affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Friday, 9 August 2019

Aankhen by Salma Manzoor


ﮔﻼﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ , ﺷﺮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔
ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﮬﯿﮟ ، ﻻ ﺟﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻔﺖ , ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ۔
ﺛﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ، ﻋﺬﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ، ﺑﻼ ﮐﯽ ﺷﻮﺧﯽ۔
ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﺣﺠﺎﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﮐﺒﮭﯽ ﭼُﮭﭙﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﺭﺍﺯ ﺩﻝ ﮐﮯ۔
ﮐﺒﮭﯽ ﮬﯿﮟ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﮭﯿﻞ ﺟﯿﺴﯽ۔
ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﺳَﺮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﻭﮦ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ۔
ﺣﻀﻮﺭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ، ﺟﻨﺎﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﻋﺠﯿﺐ ﺗﮭﺎ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ۔
ﺳﻮﺍﻝ ﮐﻮﺋﯽ ، ﺟﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﯾﮧ ﻣَﺴﺖ ﻣَﺴﺖ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔
ﻧﺸﮯ ﺳﮯ ﮬﺮ ﺩﻡ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﺍُﭨﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻮﺵ ﻭ ﮬﻮﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﯿﻨﯿﮟ
ﮔﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ، ﮐﻤﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﮐﻮﺋﯽ ﮬﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﺮﻡ ﮐﺎ ﻃﺎﻟﺐ۔
ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕِ ﻭﺻﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﻧﮧ ﯾﻮﮞ ﺟﻼﺋﯿﮟ ﻧﮧ ﯾﻮﮞ ﺳﺘﺎﺋﯿﮟ۔
ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﮬﮯ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺍِﮎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﯾﺎﺭﻭ۔
ﯾﮧ ﺭُﻭﺡ ﭘﺮﻭﺭ ، ﺟﻤﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﺩَﺭﺍﺯ ﭘﻠﮑﯿﮟ ﻭﺻﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔
ﻣﺼّﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔

ﺷﺮﺍﺏ ﺭَﺏ ﻧﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﻣﮕﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺭکھیں ﺣﻼﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔؟

ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺍِﻥ ﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮬُﻮﺋﮯ ﮬﯿﮟ
ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ، ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔
💖💖💖

Tuesday, 6 August 2019

Qisa e dil by Komal Sultan


قصہ دل سے روح تلک پھیل گیا
کسی کا یاد آنا, اور بے حساب آنا

کومل سلطان خان....

Zindagi bs yehi hai by Komal Sultan

زندگی بس یہی ہے!!

کچھ خواب لیے
ننگے پاؤں
پانیوں پہ
گزرے لمحوں اور ارادوں کا
 عکس  دیکھتے ہوئے
دلدل پہ چلنا!!

کومل سلطان خان ۔

Khamoshi by Komal sultan

سنا ہے خاموشی بھی سفر کرتی ہے سکوں کے لیے
وہ بھی میری طرح,سلجھتے سلجھتے الجھتی ہوگی

کومل سلطان خان..

Dil lagi by Komal Sultan




دل لگی سے سرکشی کا اب کہ یہ عالم ہے
میں کہیں تہہ ِ آب ڈُوب جاؤں
اور تیری حسرت کنارہ لگے!!

کومل سلطان خان۔۔۔


KHawab by Komal Sultan

دِن ہے کہ اِسے ڈھلنے کی پڑی ہے,ہم ہیں کہ
 خواب میں بھی درِ دلِ جاناں تک رسائی نہیں

کومل سلطان خان...

 

Meri khani by Komal Sultan

مکمل کہانی

روحوں کے ربط بھی عجب ہیں
دنیا میں جسم ڈھونڈ ہی لیتی ہیں
مِلتے ہی کہا اس نے
کہو جو کبھی کوئی گماں سچ ہوا ہو
اک آدھ قصہ کہا میں نے
پھر اس سے کہا
چلو اب کہ تمھاری باری ہے
کہو جو الہام ہوا ہو کبھی
ایک الجھی سی نظر لیے
کہا اس نے گماں ہوتا ہے
”تمھاری ذندگی کا کچھ حصہ میرا ہے“
میں نے ہنسی میں ٹالا
پر آج ایک گماں نے سرگوشی کی
سرسری ملاقات میں ادھوری بات کو پورا کرنے کی
دل چاہا کے لکھوں اسے
میرے جانے کےبعد
یکجا کرو گے تم لفظ میرے
کِسی کِتاب جیسے سانچے میں
جب بھی مجھے ڈھونڈو گے
انہیں پڑھو گے مجھے پاٶ گے
مجھے پاٶ گے تو خود سے ملو گے
خود سے ملوگے توجان جاٶ گے
کہ میرا سب سے قیمتی حصہ
ہے تمھارے پاس
میرے مرنے کے بعد
میری کہانی کو
زندگی دینے کے ”ہنر“ کی صورت!!

