affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Serosh Saher
Showing posts with label Serosh Saher. Show all posts
Showing posts with label Serosh Saher. Show all posts

Tuesday, 3 January 2023

Naya saal by Serosh Saher

""نیاسال

نیاسال آیا ہے اے دوست

امید نو ساتھ لایا ہے اے دوست

رشتوں کی ٹوٹی مالا کو

پھر سے جوڑنے آیا  ہے اے دوست

اداس لوگوں  کے چہروں پر

مسکراہٹیں لایا ہے اے دوست

تڑپتے،بیمار لوگوں کےلیے

بن کر شفا آیا ہے اے دوست

ظالموں کےدلوں میں بھی

خوف خدا لایا ہے اے دوست

خوف و  ہراس میں ڈوبے لوگوں کے لیے

پیغام امن لایا یے اے دوست

میرے وطن کے  گلشن میں

بن کر بہار آیا ہے اے دوست

(سروش  سحر)

****************

Friday, 30 December 2022

Ghazal by Serosh Saher

غزل

میں ہوش میں تھا اگر تو اس پہ مر گیا کیسے

یہ زہر محبت من میں یوں بھر گیا کیسے

 

کچھ اس کے انداز میں لگاوٹ ضرور تھی ورنہ

وہ میرے دل میں یوں اتر گیا کیسے

 

ضرور اسکی ہی یہ مہربانی ہو گی ورنہ

نشے میں اپنے ہی گھر میں پہنچ گیا کیسے

 

اسکی پر فریب محبت میں اے دوست

میں تپتے صحرا کا سفر بھی کر گیا کیسے

 

جسے بھلانے میں ہی ہو گیا تھا ناامید

میں آج اس سے رخ پھیر کر گزر گیا کیسے

 

ابھی تک حیرانی برقرار میری ہے سحر

وہ جو محوب تھا مجھے میرے دل سے اتر گیا کیسے

(سروش سحر)

*********

Aye humnawa by Serosh Saher

یہ غلط فہمی ہے تیری اے ہمنوا

کہ ہم مرتے ہیں تم پر اے دلربا

 

معصومیت میں لپٹی تیری ہر ادا

کرتی ہو گی زمانے کو تجھ پر فدا

 

سج سنور کر آتی ہے جو سامنے

تو سمجھتی ہے  مجھے لے گی پھنسا

 

پھنسے ہیں نہ پھنسیں گےتیرے اس جال میں

بے کار کے یہ تیر نہ ہم پر چلا

 

ہے یہی بس تجھ سے اک التجا

سر پر اپنے آنچل کو لے تو سجا

 

لب پر ہر دم ہے اب سے یہ دعا

اللہ اس ڈائن کے شر سے مجھکو بچا

(سروش سحر)

************

Ghazal by Serosh Saher

غزل

چپکے چپکے رات دن تیرا مسکرانا یاد ہے

ہم کو تیری دلگی کا وہ فسانہ یاد ہے

 

چوری چوری جس طرح تم دیکھتے تھے ہمنوا

مدتیں گزریں پر اب بھی وہ اندازحجابانہ یاد ہے

 

گرمیوں کی دھوپ میں بس میری اک جھلک کے واسطے

وہ تیرا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے

 

سج کے سنور کے ،مسکرا کر دعوت حسن دیتے ہوۓ

میرے کمزور دل پہ تیرا بجلی گرانا یاد ہے

 

مجھ سے ملتے ہی وہ کچھ بے تاب ہو جانا تیرا

اور پھریوں حق سےصنم گلے سے لگانا یاد ہے

(سروش سحر)

***************

 

Wednesday, 21 December 2022

Marz e ishq by Serosh Saher

"مرض عشق"

کہ مرض عشق میں جاناں ، گہن نیندوں کو لگتا ہے

اور جب یہ آنکھ جگتی یے ، درد دل میں پھر اٹھتا ہے

 

کہ کالی رات میں اکثر ، جب سب سپنوں میں کھوۓ ہوں

کوئ بچھڑا ہوا ساتھی ، پھر یادوں میں جگتا ہے

 

اور ان یادوں کے جگتے ہی ، درد دل کے بڑھتے ہی

کوئ مضبوط بندہ بھی ، ضبط پھر کھونے لگتا ہے

 

