You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Sunday, 11 July 2021
Saturday, 10 July 2021
Adhoory khawab by Rania Moiz
ادھورے خواب
ادھوری
یادیں ،ادھوری ہی باتیں
ادھورے
سپنے، ادھورے ہی لوگ اپنے
دل
میں اگا تھا جو درد محبت کا
منزل
نہ ملی اس کو ادھورا ہی رہا وہ
جس
ستم گر کو سمجھا تھا میں نے اپنا
ملا
نہ مجھ کو ادھورہ ہی رہا سفر وہ
Friday, 9 July 2021
Ghazal by Mrs Qamar Shehzad Shah
عجیب مشغلہ تھا اس کا محبتیں بے پناہ ڈھونڈنا۔
شہر
بے وفا میں ہر روز اک نئی وفا ڈھونڈنا۔۔
کبھی صدیوں نبھانا تو کبھی پل بر میں اکتا جانا۔۔
اسے عادت تھی روٹھنے کےبہانے بے پناہ ڈھونڈنا۔
اپنی
ہی دھن میں مگن رہتا تھا ھمیشہ۔
نہ چھوڑا اس نے پتھروں کے خدا ڈھونڈنا۔
کہا تھا اسے کہ بہت
پچھتاؤ گے اک دن۔
بولا
کہ میری ناکامی کی پھر تم ہی سزا ڈھونڈنا
کسی نے پوچھا جو اس سے بچھڑنے کا سبب۔
وہ نہ بھولا اس میں بھی کوئی میری خطا
ڈھونڈنا۔
وہ جب لوٹا تو بڑے ہی پیار سے بولا ،،عالی،،،۔
میں نےچھوڑ دیا ہے اب کچھ بھی تیرے سوا
ڈھونڈنا۔۔ ،،،،
مسز قمر شہزاد شاہ،،،،،،،
Wednesday, 30 June 2021
Aflas by Mrs Qamar Shehzad Shah
بےچینی غربت اور افلاس ہے۔
نہ
کسی کو یہاں کسی کا احساس ہے۔
ہر طر
ف دکھوں کا موسم ہےآج کل
نہ جانے کتنی آنکھوں میں خوشیوں کی آس ہے
بد عنوان اور مفاد پرست بستے ہیں یہاں
بہت کم ہی کوئی فرض شناس ہے
کتنے بے درد ہیں یہ دنیا والے۔
ان ہوس زدہ لوگوں میں دولت کی پیاس ہے
لڑتے ہیں فقط چند سکوں کے لیے۔
نہ کسی کو یہاں سکون راس ہے
وقت بدلے گا کبھی تو اے دلِ ناداں
بس ایک یہی امید میرے پاس ہے ۔۔۔ ،،،،،۔،،،،،۔،،،،،۔،،،،، ۔
مسز قمر شہزاد شاہ،،،،،۔،،،،،۔،،،،،،،
Thursday, 24 June 2021
Poetry by Zuni
تجھے
چاہنے کے بعد مجھے
نصرت
کی غزلیں سمجھ آنے لگی
***************
تماری
بات کا شور اچھا لگتا ہے🥰
تمارے
ساتھ ہی قصور اچھا لگتا ہے🙈
***********
یہ کہیں خواب سے جاگا ہوا منظر ہی نہ ہو!!!
تیرے
ہاتھوں میں میرا ہاتھ کہاں ممکن ہے!!!
Zuni
Sunday, 20 June 2021
Thursday, 17 June 2021
Ahbab by Sofia Mehr
اس
طرح تو گرگٹ بھی رنگ نہیں بدلتا ۔۔۔
جس
طرح میرے احباب بدلے ۔۔۔
#
صوفیہ مہر
Saturday, 12 June 2021
Zra der ki to baat thi by Sana Iqbal Khan
گر کہ رک
جاتے تم ، ذرا دیر کی تو بات تھی
بہل جاتا
یہ دل ، ذرا دیر کی تو بات تھی
آس لگ کر بیٹھے تھے تیرے در پر ہم
گر آس ہماری
نبھا جاتے ، ذرا دیر کی تو بات تھی
وہ پل آیا
، رُ کا
اور گزر گیا
اُ س پل
میں اپنا بنا لیتے ، ذرا دیر کی تو بات تھی
بچھڑے لمحے
، حجر کی باتیں ، غم کی یادیں
جو اک مسکان
دے جاتے ، ذرا دیر کی تو بات تھی
ہم کو ہم سے
لے کر ، ہمیں ہی دے گئے
اگر جو اپنا بنا لیتے ، ذرا دیر کی تو بات تھی
ثناء اقبال خان
Thursday, 10 June 2021
Zulam aur rat ka jurwan pan by Atika Altin
ظلم اور رات کا جڑواں پن ، بتاوُں تمہیں؟
تاریکی کالبادہ اوڑھےظالم داستان،سناوُں
تمہیں
ہر طرف آہ و بکا اور ٹوٹتی سانسوں کا غم
آؤ! بےبس سی اس دنیا کی سیر کرواوُں تمہیں
کٹے پھٹے سے لاشے،اور سسکتی ہوئی آہیں
سرخ سیّال میں ڈوبی رات کامنظر،دکھاوُں
تمہیں
خوبصورتی اور وفا کے قصے تو بہت سنتے ہو
گے
آؤ درندگی کی انتہاکو پہنچتی کہانی،سناوُں
تمہیں
خوف،وحشت ،بربریت ،درندگ، الفاظ ہیں ختم
دلوں کو چیرتا ایک خون آشام منظر، دکھاوُں
تمہیں
نہتے لوگوں پر ظلم کرنے سے ڈرتے نہیں یہ
انسانیت کے نام پر دھبہ حیوانیت، دکھاوُں
تمہیں
بے گور و کفن پڑی شہدا کی لاشیوں پر،
آبلہ پا چلتی ایک چھوٹی بچی،دکھاوُں تمہیں
کہاں کا ذکر کروں؟ کس کی کہانی عیاں کروں؟
اس پوری دنیا کی بےچارگی کا حال،بتاوُں
تمہیں
برما،کشمیر،افغانستان،فلسطین،کس کانقشہ
کھینچوُں؟
ابابیلوں کو پکارتی اذیت ناک صدائیں، سناوُں
تمہیں
انسانیت کا درس دیتے، انسانیت کو ہی روندتے،
انسانیت کا نقاب اوڑھے وحشی درندے،دکھاوُں
تمہیں.
عاتکہ آلتن































































































































































