کومل سلطان خان۔۔۔۔

Kahani by Komal Sultan


ہوئےجو تباہ ہم,تو یوں کنارا ہوئے وہ
کہ ہے تباہی جو , عمر بھر رہے گی !!

ہے حوصلہ تو شب ظلمت سے ڈر کیسا
گیا وہ دور کہ کہانی عنوان سہے گی!!

کومل سلطان خان...

Bd Gumani by Komal Sultan

نہیں کامی!!

زہر کسی اپنے کی
بدگمانی سے
کم ہی کڑوا ہے!!

کومل سلطان خان...

Dil by Komal Sultan


دلوں کی بند کھڑکھیوں پہ جالے اتر آئے تھے
ہجوم میں بس یہی ایک ربط کمال کا تھا !!

کومل سلطان  خان...

 

Dastan by Komal Sultan


یہ کیسی داستاں اندھیرے کی نزر ہوئی
کہ نور سحر کے واسطے خود کو بجھانا پڑ گیا!

کومل  سلطان خان...


Gham e jaan by Komal Sultan




تمھیں خود سے جدا کہہ کر
کیا غم جاں کا تذکرہ کرنا !

کومل سلطان  خان....



Aks by Komal Sultan




میں خیال دَر خیال،جمال ِعکس سہتا رہا
عجب کاریگر تھا، مجھ کو بے ہنر کر گیا!!

کومل سلطان خان ۔۔۔






Washat by Komal Sultan




وحشتوں کو ہے الفت بدگمانی سے کچھ یوں
بنا کھدائی , بن کر خندق دہکنے لگتی ہیں

کومل سلطان خان....




Zindagi by Komal Sultan


زندگی کا کیسا بھی پیرہن پہنا لوں دل کو
یہ مجھے جتانے کو,پگھل کر بہہ جاتا ہے

کومل سلطان خان۔۔۔

Teri yaad by Komal Sultan


تیری یاد انجان ہے آج مجھ سے بالم ایسے
 خود سے بچھڑی کسی کے نام کی سہاگن جیسے

کومل سلطان خان۔۔۔





Mhabbat by Komal Sultan


اس سے پہلے کہ
کسی ستارے کی چھاؤں پا لوں
یا خود ستارہ ہو جاؤں
سنو صاحب!!محبت,
بنا پاؤں کے بھٹکنے کا نام ہے

کومل سلطان خان...

Dar by Komal Sultan


ہوئےجو تباہ ہم,تو یوں کنارا ہوئے وہ
کہ ہے تباہی جو , عمر بھر رہے گی !!

ہے حوصلہ تو شب ظلمت سے ڈر کیسا
گیا وہ دور کہ کہانی عنوان سہے گی!!

کومل سلطان خان...

Rabty by Komal Sultan

جہاں پھولوں کو کھلنا ہے وہیں دہشتوں کے پھیرے ہیں
سانحہ کیونکر نہ ہوتا,علم کے عمل سے رابطے ادھورے ہیں

کومل سلطان خان....


Dast shanas by Komal Sultan



عجب دست شناس رہا میں بھی کہ اِک عمر
اپنی ہتھیلی پہ الفت کے جھمیلے پڑھ نا پایا

کومل سلطان خان...
 

Khayal by Komal Sultan










کل رات موت کو اتنے نزدیک سے دیکھا کہ آخری خیال یہ آیا کہ نیچے گرنے کی مہلت بھی نہیں ملے گی, آنکھیں کھلیں تو کہی لمحے زہن کو خالی پایا جیسے مر چکی ہوں.

یہ کہاں کا مسافر کہاں کھو گیا
منزل کچھ اور ہے اور ذاد راہ کچھ اور
کومل سلطان خان ۔۔۔۔

Us ny kaha tha by Komal Sultan








اس نے کہا تھا سنبھال کر رکھے گا مجھے
 اور پھر, مانند ریت بکھیرتا چلا گیا !!
کومل سلطان خان۔۔۔۔

Guman by Komal Sultan









میں کہاں تلک راستوں پہ دسترس رکھتا
میں اس کے جہاں میں تھا, جہاں نہیں تھا!

