affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Hajira Aqeel
Showing posts with label Hajira Aqeel. Show all posts
Showing posts with label Hajira Aqeel. Show all posts

Tuesday, 23 June 2020

Beenai by Hajira Aqeel


یہ کس کے قبضے ہیں میری سماعت پر
کس نے محبت کی ایسی کہانی سنائ
یہ کس کی چاہت نے کر دیا مجھے اندھا
کس پری رو نے چھین لی میری بینائ
ہاجرہ عقیل

Tuesday, 21 April 2020

Khawabon ki tabeer by Hajira Aqeel


ۓ نظریں نہ ملا پاۓعہد محبت کرتے ہو
تم جانتے تھے ہمیں بیچ سفر میں چھوڑ جانا ہے
تیرے خوابوں کے لیے نیندیں قربان کیں تو جانا
تمہارے خوابوں کی تعبیر نے ہمیں توڑ جانا ہے
ہاجرہ عقیل



Wednesday, 11 March 2020

Poochta hai apni woqhat by Hajira Aqeel


سب کھو کر بھی سب پایا ہے
وہ گر کہہ دے کہ ہمارا ہے
طوفان سے بھی کیسے بچ نکلے آج
ہمیں تو اسکے لفظوں کا سہارا ہے
منزل اپنے راہی کو خود پہچانتی ہے
کون کہتا ہے عشق خسارہ ہے
پوچھتا ہے وقعت اپنی محفل جاناں میں
کوئ بتا‏ؤ‌ وہ تو ہمیں جان سے بھی پیارا ہے
ہاجرہ عقیل

Saturday, 8 February 2020

Teri nigahen hmen rasta dikhati hain by Hajira Aqeel


تیری نگاہیں ہمیں رستہ دکھاتی ہیں
تیرا دامن تھامے اپنے شہر کے پار چلے آئے
یہ پازیب فقط تیری گلیوں میں بولتی ہے
ہم تو بن بلائے بھی کئی بار چلے آئے
سب کچھ لٹا دیا خواہش یار کے آگے
پھر بھی آخری داؤ لگانے سر بازار چلے آئے
جب نم آنکھوں نے اپنی گواہی دینا چاہی
ہم پر فتوے لگانے اس کے طرفدار چلے آئے
قسم کی پاسداری تو کوئی ہم سے سیکھے
جو قتل ہونے کے بعد بھی کوچہ یار چلے آئے
(ہاجرہ عقیل)

Saturday, 28 December 2019

Tere naam pe dil kiun dharakta hai by Hajira Aqeel



جب تیری  ذات  کا  محور  کوئی  اور  ہے
پھر دل تیرے نام پہ کیوں دھڑکتا  ہے
اس سے کہو  کہ آ  کر  سب   لے  جائے
کچھ چھوڑ گیا ہے جو آج بھی چبھتا ہے
سب زمانے تھے کبھی جس کی دسترس میں
اسکے بغیر اب اک لمحہ بھی نہیں گزرتا ہے
گر وہ خوش ہے کسی اور کے  ساتھ  بھی
پھر کسے مانگنے وہ رات بھر مزاروں پر رکتا ہے
(ہاجرہ عقیل)

Monday, 28 October 2019

kya chahat reh gei usko husan ki by Hajira Aqeel



کیا چاہت رہ گئی  اس کو حسن  کی
جس کی نظر تجھ سے چار ہوئی
ہم پر یقین تو اٹل تھا اس کو
پھر بھی ہماری آزمائش ہر بارہوئ
محبت نے ہماراخیرمقدم نہ کیا
دوستی کی سرحد جب پار ہوئی
تجھ سے کوئی غلطی نہ ہوئی محبت میں
ہماری ہی کمی ہر بار ہم پر آشکار ہوئی
سب حیران رہ گئے محبت کے راستوں سے
ہر رہ گزر  جب خاردار ہوئی
لا اعتنائی کا دکھ نہیں  اس وجود کو
یہ روح جب  محبت سے سرشار ہوئی
 (ہاجرہ عقیل)

