affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Monday, 23 January 2023

Main ishq usi se karta tha by Sania Hussain

میں عشق اسی سے کرتا تھا

 

اک لڑکی کو میں چاہتا تھا

وہ بھی تو مجھ کو چاہتی تھی

سب کی ہی لاڈلی تھی وہ

سب کو وہ ہنسنا سکھاتی تھی

وہ نازک سی معصوم سی تھی

وہ کانچ کی گڑیا لگتی تھی

میں ہنستا تھا وہ کھلتی تھی

وہ پھول گلاب کا لگتی تھی

جب آنگن میں وہ آتی تھی

خوشیوں کی بہاریں لاتی تھی

نہ قسمیں تھیں نہ وعدے تھے

نہ منزل تھی نہ راستے تھے

میرے سنگ وہ خواب سجاتی تھی

مقدر پر یقین وہ رکھتی تھی

مجھے ہر رنگ میں وہ بھاتی تھی

بارش کے موسم میں

میرے سنگ وہ گیت گاتی تھی

ہاں یاد ہے مجھ کو وہ منظر

خزاں کی رت جب چھائی تھی

وقت نے کروٹ بدلی تھی تو

مقدر نے چوٹ لگائی تھی

میرا دل ٹوٹا ،خواب بکھر گئے

جب روتی ہوئی وہ آئی تھی

والدین مے مجھ کو پالا ہے

مجھ اٹھ کر چلنا سکھایا

بدلے میں اب میں نے ان کا مان رکھنا ہے

میں کیسے باغی ہو جاؤں

میں تم کو بھول جاتی ہوں

ساتھ مل پھر ہم دونوں نے ان سپنوں کو جلا دیا

ان رسموں اور رواجوں نے دل دونوں کا ہی توڑ دیا

کبھی آنکھوں میں نمی بن کر

کبھی ہونٹوں پر ہنسی بن کر

مجھے یاد وہ اب بھی آتی ہے

میری محبت کی اک حسیں غزل

میری روح کی وہ شاعری ہے

میں کیسے بتاؤں دنیا کو

میرے یاد وہ اب بھی آتی ہے

اک شام کو برسات کی

میں بیٹھا اس کی یادوں میں

اچانک پھر مجھ کو یوں لگا

بہاریں پھر لوٹ آئی ہیں

سنگ اپنے ہمسفر کے وہ

میرے سامنے سے گزری تھی

میرے دل صدا لگائی جب

اس نے مڑ کر مجھ کو دیکھا

اس کے ہونٹوں کی ہنسی

اس بات کی گواہ تھی کہ

محبت وہ مجھ سے نہ سہی

پر یاد وہ آج بھی کرتی ہے

میری آنکھوں میں نمی آئی

میرے ہونٹوں پر ہنسی آئی

وہ لمحہ جیسے رک گیا

برسات بھی جیسے تھم گئی

اس اک لمحے کو میں جی لیتا

کاش کہ ایسا ہو جاتا

وقت کا تھا مجھ سے سدا کا بیر

وہ پیٹھ دکھا کا چل نکلا

وہ اس کو بھی سنگ لے گیا

میں کیسے بتاؤں دنیا کو

میرا سب کچھ ہی وہ لے گیا

اس کی یادوں کو قلم سے میں

کاغذ پر اب لکھتا ہوں

دنیا یہ جب بھی پڑھتی ہے

مجھے شاعر کمال کہتی ہے

میں کیسے بتاؤں دنیا کو

یہ یادیں ہیں اس،لڑکی کی

جس لڑکی پر میں مرتا تھا

میری چاہت تھی ، محبت تھی

میرا پیار تھی میرا عشق تھی وہ

وہ لڑکی جس پر مرتا تھا

میں عشق اسی سے کرتا تھا

میں عشق اسی سے کرتا تھا

*************

Thursday, 12 January 2023

Main gana chahti hoon by Noor Awan

میں اک راگ گانا چاہتی ہوں ...

میں سب کو ہنسانا چاہتی ہوں ...

سب کے دل بھلانا چاہتی ہوں ...

خود ہوں میں درد کی کتاب ...

