affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Urdu Poetry by Yousaf Shah
Showing posts with label Urdu Poetry by Yousaf Shah. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry by Yousaf Shah. Show all posts

Thursday, 27 February 2014

Ghamon ke jo sab yeh maare log hain غموں کے جو سب یہ مارے لوگ ہیں

غموں کے جو سب یہ مارے لوگ ہیں
بّہت ہی سب یہ پیارے لوگ ہیں

تنہائی ہجر جفا سب کو سمو رکھا ہے
اِک شخص میں کتنےیہ' سارے لوگ ہیں

غم کو بھی سمجھتے ہیں یہ واثت اپنی
کوئی نا چھینوں یہ' انگارے لوگ ہیں

ٹھوکر لگے کسی کو تو اّٹھا لیتے ہیں
کم ظرف جہاں میں یہ 'سہارے لوگ ہیں

ملیں گے اِن سے وفا کا پّوچھتے مطلب
جن کی نظر میں یہ بے'چارے لوگ ہیں

دیکھ کہ اپنا سایہ بّجھاتے ہیں دیے کو
کیسی عجب تنہائی کےیہ' مارے لوگ ہیں

کبھی تّمھیں درد مِلے تو یاد کرنا''شاہ جی''
ہم میں سے ہیں یہ 'ہمارے لوگ ہیں

Saturday, 22 February 2014

Dareechon Mein Rahe Gi Cheekh O Pukar Kab Tak دریچوں میں رہےگی چیخ و پکار کب تک

دریچوں میں رہےگی چیخ و پکار کب تک
سیاہ راتوں کا کرو گےتم سِنگھار کب تک

خزِاں مسکرائی تیری بےبسی پہ برسوں
آخر بہار کا کرو گے تم ' انتظار کب تک

شبنمی قطرے بن گئےہیں گلستان کے آنسو
انگلیوں پہ کروگےان کا تم' شمار کب تک

میں جوکانٹا ہوں چھانٹ ڈالو ہمہِ گل مجھے
اک نازکِ تنہا پہ کروگے تم' وار کب تک

قلبِ یارکواب ہماری پہچان درکار کیوں ہے
دلِ نافرماں کا کرو گےتم' اعتبار کب تک

لپٹی تھی آنگن کی دھّول تجھ کوروکنےکیلئے
میری خاکساری سےکروگےتم' انکارکب تک

پینترےِ زمانہ سمجھنےسےہم تو قاصر رہے
ہتھیلی پہ سرسوں جماوّ گےتم' بیکارکب تک

چشمِ انداز ہی بدل لوجہان دیکھنےکا ''شاہ جی''
ہنستےچہروں کوکروگےتم' سوگوار کب تک

Bahd Muddat Milli Thi Ik Aarzi Mohabbat بعد مدّت ملی تھی یوں اک عارضی محبّت

بعد مدّت ملی تھی یوں اک عارضی محبّت
ٹوٹی بوتل میں مےکش کو ملی شراب ہوجیسے

ہم پہ انکا احسانِ وفا ہوا تو کچھ اس طرح
ڈوبی بستی کو ملا عطیِہ ' سیلاب ہو جسیے

ہنستےچہرےکے پیچھےراکھ کا ڈھیر ہےچّھپا
شیلف میں سجی کوئی جلی ' کتاب ہو جیسے

محفلِ مصافِحہ ہوئے لوگ دِلوں کی دوری سے
تڑپتی حیات کو موت سے' اجتناب ہو جیسے

لاکھ انکار سہی زبان پہ دل میں تو محبّت تھی
نشتر پہ سجا کہ کوئی بھیجا ' گلاب ہو جیسے

مخمل سا اِک چہرہ ڈھکا ہے کتانی پردے میں
فرشتوں نے اوڑھا مّکھ پہ ' نقاب ہو جیسے

تیرے بچھڑجانےکےخواب سے ہم جاگے ایسے
قبر میں کسی مردے کا حشرِ' حساب ہو جیسے

یوں اعضاِء جسم بٹ گئے شناساّوں میں'' شاہ جی''
طوفانی رات میں کسی کا خانہ' خراب ہو جیسے