affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Fatima Liaquat
Showing posts with label Fatima Liaquat. Show all posts
Showing posts with label Fatima Liaquat. Show all posts

Thursday, 3 December 2020

Mashriqi larki by Fatima Liaquat

نظم:

مشرقی لڑکی

میں اِک مشرقی لڑکی

اپنی  حدوں میں قید

دھیرے سے سانس لیتی ہوں

کہ یہ ہوائیں بھی لا عِلم رہیں

میرے ہونے نہ ہونےسے۔۔۔۔

کبھی بھر آئیں جو میری آنکھیں

کوئی  غم  مجھے  جو  یاد  آئے

تو   نیند  کا   میں  بہانہ  بنائے

آنکھیں موند لیتی ہوں

ضَبط کی کوشش کرتے کرتے

پلکوں کو دیوار بنائے

آنسو میں روک لیتی ہوں

کیونکہ میں مشرقی لڑکی۔۔۔۔

محبت دل پہ دستک دے

دَھڑکن میری تیز چلے

کئی خواب سُہانے بھی دیکھوں

کئی جُگنو چمکیں آنکھوں میں

پر خود کو روک لیتی ہوں

کیونکہ میں مشرقی لڑکی۔۔۔۔

یہ ڈر محبت کرتے کرتے

میں کہیں بھٹک نہ جاؤں

اپنے گھر کے آنگن کو

دور کہیں چھوڑ  نہ آؤں

اپنوں کی محبت سے

محروم کہیں  نہ ہو جاؤں

تو اپنے سارے خواب جَلا کے

جَذبات  دفن  کر  دیتی ہوں

دل کو پتھر کر کے میں

محبت چھوڑ دیتی ہوں

کیونکہ میں مشرقی لڑکی۔۔۔۔

(فاطمہ لیاقت)

Tuesday, 17 November 2020

Her dafa kahamoshi by Fatima Liaquat

  • ہر دفعہ خاموشی

    کسی کا غرور نہیں ہوتی

    تم غلط مت سمجھ لینا

    نظر انداز کرنے کے لئے

    یہ ہر بار نہیں ہوتی

    کوئی اِس سےیہ سمجھے

    کہ عزتِ نفس متاثر ہو

    پر یہ ایسا نہیں کرتی

    ہمیشہ اس کے ذریعے ہی

    انا ظاہر نہیں ہوتی

    خاموش رہنے والوں کو

    ذرا سا غور سے دیکھو تم

    کسی کے ضبط کا یہ

    آخری کنارا ہوتی ہے

    اپنے صبر کو آزمانے کا

    یہ ایک بہانہ ہوتی ہے

    کسی کی تنہائیوں کا

    یہ ہی سہارا ہوتی ہے

    کسی کے زخموں کا

    واحد مرہم ہوتی ہے

    تو چوٹ کھائے ہوؤں کا

    سکون کا ذریعہ ہوتی ہے

    یہ تو ایک پرت سی ہے

    جو سب چھپائے لیتی ہے

    اپنے راز یہ اپنے اندر

    سب ہی دفنائے دیتی ہے

    تو ہر دفعہ خاموشی

    کسی کا غرور نہیں ہوتی

    تم غلط مت سمجھ لینا

    (فاطمہ لیاقت)

Friday, 11 September 2020

Barish by Fatima Liaquat

 

" بارش "

