affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Noor Ul Huda Shah
Showing posts with label Noor Ul Huda Shah. Show all posts
Showing posts with label Noor Ul Huda Shah. Show all posts

Tuesday, 2 February 2021

Gumrah by Noor Ul Huda Shah

باب ٢...
             (گمراہ)

وہ سربازارفریاداپنی چیخ چیخ کربتاتارہا
لوگ اسےمجبورجان کرنوچتےرہے
جسکوجو،جتنااورجیساچاہئےتھا لےگیا
وہ دیکھتارہا
بین کرتارہا
اور بےبسی اپنی دھراتارہا
لوگ تکتے رہے
ہنستےرہے
لےجاتے رہے
وہ گمراہ ہوا
بےحس بنا
اور درندہ بن گیا

"نورلھدیٰ شاہ"

Sunday, 24 January 2021

Phool aur khushboo by Noor ul huda shah

باب١٩.... 
               (پھول اور خوشبو) 

باغ کی سب رنگینیاں مانندپڑگئیں
اس لئے زینت کوخود جلارہاہوں... 

پھول سبہی توڑ کر لے جاچُکے لوگ
اس لئے اب خوشبوئیں خود اُڑا رہا ہوں...
 
موسم بہار کی رنگین چادر اوڑھ لی ہے باغ نے
اب خزاں کے ڈر سے پھول خود ہی اُتار رہا ہوں...

لوگ تو میرے شہر کے خودغرض باسی ہیں 
میرا گُلشن اُنکے ہتھے چڑھ جائے 
اس سے پہلے خود ہی اُجاڑ رہا ہوں... 
 
میرے چمن کی سب شادابی چھین لی گئیں 
ہےاب صیاد بھی سُراغ میں گُل کے... 

میرا گُلشن میرا چراغ ہے 
آندھی آئے اس سے پہلے خود ہی بُجھا رہاہوں.... 

اِک شجر باغ کا منتظر ہے کب سے 
اب مایوس ہوکےخودہی رُخصت کاساماں باندھ رہاہوں.... 

نورلھدیٰ شاہ

Wednesday, 20 January 2021

Shehr e hawa by Noor Ul Huda Shah

باب ٦....
              {شہرِہوا}
 
کوشش کی گئی ۔۔۔
پانی لیا گیا۔۔۔
آگ کو بجھانےکی تجاویز پیش کی گئیں۔۔۔
آگ چار سو محو رقص تھی۔۔۔۔
کوئی کچھ محفوظ نہ کر سکا۔۔۔
سب تگ ودو رائیگاں گئی۔۔۔۔
آگ شہرکو خاکستر کر گئی۔۔۔
 قصہ تمام کر گئی۔۔
آہ ! آگ شہرِ ہوا میں لگائی گئی تھی۔۔۔

"نورلھدیٰ شاہ"

Saturday, 9 January 2021

Umeed by Noor Ul Huda Shah

باب١١..... 
                     ( اُمید ) 
میں رنگین ہوں میری تہہ میں لیکن سیاہی ہے...
میں محوِسفرہوں آسمان کے روشن ستارے کے ساتھ..
پر میں خاک کااِک زرہ ہوں....
میں رنگین چادراُوڑھ لوں لیکن تن پہ سیاہی گھول لوں... 
میں ابھی رنگین تتلی ہوں پرباغ میراویران ہے.... 
میں اپنے محنت کاچراغ لےکر خود نِکل پڑتی ہوں... 
جگہ جگہ گِرتی سنبھلتی ہوں.... 
میں روشنی کے پیچھےسات جہانوں کی سیرکرتی ہوں... 
اور اب میں اُمیدکوآگ لگاؤں..اوراندھیرے میں بڑھ جاؤں...! 

              (نورلھدیٰ شاہ)

Thursday, 7 January 2021

Koi dastak na de by Noor Ul Huda Shah

باب١٥...

کوئی دستک نہ دے

اس لئے تالا لگا رہا ہوں..

 

آسمان پرکالےبادل چھاگئے

اس لئےنقل مکانی کررہاہوں...

 

میرے چارسو بہت روشنی ہے

اس لئے دیاخود سے بجھا رہاہوں...

 

خودغرض بہت ہےزمانہ

اس لئےاپنےسائےکوچھوڑکرجارہاہوں...

 

باغ کی سب رنگینیاں مانندپڑگئیں

اس لئے اب باغ کوجلارہاہوں...

 

منزل پرنہ پہنچنےکی اذیت نہ ملے

اس لئےخودسےاپنی ٹانگیں کاٹ رہاہوں...

(نورلھدیٰ شاہ)