affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ikhlaq Ayub
Showing posts with label Ikhlaq Ayub. Show all posts
Showing posts with label Ikhlaq Ayub. Show all posts

Tuesday, 12 May 2020

Dil lagi by Ikhlaq Ayub

اپنوں  سے دل لگی کا زمانہ نہیں رہا
اُن کی گلی میں روز کا جانا نہیں رہا

تیمارداری کو تھے کب سے ہی  منتظر
پوچھیں تو صاف کہنا ؟ دیوانہ  نہیں رہا

Manzer by ikhlaq ayub

اُس  گنبدِ خضریٰ  کے نظارے نہیں بھولے
منظر وہ کرم کے تھے پیارے نہیں بھولے
 اس ارضِ مقدس پہ جو پہنچے تو نصیبا
دامن میں جو اُترے تھے ستارے نہیں بھولے
اب کیسے کوئی بھائے بھلا   مجھ کو میاں جی

طیبہ میں جو دن رات گزارے نہیں بھولے

Wafa by Ikhlaq Ayub

محبت میں وفاداری سمجھانے لگے
میرے تو آئے ہوش بھی اڑانے لگے

لوگ ملتےہیں روز تیری دہلیز چومتے
سمجھ گئے ہو کیوں یہ سب آنے جانے لگے

تمہیں تو خیر کوئ پتہ نہیں ناں، جانتا ہوں
 ہم تو پاگل ہیں جو تم کو سب بتانے لگے

غیر کا حق ہے آزمائے مجھ کو
غضب یہ ہے کہ بھائی، بھائی کو آزمانے لگے


اخلاق ایوب

Muhabbat by Ikhlaq Ayub

آنکھوں کی نمی نہیں جاتی
غیر کی بات اب سہی نہیں جاتی

ارے واہ تم نے اتنا کچھ کہہ ڈالا
ہم سے کوئی بات کہی نہیں جاتی

تجھ سےمحبت تھی تبھی چپ رہے ورنہ
منہ میں آئی بات اکثر رہی نہیں جاتی

ویسے تو میرے پاس سب کچھ ہے
بس ایک  تیری کمی نہیں جاتی

ان کی زلفوں کے خم اور نین کا کاجل توبہ
ان کے رخسار سے نظر  نہیں جاتی

اے نکتہ داں میری باتوں کو تُو تو سمجھ
کس لیے وہ میرے پاس سے  نہیں جاتی

ان کی نم آنکھوں کا سبب جان گیا ہوں لیکن
یہ وہ رمز ہے جو اجنبی سے کھلی نہیں جاتی

وہ چھوڑ گئے ہیں تو میں کیوں شور کروں
غضب یہ کہ یہ بات  دبی نہیں جاتی

وہ تو خوش ہے اپنے بچوں میں میاں
لگن دل لگی نہیں جاتی

وہ روتی ہے یاد کر کے مجھے شب بھر
بکواس بندکر؟یہ بکواس سُنی نہیں جاتی

میاں اخلاق ایوب

Gham E Hussain by IKhlaq ayub

غمِ حسین میں جو لوگ عزاداری نہیں کرتے
قسم خدا کی نبی سے وفاداری نہیں کرتے

واہبِ قلبی ہے مجھ کو ناز  تیری قسمت پہ
جسے حسین بلائیں وہ انکاری نہیں کرتے

مانا کہ وہاں سارے مسلماں  ہی ہوں گے
حلالی کبھی حسین سے غداری نہیں کرتے

میاں اخلاق ایوب

Pyair by ikhlaq ayub

جا رہی ہو تو پیار لے جاؤ
کر رہے ہو تو انتظار لے جاؤ

روز کہتے ہو ساتھ آو ناں
ہمیں  اس بار ساتھ لے جاؤ

میرا ہونے سے جو انکار ہے تو کام کرو
یہ انکار ہی  انکار لے جاو

اس میکدے  میں پکارنا ہو گا  اسے
جو تیرے رند ہیں پکارو  لے جاؤ

تم محبت کرتی تھی پھر یہ کیا؟
اچھا خود کے ساتھ یہ انکار لے جاؤ

سیکھی نہیں پیار میں جیت اور ہار
 اس ہار کی ہار سے ہار لے جاؤ

ہمارے دوش پہ جو خوشیوں کی شالیں ہیں
کونسی ہے تیری اپنی اتار لے جاؤ

میاں اخلاق ایوب

Ehad by Ikhlaq ayub

جا رہے ہو تو کچھ عہد نبھاتے جاؤ
جیتے ہوؤں کا سوگ مناتے جاؤ

گلے ملنا اور دیکھنا جی بھر کے تمہیں
سب میرا وہم تھا تم سرکو ہلاتے جاؤ

دل جو توڑا ہے تو رفو بھی تم ہی کرو
ورنہ اس دل گیر کا کوئی علاج بتاتے جاؤ

تیری آنکھیں جھیل ہیں اچھا تو پھر ٹھرو
جھیل ویراں کے معانی تو بتاتے جاو

Nadan by Ikhlaq ayub

ہم اگر یار تمہیں بات بتانے لگ جائیں
یہ جو  ناداں ہیں ہمیں  سمجھانے لگ جائیں

یہی صحرا، شہر ہوسکتا ہے  یقیں ہے
تم جیسے حسیں لوگ اگر آنے لگ جائیں

اب اگر بچھڑیں گے تو سدھروں گا نہیں
 ہو بھی سکتا ہے اگرساتھ نبھانے لگ جائیں


کس میں  ہمت ہے پھر آنکھ اٹھا کر دیکھے
 سہواً وہ اگر  آنکھ دیکھانے لگ جائیں

اس پہ کیا لڑنا کہ اس کے ساتھ  نشت ہے میری
مرضی ہے وہ جسے پاس بٹھانے لگ جائیں

un k nazer by Ikhlaq ayub

جو ان کی نظروں میں آ گئے ہیں
زمانے بھر پہ وہ چھاگئے ہیں

نہ جائیں گے بزمِ غیر میں ہم

کہ دل کی نگری میں آ گئے ہیں

پیا ہے جامِ وفا کو جب سے

خودی میں گویا سما گئے ہیں


کرائیں دیدار بے کسوں کو

دیوانے چوکھٹ پہ آ گئے ہیں


تمھاری صورت ہے نقش دِل میں

سبھی سے دامن چُھڑا گئے ہیں

سبھی کو بھر بھر کے، ہم کو خالی

ستم کہ ساقی رُلا گئے ہیں


کمال ان کا ہی ہے میاں جی


جو ہم سے چاہت نبھا گئے ہیں