اپنا دکھہ چھپانا چاہتی ہوں...

یہ عشق ،محبت ،یہ یادیں بس کتابی کہانیاں ہیں ..

اےناز.. مجھہ پے جو گزا

وہ برا وقت بتانا چاہتی ہوں.....

سنو مجھے ذرا غور سے ..

میں کیا بتانا چاہتی ہوں..

*****************

Tujhe kya likhun by Noor Awan

اے اسامہ تجھے دن لکھوں یا رات لکھوں..

تو خود بتا تجھے کیا لکھوں؟

جو کبھی مٹ نہ سکے ...تیری محبت کا ایسا نصاب لکھوں...

تیری آنکھوں کو شراب لکھوں .. تیرے ہونٹوں کو گلاب لکھوں...تیرے وجود پے پوری کتاب لکھوں ... اسامہ تو خود بتا تجھے اور کیا لکھوں؟

نور تو لکھہ اس کے دل کا افسانہ ...

خیالی سے پوچھہ اسے اور کیا لکھوں.؟

******

Mere ehsas se pooch by Noor Awan

میرے احساس سے پوچھہ ..

میرے جذبات سے پوچھہ..

میرے حسین گزرے لمحات سے پوچھہ...

عبیرہ تو کیا جانے ..

تو کیا ہے!!

یہ میرے الجھے خیالات سے پوچھہ...

تیرا ساتھہ تھا یا سمندر کی روانی..

جو گزر گیا اک جپھک میں...

تجھے ٹوٹ کے یاد کرتی ہوں

تو میرے دل کے حالات سے پوچھہ...

عبیرہ تو حسین ہے

حسن کی شہکار ہے..

اپنے وجود کی مہک کا  ..

گلوں  کے باغات سے پوچھہ..

عبیرہ تیری کیا اہمیت ہے..

نور کے احساسات سے پوچھہ..

Dedicated to Veeru💓.

With lots of love🥰

************

Hmari ghazal hai tasawur tumhara by Hira Altaf

غزل

(ہماری غزل ہے تصور تمہارا)

تمہاری محبت میں ہے وقت گزارا

ہماری غزل ہے تصور تمہارا

تم ہی نے تو ہے ہم کو یوں سنوارا

ہماری غزل ہے تصور تمہارا

تمہاری محبت کا ہے اب سہارا

ہماری غزل ہے تصور تمہارا

تیرے بنا اب نہ ہو گزارا

ہماری غزل ہے تصور تمہارا

Written by Hira Altaf

*******

Meri shairi ki ahdi kitab by Noor Awan

میری شاعری کی آدھی کتاب ...

میری وہ اک دوست ہے..

میرے وجود میں جس کا عکس ہے...

میں خیالوں میں جس کا رقص ہے ...

میری وہ اک دوست ہے..

میرا سوال بھی وہی.

میرا جواب بھی وہی.

میری دوستی کی پوری کتاب بھی وہی...

میرے تمام اوصاف کی ضامن ..

میری وہ اک دوست ہے...

تیرا مختصر سا ساتھ تھا ..

یا عمر بھر کا خلاصہ.

میری جستجو کا جو باب ہے..

میری وہ اک دوست ہے..

عبیرہ کیا لکھوں تجھے..

میرا دل مائل وشیدا ہے...

اور ناں پوچھو مجھہ سے بس

میری وہ اک دوست ہے...

تیری باتوں کو یاد کر کے ہنس دیتی ہے نور

میرے گزرے لمحات کی خوبصورت مہکتی خوشبو کی ماند ..

میری وہ اک دوست تھی..

4U veeru 🫶🏻..

