affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Nabeela Gul
Showing posts with label Nabeela Gul. Show all posts
Showing posts with label Nabeela Gul. Show all posts

Monday, 4 March 2019

Mohabbat ke baghi log by Nabeela Gul

محبت کے باغی لوگ 
ہم محبت کے باغی لوگ ہیں 
جن ہے نفرتوں نے بھگا دیا 
وفاؤں نے بھی  ٹکرا دیا 
عجب عجب سے گزر گیے 
ہے زندگی نے غم کا جام پھیلا دیا 
خوشی نے بھی عجب کھیل سکھا دیا 
آئنور  نے بھی سب کو چھپا دیا

Tum chorny ki bat karty ho by Nabeela Gul

تم چھوڑنے کی بات  کر تی  ہو آئنور، 
ہم تو ہر سانس کی آ ہ میں بھی اسکو بسا کرتے ہیں

Janam din ki dua by Nabeela Gul

جنم دن د عا
یا رب بھر دیں جھولی اسکی خوشیوں سے 
نا ہٹا ے یہ سال اسکی زندگی سے 
جب وہ مانگے اسکی ہر د عا پوری کرے ہر امید و ں سے 
یہ جنم دن بھر دے خوشی کے راز و ں سے 
اور بھی جنم دن ہوتے ہیں لکین 
 آئنور کو انتظار ہے اس جنم دن کی صدیوں دوری سے

Hawa ki beti ko benaqab kar ke by Nabeela Gul

غزل 
ہوا  کی بیٹی کو بے نقاب کر کے
دوپٹہ اسی کا اتار کر کے 
حواس کی آگ بجھا کر کے 
کیا محبت یہی ہے جانا ں 
دلو ں کے راز جان کر کے 
اسی کو اپنا پہچان کر کے 
سب کے نظرو ں میں گرا کر کے 
کیا محبت یہی ہے جاناں
  اسکے وفا کا دیا بجھا کر کے 
ہوا کی گالی سے ستا کر کے 
انکھو ں کے آنسو ں گرا کر کے 
کیا محبت یہی ہے جانا ں 
عجب محبت کی عجیب کہانی ہے جانا ں 
آئنور بھی آدم کے بیٹے کی سہانی ہے

Sunday, 3 March 2019

Dil or wafa Ghazal by Nabeela Gul









غزل
ہم وہ بلبل ہے جو آواز میں بھی آہ رکھ
تے ہیں
اب تو خود کو بھی زمانے سے اگاہ
رکھتے ہیں
ہم تو وہ شیشہ ہیں جس میں دوسروں کے درد کا عکس
رکھتے ہیں
بات وفا کی جب آیی تو ہم رسوا ہوے
ہم دوست بھی بے وفا
رکھتے ہیں
دل بھی پاگل ہے غیرو ں کو اپنا که بیٹھے
 ہم  تو شکوہ بھی اپنے دل سے
رکھتے ہیں
اے دل ناداں اپنو ں سے جفا
رکھتے ہیں
آئنور ہر کوئی اپنے درد کی دوا
رکھتے ہیں

 

Bachpan kay din by Nabeela Gul









بچپن کے دن
مجھے بچپن کے دن بہت یاد آتے ہیں ،
وہ معصومیت محض لکین
وہ پل بہت یاد آتے ہیں
آسمان کو دیکھ کر یوں سمجھنا
کے بادل اور چاند ایک ساتھ جاتے ہیں
غیروں کو دیکھ کر دروازے کے پیچھے چھپ جانا
نا کل کی فکر نا آج کی فکر پھر
پر گلیو ں میں دوڑ لگانا
راتوں کی پر سکوں نیند صبح کو امی کا اٹھا نا
آج تو سب کچھ ہے لکین فکر ہے کل کے لیے کمانا
بچپن کی دوپہر بھی کتنی لمبی تھی
بچپن میں دوپہر باہر جانے کو ترستے
لکین آج دوپہر میں گھر جانے کے لیے ترسے
بچپن  مگن لوگوں کی دنیا تھی
آج خود کی دنیا میں مگن
مجھے بچپن کے دن یاد آ تے ہیں
آ ئنور کیا خوب تھی بچپن کی وہ زندگی
لکین آج ہے لوگوں کی وہ بندگی

Shikwa by Nabeela Gul









شکوہ
تیری ا س دنیا میں بد نظری کا عالَم کیوں ہے
کہیں پے مشکلات کے پتھر تو کہیں پے پریشانی کے خنجر کیوں ہے
سنا ہے تو ہر جگہ موجود ہے تو پھر کہی پے مندر کہی پے خد ا کا گھر کیوں ہے
تو ہر دل سے نزدیک بھی ہے تو پھر میرے دل کی د عا ادھوری کیوں ہے
سب ہے تیرے ہی بندے تو پھر کوئی دولت مند تو کوئی محتاج کیوں ہے
بہت سے لوگ ہوتے ہیں ضرورت مند یا الہی
تو پھر انکی د عا بے اثر کیوں ہے
ہر کوئی کرتا ہے شکوہیا الہی
 تو پھر آئنور کے شکوے پے سب کا نظر کیوں ہے

Aik Larki by Nabeela Gul









ایک لڑکی
سنو ایک لڑکی تھی بے سہارو کو دیکھتے ہی
بارش کی بوند و کی طرح رو جاتی تھی
بوند و کی آواز میں کہیں کھو جاتی تھی
ہزارو ں سکھ تھے ان کو لکین
  پھر بھی بہت بےچین رہتی تھی
کبھی کچھ کہتی تھی کبھی کچھ سنتی تھی
لیکن پھر بھی بہت خاموش رہتی تھی
ان کے الفاظ میں تھا خاموشی یو کا خزانہ
جن ہے لوگوں نے بنایا غرور و تکبر کا نشانہ
ہر ایک ذات پے ان کو فخر تھی سب سے زیادہ یا الہی کے ذات سے محبت تھی
کبھی کچھ که جاتی تھی کبھی کچھ سنتی تھی اذان کے آواز میں کہیں پر کھو جاتی تھی
پھول کی خوشبو میں کانٹو ں کی طرح چھپ جاتی تھی
بس یہی اس آئنوِٙرِٙ کی نشانی
جنہیں لوگوں نے بنائے ایک کہانی

Shikwa by Nabeela Gul









شکوہ
میری عاجز ی میرا قصور ہے
تیری ناز و انداز نے مجھ پے اثر کیا نہیں
میں دوستی کر رہی تھی اس خیال سے
پر تم نے دوستی کا جواب وفا سے دیا نہیں
میں تم ہی کو پاکر پاگل ہوئی تھییں
خوشی سے
لکین یہ پتا نہیں تھا کے یہ دوست مجھے ملا نہیں
میں بہیں سمجھنے لگی تھی تمہے ہر ایک دن سے
اب بھی لگ رہا ہے کے یہ درد مجھے بہیں نے دیا نہیں
میری انکھو ں میں دیکھو ں تو دل سے
تو تمہے معلوم ہوجاے گا کے میں بے وفا نہیں
تم نے دیکھے ہونگے لوگوں پہلے مجھ سے
یہ بھی سہی میں فضا نہیں
لکین یہ تو کہو میری دوستی میں ہوئی تھی کمی مجھ سے
جو یہ دوستی کا ہاتھ تم نے جوڑا نہیں
پھر بھی یہ دعا ہے خدا تمہے رکھے صبح و شام ہر بلا سے
لکین آئنور کے دوستی کا یہ صلہ نہیں ۔