سمجھتے ہو کہ وادی عشق ،  بہت پر کیف وادی یے؟

اور اس وادی کا ہر طائر ،  میٹھے گیت گاتا ہے؟

 

ارے پاگل یہ وادی تو ،  بہت پر خطر وادی ہے

جو اس رستے پہ چلتا ہے ، وہ مرتا ہے نہ جیتا ہے

 

کہ مرض عشق میں جاناں ، بہت تکلیف ہوتی ہے

اور اس تکلیف میں اکثر ، وہ بے جاں ہونے لگتا ہے

(سروش سحر)

************ 

Mujh ko be jan kar gaye ho tum by Serosh Saher

مجھ کو بے جان کر گئے ھو تم

جب بھی اس کو کہتی تھی    میں

مجھ کو نا چھوڑ کے جانا تم

وہ ھنستا تھا اور کہتا تھا

پاگل ھو بالکل پاگل تم

میں کیسے چھوڑ کے جاوں گا

ذرا یہ بتلاو مجھ کو تم

میں تیری ذات کا حصہ ھوں

اور میری ذات کا حصہ تم

جاناں میں ضرورت تیری ھوں

اور میری بھی ھو ضرورت تم

تجھ کو بھی الفت مجھ سے ھے

میرا بھی پہلا پیار ھو تم

میں ھی تیرا سنسار ھوں نا؟

اور میری کل کائٓینات ھو تم

وہ توڑ گیا مجھے چھوڑ گیا

جو کہتا تھا میری جان ھو تم

یوں جاں کہہ کہہ کر او جاناں

مجھ کو بے جاں کر گۓ ھو تم  (سروش سحر)

**************


Mahi by Serosh Saher

ماھی

من اپنے اگن لگا تو ماہی

میرے پیار دا دیپ جلا تو ماھی

میں پاگل جھلی ہوئ پھردی آں

ہن میرے گھر تو آجا ماہی

میں اپنا دل تیرے ناویں لایا

اینج شک نہ کر میرے پیار تے ماھی

جیدا تیرے ورگا یار جو ہووے

اونوں کسے ہور نال کی سروکار وے ماھی

مینوں دسدا نہیں کوئ تیرے باجوں

تو ہی میری کل کائنات وے ماھی

(سروش سحر)

**************

Ghazal by Serosh Saher

غزل

کوئ امید بر نہیں آتی

تجھ میں ہمت نظر نہیں آتی

 

تو جو کہتا تھا چاند توڑ لاؤں گا

تاروں کی شکل بھی نظر نہیں آتی

 

گر ہے جرات تو کچھ کر کے دکھا

ورنہ بات بنتی نظر نہیں آتی

(سروش سحر)

**************


Ghazal by Serosh Saher

غزل

ایک سہولت دیتی ہوں

تجھ کو ہمت دیتی ہوں

میں تو جنگ پسند ہوں نا!

تجھ کو اجازت دیتی ہوں

شہر میں امن تو قائم کر

میں تجھے جرات دیتی ہوں

بولوں گی نہ بات کوئ

میں تجھے دعوت دیتی ہوں

کر تبدیل جو کرنا ہے

میں تجھے قدرت دیتی ہوں

(سروش سحر)

***************

Haal e dil by Serosh Saher

حال دل

دل کی حالت دل ہی جانے ، جانے نہ کوئ اور

مانے یا کوئ مانے نہ رے ،  میں تو ہوئ بے زور

دل کے آگے ایک نہ چلتی ،  دل زور کرے سائیں اور

پر جب اگلا ہی کوئ قدر نہ جانے  ،  تو پھرکاہے سر پھوڑ

****************

Zid by Serosh Saher

ضد

ضد کرتا ہے میرا پاگل دل

کہ ساجن پاس مجھے جانا ہے

میں لاکھ بہانے کر بیٹھی

پر میری ایک نہ مانا ہے

میں بولی پگلے مت کر تنگ

اسکا تو دور ٹھکانہ ہے

وہ بولا چل ری چل ہٹ تو

مجھے اس کے پاس ہی جانا ہے

(سروش سحر)

