affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Khansa Anwar
Showing posts with label Khansa Anwar. Show all posts
Showing posts with label Khansa Anwar. Show all posts

Monday, 22 November 2021

Chalo ao chalty hain by Khansa Anwar

عنوان:

 چلو آؤ چلتے ہیں

خنساء انور

 

چلو آؤ چلتے ہیں

سمندر کنارے،

ڈوبتے سورج کا منظر دیکھتے

پرانی یادوں میں کھو جاتے ہیں

چلو آؤ چلتے ہیں

کسی پہاڑ کے دامن میں

کسی بنجارے کی داستان سننے

کسی کوئل کا سکھ سنتے ہیں

چلو آؤ چلتے ہیں

محبت کی زمینوں پر

وفاؤں کا مطلب جانے

ہجر کے قرینے پڑھنے

چلو آؤ چلتے ہیں

اک سنہری شام

بارش میں بھیگتے ہوۓ

کچھ عہد باندھتے ہیں

چلو آؤ چلتے ہیں

**************

Wednesday, 27 October 2021

Han mujhy acha lagta hai by Khansa Anwar

عنوان:

ہاں مجھے اچھا لگتا ہے

خنساء انور

بادلوں کی اوٹ میں

چھپے چاند کو تکنا

اور تکتے تکتے

بے خودی کے عالم میں

تمھیں سوچنا

ہاں مجھے اچھا لگتا ہے!!

 

ستاروں بھری رات میں

چاند کی چاندنی کو

حسرت بھری نگاہوں سے  تکتے ہوۓ

تمھیں سوچنا

ہاں مجھے اچھا لگتا ہے!!

 

قوسِ قزاح کے بکھرتے رنگوں

کو دیکھنا اور

ان رنگوں میں کھو کے

تمھیں سوچنا

ہاں مجھے اچھا لگتا ہے!!

*************

Woh ek haseen larki by Khansa Anwar

عنوان:

وہ اک حسین لڑکی

خنساء انور

 

جھیل کنارے بیٹھی ہوئی

رب سے شکوہ کرتی ہوئی

نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئی

وہ اک حسین لڑکی

 

چوریاں ٹوٹنے پے واویلا مچاتی

خواب ٹوٹنے پے خاموش رہتی

وہ اک حسین لڑکی

 

سیاہ آنکھوں میں شکوہ لیے، خاموش رہتی

دل میں جذبات رکھتی، مگر عیاں کرنے سے ڈرتی

وہ اک حسین لڑکی

 

کسی کی عزیزِِ جان تو

کسی کی وبالِ جان

مگر خاموش رہتی

وہ اک حسین لڑکی

 

رات کے پہر، خلاوں میں دیکھتی

چاند سے باتیں کرتی

وہ ایک حسین لڑکی

 

اپنی دنیا میں مگن

خوابوں میں جیتی

سیاہ دل والی

وہ اک حسین لڑکی

 **************** 

Friday, 1 October 2021

To kya tamasha ho by Khansa Anwar

 

عنوان:

تو کیا تماشا ہو

ہم جو محبت کر بیٹھیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو انکار اقرار کا تبدل کر دیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو آزاد پرندوں کو قید کر دیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو منزلوں کو بدل دیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو ہواؤں کے رخ موڑ دیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو محبت کے قاعدوں کو سچا مان لیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو وفا کے اصول نبھائیں تو کیا تماشا ہو!!

خنساء انور

************

Wednesday, 29 September 2021

Mazi ki yaden by Khansa Anwar

 

تمھاری آنکھیں کلام کرتی ہیں

جس پل تمہارے پاس لفظ نہ ہوں گیں

میں اِن آنکھوں کو پڑھوں گا

آہ...

ماضی کی یادیں

نا جانے کیوں جاتے ہوۓ وہ میرے الفاظ کا منتظر تھا

میری آنکھیں تو اُس دن بھی ہم کلام تھی

کیوں وہ اپنی کہی گئی بات کا مان نہیں رکھ سکا۔۔۔۔

کیا میری آنکھوں نے اسے جانے کی اجازت دی تھی؟؟!!

 

خنساء انور

Saturday, 18 September 2021

Sabab mehz tum by Khansa Anwar

عنوان:

 سبب محض تم

خنساء انور

 

اُجڑے، ویران درختوں کو دیکھتی ہوں اور محض مسکرا دیتی ہوں

 

درختوں کی ویرانی کا سبب موسم ہے اور میری ویرانی کا سبب محض تم

 

جگنو، رنگ برنگی تتلیوں کو دیکھتی ہوں اور محض مسکرا دیتی ہوں

 

جگنو بھرنے کی خوائش میں میری زندگی میں ویرانی بھرنے کا سبب محض تم

 

بدلتے موسموں کو دیکھتی ہوں اور محض مسکرا دیتی ہوں

 

میری زندگی کے موسموں کو اجاڑنے کا سبب محض تم

 

درختوں میں موجود پرندوں کے آشیانوں کو دیکھتی ہوں اور محض مسکرا دیتی ہوں

 

میرے آشیانے کو ویران کرنے کا سبب محض تم

******************

 

Friday, 17 September 2021

Sab bhool jati hoon by Khansa Anwar

عنوان:

سب بھول جاتی ہوں

خنساء انور


یوں تو شکوے ہیں بہت

مگر

جب اُن آنکھوں کو تکتی ہوں

بے خودی کے عالم میں

سب بھول جاتی ہوں

 

یوں تو درد ہے بہت

مگر

ہاتھوں پے پڑے چھالوں پے

جب نگاہ پڑتی ہے

سب بھول جاتی ہوں

 

آنکھوں میں حسرت لیے

جب اُسے تکتی ہوں

اور

جب وہ میری حسرت کو بھانپ لیتا ہے

تب

اُسکی مسکراہٹ کو تکتی

سب بھول جاتی ہوں

******************8

Wednesday, 15 September 2021

Ik sacha sathi tha woh by Khansa Anwar

عنوان:

اک سچا ساتھی تھا وہ

خنساء انور

دوستوں کی بھیڑ میں

اک سچا ساتھی تھا وہ

لوٹ آنے کا وعدہ کر کے

دنیا میں کھو گیا تھا وہ

کر کے پورے خواب سارے

وعدے ادھورے چھوڑ گیا تھا

آیا تھا خوشیوں کی نوید دینے

پر پہاڑِ غم توڑ گیا تھا

میرے قدموں میں ڈھیر کرنی تھی دنیا

مجھے ہی ڈھیر کر گیا تھا

یوں تو بھاتی تھی نازکی تتلی کی

پٙر میرے ہی کچل گیا تھا

دوستوں کی بھیڑ میں

اک سچا ساتھی تھا وہ

*************

Chaly thy hum by Khansa Anwar

عنوان:

چلے تھے تم

خنساء انور

 

سب قسمیں، ایفائے عہد توڑ کر، مٹی کی بوسیدہ عمارت بنا کر، چلے تھے تم

الوداع کلمات کہے بنا، میری سنے بنا، کچھ کہے بنا، چلے تھے تم

قصور وار ٹھرا کر، پاؤں میں بیڑیاں ڈال  کر، آن دیکھے درد میں مبتلا کر کے، چلے تھے تم

موم سی گڑیا کو آگ میں دھکیلے، بے فکر ہو کے، چلے تھے تم

زندہ وجود کو مردہ مان کر، منوں مٹی تلے دفنا کر، چلے تھے تم

رختِ سفر باندھ کر، آزادی کا پروانا لیے، مجھے زندان میں قید کیے، چلے تھے تم

************