بھلا کیسے آرزو ملن کا آب حیات پا لیتی
میں اس کے گماں میں تھا, گماں نہین تھا !

سائے ہی ملنے تھے آخر خلش کی صورت
میں اس کے مکاں میں تھا, مکاں نہیں تھا!

اس کی بستی کا عالم منصفی تو دیکھو
جو قصہ ہر زباں پہ تھا, بازباں نہین تھا!!

کومل سلطان خان...

Log by Komal Sultan










کچھ لوگ آپکی زندگی میں ہومیو پیتھک ادویات کی طرح ہوتے ہیں ، نہ فائدہ نہ نقصان، اور اگر ہم کسی کو فائدہ نہیں دے سکتے تو ہومیو پیتھک ادویات کی پیکجنگ بن کر رہنے کی کوشش میں کوئئ حرج نہیں !!
کومل سلطان خان۔۔

Had by Komal Sultan










حد!!

سالوں پہلے,
سوات کے
سفید محل میں چاہے پیتے ہوئے
محبت کے پنپنے کو
جذبوں کی ہریالی میں
اس نے خزاں کو حد کہا تھا
اور میں نے حد کو خزاں کہا تھا !!

کومل سلطان  خان.

Musafir by Komal Sultan










مسافر تو بچھڑتے ہیں رفاقت کب بدلتی ہے
محبت زندہ رہتی ہے 'محبت کم بدلتی ہے
تمہی کو چاہتے ہیں اور تمہیں سے پیار کرتے ہیں
یہ ہے برسوں کی عادت اور عادت کب بدلتی ہے
کومل سلطان خان ۔۔

Judai by Komal Sultan










جدا ہوتا کوئی ہم سے تو ہم آنسو بہاتے تھے

بچھڑ جائے کوئی اب تو خوشی محسوس ہوتی ہے ۔

بسا اوقات یوں ہوتا ہے جیسے ہم نہیں ہوتے

سبھی ہوتے ہیں پر اپنی کمی محسوس ہوتی ہے

کومل سلطان خان ۔۔۔۔۔

Had by Komal Sultan












Woh or mein by Komal Sultan





جنت دیکھ کر سانسیں دونوں کی رکی تھیں
وہ معجزوں کا طلبگار ,میں حادثوں کا منتظر!!

کومل سلطان  خان
...






Dard k chehray by Komal Sultan





دَرد کے چہرے پہ آنکھیں اِک آس لیے روشن تھیں
ہائے میرا شاعر خود فریبی ہی میں مَر گیا
کومل سلطان خان







Barish by Zahida Tehzib








یہ خوشنما بارشیں ہمیں ہر بار تیری یاد دلاتی ہیں
ہمیں ہر بار بے انتہا بے تحاشا رلاتی ہیں
بارش کی بوندیں جب بھی میرے ہاتھ پہ پڑتی ہیں
ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے  ہمیں یہ تیری طرف بلاتی ہیں
جب بھی تجھے بھولنے کا ارادہ سا کرتے ہیں
بارش آتی ہے اور تیری یادیں کلبلاتی ہیں
اب کریں بھی تو کیا کریں اے صنم
کہ تجھے یاد نہ کریں تو یہ آنکھیں تلملاتی ہیں
کٸی بار یہ سوچا کہ بارش میں جی بھر کر نہاٸیں گے
لیکن بارش کی تیز بوندیں تیری یادوں کا جام پلاتی ہیں
وہ تو کب کا بھول چکا ہوگا تجھے اے تہذیب
دل یہ کہتا ہے بارشیں یہی پیغام سناتی ہیں
Written by zahida tehzib rao