Monday, 26 August 2019

Bin mangy he jo tu ata kar deta hai mola by Hajira Aqeel



بن مانگے ہی جو تو عطا کر دیتا ہے مولا
تیرے در پہ مانگنے والوں کا کیا حساب ہو گا
چاہ وہ ، جو دعا بن کر تیرے سامنے جھکاتی ہے
تعبیر یوں حسیں ہے، تو پھر کیا خواب ہو گا
تو نے سہارا دے دیا جس ناتواں کو
وہ تیرے جلوے کے لیے کس قدر بے تاب ہو گا
گر عبادتیں محض ثواب کے لیے کی جائیں
تو کیا ان عبادتوں کا بھی ثواب ہو گا
وہ جس کسی کو بھی بولنے میں کمال حاصل ہے
اک روز وہ بھی تیرے آگے لا جواب ہو گا
جس  کو  تیرے  در  کی  لو  لگ  جاۓ
وہ تا عمر حاضری سے بھی کب سیراب ہو گا
(   ہاجرہ عقیل )

Wednesday, 10 July 2019

Urdu ghazal by Hajira Aqeel


URDU GHAZAL
اس   کو  بھلانے  کی  جہد  میں  ہوں  مگر
بھولتا   نہیں  اسکی   دید کے  پل  کا  سحر
پورا جہان افسردہ رہتا ہے کسی کی یاد میں
جہاں وہ  قدم رکھے خوشبو  کا  رنگین  شہر
تہی داماں جب  دیکھوں خالی  ہاتھوں  کو
لکیروں میں ڈھونڈوں تیرے نام کی اک لہر
اس  کو  یاد  ہی   نہیں  وہ   موڑ  جس  پر
آنکھیں انتظار  کرتی ہیں  اسکا  آٹھوں  پہر
اک اسکی  بے نیازی  اک  ہماری  جاں فشانی
کسی سے نہ کہتے پر تو اک  پل تو  اور  ٹھر
دل سے بھی گئے جاں کی بھی آخری بازی لگادی
کاش پیتے ہی نہ تیرے نام کا  وہ  میٹھا  زہر
ہاجرہ عقیل

Thursday, 27 June 2019

Woh jis ke dum se abad thi dil ki veerani by Hajira Aqeel



وہ جِس کے دَم سے آباد تھی ہمارے دِل کی وِیرانی
ہوتی تھی ہر صُبح کی شُروعات اُسکے نام سے
دُنیا چلتی تھی اُس کی رفتار سے' ٹھہرتی تھی اُسکی چال پہ
اُن نِگاہوں کا نشہ ذیادہ تھا' میخانے کے ہر اِک جام سے
بڑے شِکوے سمیٹ کر' اُسکی تاک لگائے بیٹھے تھے
اُس مُسکراہٹ سے کیا تماشا ہوا' گئے ہم ہر اِک کام سے
اتنے وعدے کیے تھے جو ادھورے رہ گئے ہمارے
ہم تو چلتے رہے' تُم ہی مُڑ گئے محض دو گام سے
تیری تبسم کی وجہ میں ہوں۔۔۔ پل جِس
وہ لمحہ شاندار ہے' مری گُزری ہر شام سے
مُجھ سے منسوب ہر چیز پر تیری چھاپ ہے
وِیرانی کی لہر جاتی ہی نہیں' مِرے گھر کے دَر و بام سے
ہم تو خود کو انمول سمجھ کر ہی جیتے رہے
اور مُنافِق ایسے کہ آج خوش بھی ہیں' تیرے لگائے دام سے

Sunday, 23 June 2019

Urdu ghazal by Hajira Aqeel


Urdu ghazal
آج پھر دِل و دِماغ کے دریچے وَا ھوئے
آج   پھر  پُرانے   نِشتر   جَواں  ھو ئے
محفل میں اس کے جلوے کی دیر تھی
میرے کُل ہوش و حواس ناتواں  ھوئے
میرے عِشق کا اعتبار ہی نا ہوا تُجھ سے
ھم تیرے لیے محض آزمائش کا ساماں ھوئے
تیرے  قِصّوں میں اب میرا ذِکر ہی   نہیں
اور تُم نا جانے کب میری کائنات، مِرا جہاں ہوئے
زندگی گُزارنے کی آس لے کر تیرے دَر پر آئے تھے
تِرا سراپا نِگاہوں میں سجا کر تِرے آستاں سے روَاں ہوئے
  (ہاجرہ عقیل)