*************

Yaad any lagi by Serosh Saher

چاندنی رات میں اسکی یاد آنے لگی

محبت اور بھی جاگی دل کو تڑپانے لگی

پہلے تو آتی تھی صرف خیالوں میں میرے

اب میرے خوابوں میں بھی آنے لگی

اسکے عشق کی میٹھی میٹھی سی آنچ

میرے وجود کو سلگانے لگی

ظالم سراپا ،معصومیت اور قاتل نگاہیں

اسکی ہر اک ادا میرا دل لبھانے لگی

دل تو کرتا ہے کہ اسکو بھی بتلاؤں میں

کہ تیری یاد ہر پل مجھے ستانے لگی

پھر حال دل اسکو سنا کر اس سے پوچھوں یہ سحر

کہ کیوں مجھے تو اسقدر بھانے لگی

(سروش سحر)

******************

Saturday, 17 December 2022

Ja ba ja by Serosh Saher

جا بہ جا

میری زندگی کی کتاب میں ،   تیرا نام لکھتی ہوں جا بہ جا

تیری اک جھلک کے واسطے  ،  تجھے ڈھونڈتی ہوں میں جا بہ جا

تجھے حق ہے جاناں تو جو بھی کر ،  چاھے مار مجھ کو یا مجھ سے لڑ

پر اک یہی ہے اب التجاء ،  رسواء نہ کر مجھے جا بہ جا

میں مانتی ہوں قصور ہے ،   کہ یہی محبت کا اصول ہے

محبوب کے ہراک ستم  ،  کو نہیں بتاتے ہیں جا بہ جا

مجھے معاف کر میرے ہمنواء ،   نہ کر ظلم کی اب انتہا

تیری بے رخی کے ہی سبب  ،  میں پھروں یوں بن میں جا بہ جا

سروش سحر

************** 

Pagal larki by Serosh Saher

پاگل لڑکی

وہ پاگل پاگل سی لڑکی

کسی کی یاد میں کھو کر

سدا آنسو بہاتی ہے

پر اس کو کون سمجھاۓ

کہ کسی کی یاد میں کھو کر

یوں آنسو بہانے سے

کبھی کچھ بھی نہیں ملتا

اگر آنسو بہانے سے

کوئ کھویا ہوا ملتا

تو دنیا میں کوئ بھی شخص

کبھی تنہا نہیں ہوتا

(سروش سحر)

***********

 

Berukhi by Serosh Saher

بے رخی

وہ جو کہتے تھے چین نہیں بن دیکھے

آج رخ پھیر کر گزر جاتے ہیں

نہ جانے بے رخی کے کس سکول سے

یہ ادائیں سیکھ کر آتے ہیں

ہر بار سوچتے ہیں روکیں انکا رستہ ہم

مگر وہ دامن بچا کر نکل جاتے ہیں

لگتا ہے اصول عشق سیکھے نہیں صحیح سے

تبھی تو وہ ایسے ظلم ڈھاتے

رقیبوں سے گلے ملتے ہی

جب وہ کھلکھلاتے ہیں

بنا تیلی کے ہی واللہ

وہ من میں آگ لگاتے ہیں

دل یہ کرتا ہے ان سے پوچھوں میں سحر

اداۓبے رخی سے کیوں دل پہ آرے چلاتے ہیں

(سروش سحر)

*****************

 

Aman by Serosh Saher

امن

کہوں کیسے جو کہنا ہے ، مجھے بے درد لوگوں سے

نہیں جن کو احساس اتنا  ،  کہ خوں اتنا نہں ارزاں

کہ گلیوں اور بازاروں میں  ،  یونہی اسکو بہا دیں ہم

کہ جب بھی دیکھتی ہوں میں  ،  لہو بہتا یوں آدم کا

تو دل یہ چیخ اٹھتا ہے  ،  تڑپتا ہے مچلتا ہے

اور بس پھر یہی کہتا ہے  ،  کہاں ہٰیں لوگ وہ سارے

جو امن ی بات کرتے تھے  ،  کئ جھگڑوں ی باتوں کو

عقل سے حل کرتے تھے ،  محبت جن کا شیوہ تھی

امن میراؒث تھی جن کی  ، کہیں سے لوگ وہ لوٹیں

محبت چار سو پھیلے   ، امن کا راج قاؑم ہو امن کا راج داؑم ہو

(سروش سحر)

***********