affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Fareeha Naqvi
Showing posts with label Fareeha Naqvi. Show all posts
Showing posts with label Fareeha Naqvi. Show all posts

Thursday, 3 May 2018

Milan by Fareeha Naqvi

ہم دسمبر میں شاید ملے تھے کہیں

 جنوری، فروری، مارچ، اپریل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اب مئی آگیا ۔۔۔۔
ایک سو بیس دن ۔۔۔۔
ایک سو بیس صدیاں۔۔۔۔۔۔ گزر بھی گئیں
تم بھی جیتے رہے,
میں بھی جیتی رہی۔۔۔
خواہشوں کی سُلگتی ہوئی ریت پر
زندگانی دبے پاؤں چلتی رہی
میں جھلستی رہی ۔۔۔۔۔۔
میں۔۔۔۔۔۔۔ جھلستی ۔۔۔۔۔۔ رہی
خیر ، چھوڑو یہ سب !
تم بتاؤ تمہیں کیا ہوا؟
کیوں پریشان ہو ؟؟؟؟


فریحہ نقوی


Tuesday, 17 May 2016

"وہ لڑکی"

"وہ لڑکی"

میں کتنی ساعتوں سے،
آئینے کے سامنے ساکت کھڑی، یہ سوچتی ہوں مجھ سے، وہ لڑکی، حقیقت میں،
ذیادہ خُوبصورت تھی؟
تو کیا تم واقعی اُس نازنیں کی صندلیں آغوش پا کر
بھُول بیٹھے تھے؟
"تمہیں مجھ سے محبت ہے"
مِری آ نکھوں سےبڑھ کر پر کشش آنکھیں تھیں کیا اُس کی؟
بتاؤ ناں 

 مگر ہاں ٹھیک ہے شاید،
کہ مجھ جیسی،
اُداسی میں بھری،
بیکار سی لڑکی سے اُلفت کے تقاضے بھی کوئی پاگل نبھاتا ہے؟
کہ ظاہر ہے،
جہانِ رنگ و بُو میں کوئی آخر بوجھ اُلفت کا،
بھلا کب تک اُٹھاتا ہے۔۔۔

فریحہ نقوی

Friday, 6 May 2016

دل میں سوئے سارے درد جگاتا ہے


دل میں سوئے سارے درد جگاتا ہے
بن موسم کی بارش، ایسا نوحہ ہے

میں نے آخری خط میں بس یہ لکھا ہے
"تم نے ....میرے بارے میں... کیا سوچا ہے...... ؟ "

پھر سے جانا چاہا تھا؟ تو کہہ دیتے
پہلے کتنی بار، بتاؤ ، روکا ہے

ناراضی میں ہجر کی دھمکی دیتی ہوں
سچ پوچھو تو سوچ کے بھی دل ڈرتا ہے

دل کے در پر تیری یاد کے پتھر نے
ہر آنے والے کا رستہ روکا ہے

دن کے اجلے رنگ نہ تم کو بھاتے تھے
دیکھو میں نے شام کا آنچل اوڑھا ہے

آج بدن میں ایک عجب بے چینی ہے
خون ہے یا تیزاب رگوں میں چلتا ہے؟

آنکھ اور بادل دونوں ٹوٹ کے روتے ہیں
جانے ان کا آپس میں کیا رشتہ ہے

کچھ تو فقط محفل کی رونق ہوتے ہیں
پھر ان کو شاعر بھی بنانا پڑتا ہے

کوئی تو سچ کہنے کی ہمت لے آئے
یا پھر یونہی بیٹهے کڑھتے رہنا ہے؟

کیا اس درجہ بدعنوانی جائز ہے؟
کس کا شعر تھا ، کس کے" باغ" میں مہکا ہے

فریحہ نقوی


تمہیں پتا ہے؟ مرے ہاتھ کی لکیروں میں


تمہیں پتا ہے؟ مرے ہاتھ کی لکیروں میں
تمہارے نام کے سارے حروف بنتے ہیں

فریحہ نقوی

ہر کونے میں دیپ جلا کر کھول رکھا ہے دروازہ

ہر کونے میں دیپ جلا کر کھول رکھا ہے دروازہ
اک دو دن میں لوٹ آئے گا ، خیر سے آئے شہزادہ

فریحہ نقوی

Monday, 2 May 2016

دل اُداسی سے بھر دیا ہے


ہمارے کمرے میں پتیوں کی مہک نے
سگریٹ کے رقص کرتے دھوئیں سے مل کر ،
عجیب ماحول کر دیا ہے
اور اس پہ اب یہ گھڑی کی ٹک ٹک نے،
دل اُداسی سے بھر دیا ہے
کسی زمانے میں ہم نے،
ناصر، فراز، محسن، جمال، ثروت کے شعر

 اپنی چہکتی دیوار پر لکھے تھے
اب اس میں سیلن کیوں آگئی ہے........ ؟
ہمارا بستر کہ جس میں کوئی شکن نہیں ہے ، اسی پہ کب سے،
(وہ دائیں جانب، میں بائیں جانب.... )
نہ جانے کب سے دراز ہیں ہم ...

 میں اس سے شاید خفا نہیں ہوں ،
اُسے بھی کوئی گلہ نہیں ہے
مگر ہماری خمیدہ پشتیں جو پچھلی کتنی ہی ساعتوں سے
بس ایک دوجے کو تک رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھک گئی ہیں

 !

فریحہ نقوی