Khushi by Sidrah Rajpoot










خوشی اک کھونٹی پر لٹکا رکھی ہے۔۔۔
گھر سے نکلوں تواوڑھ لیتی ہوں۔۔۔

Haya Gul Poetry








آج شوق سا ہوا مجھے خود سے ملنے کا...
اپنی ذات کا حال احوال سننے کا...
اٹھ کے جا پہنچی دل کے پہلو میں...
ذرا تجسس سا تھا اسکی حالت دیکھنے کا ...
دل نے نظر اٹھا کے دیکھا میری جانب...
مجھے گُمان سا ہوا اسکی اداسی کا۔۔۔
میں نے پوچھ ہی لیا کیوں اداس ہو تم۔۔۔؟
بولا حوصلہ ہےمیری اذیت سُننے کا؟؟؟
میں نے تڑپ کے دیکھا اس کی جانب۔۔۔
محسوس کرنا چاہا درد اسکا۔۔۔
ہنس  کے دھیرے سے دل نے کہا مجھ سے۔۔۔
بتاٶ ہنر ہے تم میں ضبط کرنے کا؟؟
میں نے ہولے سے جُھکایا سر اور حامی بھر لی،،
 بڑی محویت سے سُننے لگی غم اسکا،،
بےساختہ آہ نکل گئی میری۔۔۔۔
میں نے جب قریب سے دیکھا زخم اسکا۔۔۔
خون رستا ہوا دیکھا میں نے اس سے ۔۔۔
درد اذیت میں بدلتا ہوا دیکھا اسکا۔۔۔
ایسے اور بہت سے گھاٶ دیکھے میں نے،،
مگر پوچھ نہ سکی ستم گر انکا
میں نے زخموں کی بابت پوچھا اس سے،،
اور سننے لگی جواب اسکا۔
چیخ چیخ کہ رونے لگا پھر دل،،
لگا بتانے مجھے سبب انکا
بولا کسی اپنے کی بےرُخی کا۔۔۔
کسی بہت اپنے کی بے مروتی کا۔۔۔
کسی ہمنوا کے بچھڑ جانے کا۔۔۔
کسی سے لامحدود توقعات رکھنے کا۔۔۔
بولتے بولتے نوچ ڈالے اس نے سارے زخم۔۔۔۔
 ان آنکھوں سے دیکھا میں نے بِلکنا اسکا
دیکھ کے اذیت سلِب ہوٸی قوت گویاٸی۔۔۔
سوچا کیسے دوں حوصلہ اسے
کیسے کم کروں میں درد اسکا
بلکتا چھوڑ کے اسے کھڑی ہو گئ میں،،
مجھ سے برداشت نہ ہوا سِسکنا اسکا۔
بڑھائے میں نے جو قدم تو آواز دی اس نے،،
پلٹ کے دیکھا ہی نہیں میں نے حال اسکا
بڑی بے دردی سے تڑپتا چھوڑ آئی ھوں،،
میں نے سنا ہی نہیں نوحا اسکا۔۔

از قلم: ( حیا گُل )

Friday, 2 August 2019

Zindagi by Aqsa Saeed



برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانہ افروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں' پیہم رواں' ہر دم جواں ہے زندگی
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں سے ہے
سر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بے کراں ہے زندگی
آشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخیر سے
گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب!
اس زیاں خانے میں تیرا امتحان ہے زندگی-
 (علامہ اقبال)۔

Thursday, 1 August 2019

Kash by Showing Flower












         " قطعہ "
کاش بازی  یوں  پلٹ  جائے
اسے بھی کہیں قرار نہ  آئے
پل پل  تڑپے وہ  بے  تحاشا
ہر رات بلک کے آنسو بہائے
 
ازـشوئنگ فلاور


Aey yar aa bhi ja ke by Hafiza Kashmala Ahmed

اےیارآبھی جاکہ
یہ چمن ترساہےبہارکو
یہ لب تمنائی ہیں مسکراہٹ کے
یہ آنکھیں منتظر ہیں نورکی
کےاب دل لگتا نہیں کہیں
کےاب صبرکاپیمانہ لبریزہوچکا
*اےیارآبھی جاکہ اب تیرےبن گزارا نہیں*

Insan by Hafiza Kashmala Ahmed

*انسان*
خطاوں کامجسمہ,گناہوں کایار
ملائک سےناآشنا,رب سےغافل

کرتاہےغرورمثل حیثیت نمل
چاہتاہےرضائےبشر,جانتاہےخود کوکامل

رنگینیوں کاعاشق,حقیقت کامنکر
وفادارابلیس,مہورضائےیار

مہافظ اعلیٰ کتاب رحماں طاق میں محفوظ
یادمالک وجوددل میں دفن

فلک بوس یہ خودغرضی
دکھ میں خداسکھ میں یاد

شکون کی برسات, فرمائشوں کی قطار
دستک درہوتاہےگرفتارمصائب و آلام

Chup k zuban by Farah Kanwal











کاغز، قلم، سیاہی، میں اور یہ تنہائ
چپ کی زبان میں آکثر بات کرتے ہیں

Hum or tum by Farah Kanwal








یار سب اپنی محفل سے جب  اُٹھ کر جانے لگے
ہم نے اپنا ہاتھ تھام کر کہا "تم تو نہ جائو نا"


Maa by Farah Kanwal






جب تم ہی نہیں پاس میرے ماں
میری  عید  مبارک  کون  کرے
 
Farah kanwal