affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Sibgha Ahmad
Showing posts with label Sibgha Ahmad. Show all posts
Showing posts with label Sibgha Ahmad. Show all posts

Wednesday, 30 May 2018

Bint e hawa by Sibgha Ahmad


میں نے کہا آپ کی تعریف
 وہ بولی بنت حوا ہوں میں

پوچھا میں نے خوبی آپ کی
بولی حجاب کرتی ہوں میں

میں نے پوچھا تعلیم آپ کی
بولی قرآن پڑھتی ہوں میں

پوچھ بیٹھا میں کام اس کا
کہتی نماز پڑھتی ہوں میں

مسکرا کر کہا آمدن کیا ہے
بولی فلاح پاتی ہوں میں

طنزاً بولا پھر تو حور ہی ہو
کہتی والدین کا غرور ہوں میں

            صبغہ احمد

Mohabbat by Sibgha Ahmad


وفا کے کارخانوں میں
محبت عارضی شے تھی
وفا کا پاس جو رکھ لے
محبت وہ نہیں ہوگی
کہ مہبت دس دیتی ہے
دغا کا بے پروائی کا
ہجر کا بے وفائی کا
ذرا انصاف جو کر لے
محبت وہ نہیں ہوگی
محبت درد دیتی ہے
عذاب دید ہوتی ہے
بھرم اخلاص کا جو رکھ لے
محبت وہ نہیں ہوگی
وفاداروں کی محفل میں
نام محبت جو لے بیٹھے
ہوئے محفل سے یوں رسوا
کہ خود اقرار کر بیٹھے
محبت عارضی شے ہے
وفا کے کارخانوں میں
وفا کے کارخانوں میں
محبت عارضی شے تھی
صبغہ احمد

Chahati hun mera peer bany by Sibgha Ahmad



چاہتی ہوں میرا پیر بنے
میں مرید اس کی ہو جاؤں

وہ حکم کرے، وہ حاکم ہو
محکوم اس کی ہو جاؤں

عارض عشق میں وہ طبیب میرا ہو
میں مریض اس کی ہو جاؤں

میں عشق کروں، وہ عاشق ہو
معشوق اس کی ہو جاؤں

اے رب سائیں! وہ میرا حاصل ہو
میں محصول اس کی ہو جاؤں
صبغہ احمد

Ishq tamasha by Sibgha Ahmad


جب عشق تماشا ہووے گا
تب جگ بھی سارا دیکھے گا

کسی رات کی رانی کی خاطر
کوئی دن کا راجہ رو وے گا

اور رات نگر کے رستے میں
کوئی سانپ ہلورے لے وے گا

باغوں میں کھلے گا پھول فقط
گر  کانٹا  ساتھ  نبھا  وے  گا

پھر الٹی ہوں گی مشقیں سب
اور  کچھ  نہ  ہاتھ  آوے  گا

ہمدردی  کا  پرچار  بہت
پر کون جو ساتھ نبھاوے گا

مہر  و  وفا  کا  انجام  برا
ہر شخص یہی بتلاوے گا

جب روگ محبت لگ جاوے
چین  کہاں  پھر  آوے  گا

بس شور ہی ہوگا نگر نگر
پس سوگ منایا جاوے گا

جب عشق تماشا ہووے گا
تب جگ بھی سارا دیکھے گا
                                صبغہ احمد

Gharoor by Sibgha Ahmad


میں نے پوچھا تعلیم آپ کی
وہ بولی قرآن پڑھتی ہوں میں

 پوچھ بیٹھا میں کام اس کا
 کہتی نماز پڑھتی ہوں میں

مسکرا کےکہا کہ آمدن کیا ہے
وہ کہتی فلاح پاتی ہوں میں

 طنزاً بولا پھر تو حور ہی ہو
 کہتی والدین کا غرور ہوں میں

                 صبغہ احمد