******

Hasrat by Muhammad Kumail Sagar



"حسرت "

اے زندگی مجھے جینے دو

کھُل کے سانس لینے دو

دے دو مجھے اُڑنے کو

 تھوڑا سا آسماں

میری راہیں بھی ہیں لمبی

میرے پاٶں بھی ہیں زخمی

میری منزل بھی ہے گُم

مجھے دے دو تھوڑا سا

راستوں کا نشاں

مجھے اُڑنے کو دے دو

بس تھوڑا سا آسماں

 

                              محمد کمیل ساگر

******************


Sunday, 8 January 2023

Hum bhi tanha hen by Huma Malik

ہم بھی تنہا ہیں صاحب
آپ ہماری ذات سے اب انجانے لگتے ہیں
اب تو باتوں سے بھی بیگانے لگتے ہیں
خود سے ملے ہوئے عرصہ ہوا
کہ
آئینے میں  کچھ عکس جانے پہچانے لگتے ہیں
اب تو موسم بھی نہیں سوہانے لگتے ہیں
اک راز کی بات بتاؤں صاحب
اب بھی آپ اپنے اور سب بیگانے لگتے ہیں
ہم اب دیوانے لگتے ہیں
خود سے انجانے لگتے ہیں 
اب دیوانے لگتے ہیں
ہما ملک

Wednesday, 4 January 2023

Kabhi meri kami sataey gi by hafsa kanwal

کبھی دنیا مکمل بن کے آے گی نگاہوں میں ‌‌ 💯کبھی میری کمی ستاے گی

*یہ میرا ظرف تھا کے چھوڑ دیا تجھے*.....!!🥀🍂
*ورنہ سانپ کو تو لوگ کچل دیا کرتے ہیں*🙂💯
🦋_______________ 🌍🥀

🔏کنارا کر رہے ہیں ہم سب سے
اور زیر غور تم بھی ہو 🖤🔥

حرام تعلقات کی فضول مصروفیات انسان سے سجدے کی توفیق بھی چھین لیتی ہے 🖤🥀
Talkh 🤐
✨🍃★────┼●•✨🎗️

تجھے ایک شخص پہ مان تھا، وہ کہاں گیا؟؟🖤🥀
تیرے آج کل وہ______ بھرم نظر نہیں آ رہے🙂🖤

*میں دیر سے سمجھا ہوں ۰۰۰احباب کے فریبوں کو✨*

*میں نے ہر اُس شخص کو جھوٹا سمجھا*
*جو تُمہارے بارے میں سچ کہا کرتا تھا*

*" ‏ایک غلط شخص سے مِلا دھوکہ دس صحیح اِنسانوں پر اعتماد کرنے کی راہ میں رُکاوٹ بن جاتا ہے! ۔🙂💔_

میں زمانے کا تھکا آپ کے پاس آیا ہوں
آپ دل کو نہ مرے اور دُکھانے لگ جائیں🦋🎀

کیا ستم ہو کہ نئے سال کو چل دیں ہم لوگ
اور تعاقب میں وہی روگ پرانے لگ جائیں🦋🎀

عمر رفتہ کو ترے شہر کے بازاروں میں
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ممکن ہے زمانے لگ جائیں🦋🎀
,🥀🥀🥀🖤🤐

*ہر ایک فرد سے سنو گے تم داستاں ہماری* *🖤🤐
*ہم وہ ہیں جو ہر محفل میں دہرائے جائیں گے*🥀

Tuesday, 3 January 2023

Zindagi ek khel tamasha by Khadija Riaz

زندگی اک کھیل تماشہ

زندگی اک کھیل تماشہ

اور

ہم سب تماشائی

مقدر کے ہر وار پر

ڈگڈگی بجاتے ہوئے

اپنے آپ کو پیٹتے ہوئے

تقدیر کو مسکراتے ہوئے دیکھتے ہیں

اپنی بے بسی پر تلملاتے ہیں

اور پھر اس کھیل کا خود حصہ بن جاتے ہیں

کبھی جیت کر، کبھی ہار کر

اس کھیل کو کھیلتے ہی چلے جاتے ہیں

کبھی ہوش سے، کبھی مدہوش سے ہو کر

خدیجہ ریاض

**************

Dekho by Khadija Riaz

دیکھو!

کہیں کھو نہ جانا

ان بھول بھلیوں میں خود کو

بھول نہ جانا

کہ

ابھی کچھ منزلیں طے کرنا باقی ہیں

 

دیکھو!

ان مصنوعی روشنیوں میں

تمھاری آنکھیں چندھیا نہ جائیں

کہ

ابھی کچھ مسافتیں اور بھی باقی ہیں

 

دیکھو!

