7 July 2018
Lekh by Mayeda Anwaar
واہ ربا تیرے لیکھ۔۔۔
دکھ دتا تے دواں نوں ایکھ۔۔۔
کجھ نہ پلے چھڈیا محبت نے۔۔
دکھ ویکھے اوہ وی سانجھے۔۔۔
جدائی سہہ کہ وی۔۔۔
زمانہ کر سکیا نہ جناں نوں وکھ۔۔
اوہناں دے تے ساہ وی نہی اک دوجے توں وکھ۔۔
از۔قلم مائدہ انوار
Parents k nam by Mayeda Anwaar
باپ__کیوں مر جاتے ھیں ؟
جب کبھی اعلان ھوتا کہ فلاں کے والد فوت ھو گئے ھیں
تو میں دوڑ کر گھر آتی
ابو کے دامن سے لپٹ جاتی تھی
ابوکبھی غصہ بھی ھو جاتے
کملی ایں توں
کی ھویا ای__؟
میں اظہار سے ڈرتی تھی
موت کے نام سے ڈر جاتی
ماں کے بعد ہر چیز سے ڈرتی تھی میں
کبھی کبھی میں سوچتی تھی کہ میں اپنے ابو سے پہلے مر جاؤں گی
لیکن پھر سوچتی کہ ابو بھی تو روئے گے لیکن پھر اگلے ہی لمحے سوچتی کہ ابو کے تو بیٹے بھی ہیں
میرے پاس تو ایک ہی ابو ھیں۔۔میرے پاس تو ماں بھی نہیں رہی
رات کو ضد کرکے ابو کے پاس سو جاتی
ابو دوسری طرف منہ کرکے سوتے تو میں ابو کے اپنی طرف منہ کرنے تک جاگتی رہتی اور جیسے ہی ابو میری طرف منہ کرتے تو ماں کے بعد ابو کی سانسیں مجھے تپتے صحرا میں بادصبا کے جھونکوں کی طرح محسوس ھوتیں
ابو کے جسم کی خوشبو مجھے مشک و عنبر سے زیادہ بھلی لگتی
اُس دن نہ جانے کیوں میرے پاؤں منوں وزنی لگ رھے تھے
ابو مجھے الوداع کہنے دروازے تک آئے
میں گلی کی نکڑ مڑ چکی تھی
لیکن میں دوڑ کر واپس آیی تو ابو گلی کی نکڑ کے قریب تک آ پہنچےتھے
میں نے دوڑ کر ابو کو گلے لگا لیا ۔
آج جیسی بے چینی مجھے کبھی محسوس نہیں ھوئی تھی
ابو نے کہا جاؤ
اکیڈمی میں بہت کام ھو گا تجھے
آخری بات ابو کی آج بھی مجھے رُلا دیتی ھے
مائدہ کتھے ہے توں۔۔ تیری آواز نئیں آندی
اور آج میں سوچتی ھوں
ماں اور ابو کہاں ھو تمہاری آوازیں کیوں نہیں آتیں
اور لائن کٹ گئی
شام کو ابو چلے گئے میری ماں کے پاس
لائن ہمیشہ کیلئے کٹ گئی
لیکن دعاؤں کی لائن تو کبھی نہیں ٹوٹی نا
اگر تقدیر اجازت دیتی
تیرے ساتھ اتر جاتی میں...قبر میں
جہاں میرے ماں باپ سوتے ہیں اب ابدی نیند۔۔
جن کے ہونے سے میں قیمتی تھی۔۔
میں لاڈلی تھی۔۔۔اب یتیم ہوگئی ہوں
کیونکہ باپ کا سایہ نہیں رہا
نہ ماں کا شفقت بھرا پیار۔۔۔
از۔قلم مائدہ انوار
جب کبھی اعلان ھوتا کہ فلاں کے والد فوت ھو گئے ھیں
تو میں دوڑ کر گھر آتی
ابو کے دامن سے لپٹ جاتی تھی
ابوکبھی غصہ بھی ھو جاتے
کملی ایں توں
کی ھویا ای__؟
میں اظہار سے ڈرتی تھی
موت کے نام سے ڈر جاتی
ماں کے بعد ہر چیز سے ڈرتی تھی میں
کبھی کبھی میں سوچتی تھی کہ میں اپنے ابو سے پہلے مر جاؤں گی
لیکن پھر سوچتی کہ ابو بھی تو روئے گے لیکن پھر اگلے ہی لمحے سوچتی کہ ابو کے تو بیٹے بھی ہیں
میرے پاس تو ایک ہی ابو ھیں۔۔میرے پاس تو ماں بھی نہیں رہی
رات کو ضد کرکے ابو کے پاس سو جاتی
ابو دوسری طرف منہ کرکے سوتے تو میں ابو کے اپنی طرف منہ کرنے تک جاگتی رہتی اور جیسے ہی ابو میری طرف منہ کرتے تو ماں کے بعد ابو کی سانسیں مجھے تپتے صحرا میں بادصبا کے جھونکوں کی طرح محسوس ھوتیں
ابو کے جسم کی خوشبو مجھے مشک و عنبر سے زیادہ بھلی لگتی
اُس دن نہ جانے کیوں میرے پاؤں منوں وزنی لگ رھے تھے
ابو مجھے الوداع کہنے دروازے تک آئے
میں گلی کی نکڑ مڑ چکی تھی
لیکن میں دوڑ کر واپس آیی تو ابو گلی کی نکڑ کے قریب تک آ پہنچےتھے
میں نے دوڑ کر ابو کو گلے لگا لیا ۔
آج جیسی بے چینی مجھے کبھی محسوس نہیں ھوئی تھی
ابو نے کہا جاؤ
اکیڈمی میں بہت کام ھو گا تجھے
آخری بات ابو کی آج بھی مجھے رُلا دیتی ھے
مائدہ کتھے ہے توں۔۔ تیری آواز نئیں آندی
اور آج میں سوچتی ھوں
ماں اور ابو کہاں ھو تمہاری آوازیں کیوں نہیں آتیں
اور لائن کٹ گئی
شام کو ابو چلے گئے میری ماں کے پاس
لائن ہمیشہ کیلئے کٹ گئی
لیکن دعاؤں کی لائن تو کبھی نہیں ٹوٹی نا
اگر تقدیر اجازت دیتی
تیرے ساتھ اتر جاتی میں...قبر میں
جہاں میرے ماں باپ سوتے ہیں اب ابدی نیند۔۔
جن کے ہونے سے میں قیمتی تھی۔۔
میں لاڈلی تھی۔۔۔اب یتیم ہوگئی ہوں
کیونکہ باپ کا سایہ نہیں رہا
نہ ماں کا شفقت بھرا پیار۔۔۔

از۔قلم مائدہ انوار
Subscribe to:
Posts (Atom)
