affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Iqra Tariq
Showing posts with label Iqra Tariq. Show all posts
Showing posts with label Iqra Tariq. Show all posts

Monday, 30 September 2019

Tanhaiyan raqas karti hen by Iqra Tariq

تنہایاں رقص کرتی ہیں 
محفلیں لٹ چکی ہیں 
ان کا راز انوکھا ہے
انکا ساز نرالہ ہے
خزاں نے ڈیرے ڈالے ہیں
بہاروں کا قیام کہاں ہے؟ 
مجھے ڈر ہے کہیں جاناں 
میں ان میں ڈھل نہ جاوں 
خود سر اور بے ضرر بن نہ جاوں
پر مجھے امید ہے جاناں 
میں ان میں ڈھل گی  اگر
ان کی ہمنوا بن گی اگر
تم سے بہتر پاوں گی
تم سے بہتر پاوں گی
شاعرا اقرا طارق

koi sabeel hay nijat ki by Iqra Tariq

کوی سبیل ھے نجات کی
میں خواہشوں تلے ہوں دبا ہوا
میری آنکھ میں ہیں حسرتیں 
بڑھ گی ہیں ضرورتیں
میں چلوں گا تو چلتا ہی جاوں گا
نہ ختم ہوں گی یہ مسافتیں 
نہ رُکیں گے راستے
میں راہزنوں سے ڈسا ہوا
مجھے راہبروں کا پتا چاہیے
دکھ ہے کہ حد سے بڑا ہوا
بتاو کوی سبیل ھے نجات کی
شاعرا اقرا طارق

Lo phr se bahar aai hay by Iqra Tariq

لو پھر سے بہار ای ھے
چمن میں کھلتے پھول مسکراے ہیں 
شاخوں سے نکلتی نرم کونپلیں 
خزاں رسیدہ پتوں سے 
مبارک وصول کر رہی ہیں
راستوں میں بھٹکے ہوے مسافر
ان تھک محنت کے بعد
اپنی منزل تک پہنچے ہیں 
شاعرا اقرا طارق

Awara shehr ke awara logo by Iqra Tariq

آوارا شہر کے آوارا لوگو 
ذرا رکو اور میری بات سنو
یہاں پہ اک شخص بسا کرتا تھا
منفرد اور نڈر سا
لہجے میں ہلکی ہلکی تلخی
گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ گہری کالی جھیل سی آنکھیں
پہچان بس اتنی سی یاد ہے لوگو
نام کی مجھے بھی خبر نہیں 
وہ کہاں ملے گا پتا بتا دو
آوارا شہر کے آوارا لوگو 
ذرا رکو اور میری بات سنو
شاعرا اقرا طارق

Ik bat ka khulasa by Iqra Tariq

اک بات کا خلاصہ سمجھ نہیں آتا
چودویں شب سے پہلے چاند پورا نظر کیوں نہں آتا
خواہشوں کے کیوں پروے جا رہے ہو موتی
ھمیں تو انہں رکھنے کا سلیقہ نہیں آتا
حکمرانِ شجر بھی اُس ہی کی ھے
کہ شاخ سے کوئ پتا نیچے نہیں آتا
سنا ہے آنکھ اور دل کا تعلق بے تاباں ھے
پتھر کا ھو جاے دل تو آنکھ سے پانی نہیں آتا
وہ جو شب و سحر لگاتا تھا دیارِیار کے چکر
کیا بات ھے اج کل ادھر نظر نہیں آتا 
اقرا طارق

bat se phir bat nikli by Iqra Tariq

بات سے پھر بات نکلی 
محبت جب میری ذات سے نکلی
اک بات کاخیال مسلسل رہا 
کیوں میت اس برات سے نکلی
 دن جب خالی ہی لوٹ آیا 
پھر تلاش کو تیری رات نکلی
مجھے حیرت ہوی اے پتھرِجاناں جاناں 
اج کیسے کر تیری  انکھوں سے برسات نکلی
 شاعرا اقرا طارق

Dil ke khayal honton tak by Iqra Tariq

دل کے خیال ہونٹوں تک آگے
ہم ایثارِ محبت میں کہاں تک آگے 
اوروں کو تلقینِ صبر کرتے رہے
اور اپنے ہی آنسوں رخساروں تک آگے 
گزشتہ شب تمام مسافتیں کٹ گئ
لہو لہان ہی سہی منزل تک آگے 
قدرے مشکل سا لگ رہا ھے سفرِ واپسی 
تیرے بلانے پہ یہاں تک تو آگے 
اقرا طارق

Tuesday, 24 September 2019

Muhabbat k kmal by Iqra Tariq


جہاں بھی دیکھے ہیں غورو فکر کے سنگ دیکھے ہیں
ہم نے محبت کے کمال رنگ دیکھے ہیں
وہ جو عشق سےپہلے رہتی تھیں حجاب میں
آج ان انکھوں میں بٙجتے جلترنگ دیکھے ہیں
نگاہیں شور گُل کرتی ہیں یار کو دیکھ کر
دل دھڑکتے ہم نے چہرے دنگ دیکھے ہیں
وہ بیتے ماضی کا ہی حصہ تھے اجنبی
مگر اب کہاں وہ پہلے سے جگنو جلترنگ دیکھے ہیں
ہر عکس اب پرایا سا لگتا ھے
ہزاروں چہرے جو اک دوسرے سے تنگ دیکھے ہیں
کہتا ہے ہر فردِ قوم کے محبت وہ نہیں رہی
پھر مزاروں پہ کیوں تشنہ لب ملنگ دیکھے ہیں
سکونِ جان بھی کوی چیز ہے اقرا
محبت کے ٹھکراے لوگ ہم نے آمادہ جنگ دیکھے ہیں
 
شاعرا اقرا طارق

Rabta kthm by Iqra Tariq


رابطہ ختم سلسلہ ختم
وہ کہتے ہیں طے جو ہوا تھا رشتہ  ختم
کیا ہوا؟ کیوں ہوا ؟کیسے ہوا
محفل سے ہی جب اٹھ گے تماشہ ختم
وصال عشق میں بھی مشکل درپیش رہی
شمع کے پاس جو گیا پروانہ ختم
بات صرف اتنی تھی کے سچ کہا
سزا سنانے کے بعد اس نے کہا فیصلہ ختم
شاعرا اقرا طارق