اس ہجوم میں تم کھو نہ جانا

بہک نہ جانا

کہ

ابھی کچھ خوابوں کی تعبیر باقی ہے

 

دیکھو!

 

یہ لا یعنی سوچیں

یہ لا محدود خیالات

تمھیں تھکا نہ دیں

کہ

ابھی  مامن دور ہے-

خدیجہ ریاض

***************

Chalo ao by Khadija Riaz

سال نو کے بارے میں

چلو آؤ

آج تجدید وفا کرتے ہیں

تعمیر وطن کا عھد کرتے ہیں

لا الہ الااللہ کی عملی تصویر بنتے ہیں

پیغمبر رسول کے نقش قدم پر چلتے ہیں

مہاجرین و انصار کی قربانیوں کے قصے دہراتے ہیں

چلو آؤ

آج تجدید وفا کرتے ہیں

تعمیر وطن کا عھد کرتے ہیں

ایمان اور یقین محکم کے ساتھ

اقبال کے خواب کو امر کرتے ہیں

قائد کے اقوال کو عملی جامہ پہناتے ہیں

چلو آؤ

آج تجدید وفا کرتے ہیں

تعمیر وطن کا عھد کرتے ہیں

چلو آؤ

آج اک نئی تاریخ رقم کرتے ہیں

وفا کی، خلوص کی, محبت کی تاریخ

چلو آؤ

قدم بڑھاتے ہیں، اخوت و بھائی چارے کی طرف

چلو آؤ

مٹا دے وہ مسافتیں، جو بانٹے ہوئے ہیں سب کو

چلو آؤ

'ایک 'ہو جائے، 'ایک' کی مان لیں، 'ایک' کے ہو کر جئیں-

چلو آؤ

آج تجدید وفا کرتے ہیں

تعمیر وطن کا عھد کرتے ہیں-

خدیجہ ریاض

*************

Phir kuch youn hua by Khadija Riaz

پھر کچھ یوں ھوا

بونوں کی اس دنیا میں

مجھے کچھ بونے ملے

قد آور لیکن اخلاق کے بونے

کردار کے بونے

اعمال کے بونے

پھر کچھ یوں ھوا

ان بونوں نے چھین لے

مجھ سے

میری آنکھوں میں پنپتے خواب

میری بن کہی خواہشیں

میری زندگی

اور

تھما دی مجھے

کفن میں لپٹی زندگی

اور پھر

آزاد کر دیا مجھے

بونوں کی اس دنیا سے

خدیجہ ریاض

***************

Naya saal by Serosh Saher

""نیاسال

نیاسال آیا ہے اے دوست

امید نو ساتھ لایا ہے اے دوست

رشتوں کی ٹوٹی مالا کو

پھر سے جوڑنے آیا  ہے اے دوست

اداس لوگوں  کے چہروں پر

مسکراہٹیں لایا ہے اے دوست

تڑپتے،بیمار لوگوں کےلیے

بن کر شفا آیا ہے اے دوست

ظالموں کےدلوں میں بھی

خوف خدا لایا ہے اے دوست

خوف و  ہراس میں ڈوبے لوگوں کے لیے

پیغام امن لایا یے اے دوست

میرے وطن کے  گلشن میں

بن کر بہار آیا ہے اے دوست

(سروش  سحر)

****************

Saturday, 31 December 2022

December by Samia Nisar

🌸الوداع دسمبر🌸
اے دسمبر جاتے ہوۓ پیغام لے جانا
ہر ذی روح کو غم سے بری کر جانا
اپنی سرد سی ہواؤں کو🌱
کہر میں لپیٹی راتوں کو🌁
بےرنگ سی شاموں کو ساتھ لے جانا🌓
اپنی سرد سی پھوار سے☔
صبح کی ٹھٹھرتی اوس سے
دلوں کی کثافت کو دھو جانا💖
سب کے چہروں پہ مسکراہٹ کھلانا
سب کے لیے خوشیوں کے سندیسے لانا
ہر ذی روح کو غم سے بری کر جانا❤
   📝از قلم سمیعہ نثار✒