یہ بارش کی برستی بوندیں

میرے جب آنگن میں برسیں

میں کھلے آسمان تلے

اپنے خالی ہاتھ لئے

چپ چاپ کھڑی ہو جاتی ہوں

اپنی گم صم آنکھوں سے

بس تکتی رہ جاتی ہوں

میرے دل کی بنجر زمیں پہ

کچھ اِس ادا سے برستی ہیں

کہ بارش کے اس پانی میں

یادیں دکھائی دیتی ہیں

قطروں کی آوازوں میں

آہٹیں سنائی دیتی ہیں

دل کو بِھگائے رکھتی ہیں

کچھ پھول کھلائے دیتی ہیں

ہر بار مجھے برستی بوندیں

کچھ ایسے اسیر کرلیتی ہیں

اپنے سحر سے مجھ کو یہ

کچھ ایسے جکڑ سی لیتی ہیں

میں پھر یوں کھو جاتی ہوں

کہ آندھی کے بگولوں سے

کہ بادل کے گرجنے سے

کہ بجلی کے چمکنے سے

میں انجان سی رہتی ہوں

پھر حال میں واپس آؤں تو

ہتھیلیاں خالی ہوتی ہیں

پر آنکھیں بھیگی ہوتی ہیں

****************

Friday, 4 September 2020

Jang by Fatima Liaquat


دل زَخمی ،آنکھ پُر نم ، ذات بکھری ریزہ ریزہ
ایسے میں بھی ہونٹوں کا مُسکرانا کمال یہ ہے
                 ☆☆☆☆☆☆☆
سوچتا ہے یہاں ہرکوئی فقط اپنے بارے میں
مطلب کی یہ دنیا ہے مطلب کی ہی یاری ہے
                 ☆☆☆☆☆☆☆
میں اپنے اندر چھڑی جنگ سے لڑتے لڑتے
صدیوں کی تھکن محسوس کر جاتا ہوں
                 ☆☆☆☆☆☆☆
میں نے اِس رنگ برنگی دنیا میں
لوگوں کے کتنے ہی   رنگ  دیکھے
             ☆☆☆☆☆
جو جیت ہماری برداشت نہ کریں
انہیں  دوست  کیسے  ہم مان لیں
بربادی کی ہماری  خواہش   کریں
انہیں   اپنا    کیسے ہم   جان لیں
           ☆☆☆☆☆
            فاطمہ لیاقت          

Tu he to hai by Fatima Liaquat


Friday, 24 July 2020

Hum bhi badal jaen gy by Fatima Liaquat




سب سے اچھے سے پیش آئیں گے
بس اب ہم بھی بدل جائیں گے

دنیا والے اچھا جانیں یا برا جانیں
زندگی ہم اب اپنی خود گزاریں گے

اب روش بدلہ لینے کی بدلنی ہو گی
دل پہ بس اب زخم کھائی جائیں گے

آنکھ اور خاموشی میں چھپے درد کو
جان کر بھی لوگ انجان بن جائیں گے

خود غرضی دستور ہے اس زمانے کا
اب ہم کسی سے گلہ کر نہ پائیں گے

ذرا سی تکلیف پہ رو پڑنے والے بھی
دوسروں کے غم کو ہلکا ہی جانیں گے

جو چھوڑ کے ہمیں جانا چاہے اجازت ہے
لوٹ کے آنے کے انتظار میں نہ پائیں گے

Sakoon se rehny do by Fatima Liaquat

میں رہتا ہوں درد میں سکون سے رہنے دے دو
تم درد کم نہیں کرسکتے تو بڑھاتے کیوں ہو
                            ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل جس کا ٹوٹا ہی نہ درد جسے پہنچا ہی نہ
وہ انسان کسی اور کا دکھ سمجھے تو کیسے
                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غیروں کے ہمدرد ہونے کا اسےاعتبار کیا آنا
ساتھ رہ کے جسے اپنے نہ سمجھ پائے ہوں
                            ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اپنے اندر چھڑی جنگ سے لڑتے لڑتے
صدیوں کی تھکن محسوس کر جاتا ہوں
                            ۔۔۔۔۔۔۔۔
( فاطمہ لیاقت)                

Wednesday, 22 July 2020

Waada by Fatima Liaquat


وعدہ
از قلم فاطمہ لیاقت

درد سا ٹھرا آنکھوں میں
لَہجے تکلیف دیتے ہیں
دلوں کو توڑ دیتے ہیں
میری آنکھ کے آنسو
یہ شِکستہ دل میرا
مجھے جھنجوڑ کے پوچھے
اپنی زندگی کو تم
کیوں برباد کرتی ہو
پُرسکون نیندوں کو
کیوں خراب کرتی ہو
کیوں عذاب کرتی ہو
چلو اب پونجھ کے آنسو
مجھ سے تم یہ عَہد کرو
کسی کی آ نکھ میں
گر جو آنسو دیکھو تم
تم اپنی انگلیوں کی
پوروں سے چُن ڈالو گی
آواز جو ٹوٹے دلوں کی
گر تم کو سنائی دے
اُن کے سارے دکھوں کو
تم سمیٹ ڈالو گی
جو شِکستہ دل دکھائی دیں
غموں کی جو تصویر لگیں
تم اُن تمام چہروں پر
مُسکُراہٹیں بکھیر ڈالو گی
اِک راز کی بات بتلاؤں
تمہارے ایسا کرنے سے
سارے غم دُھل جائیں گے
اور کتنے لوگوں کے دامن
خوشیوں سے بھر جائیں گے
تمہارے دل کے سارے زخم
لمحوں میں بھر جائیں گے
بس آج تم یہ عَہد کرو۔۔۔۔

Tuesday, 21 July 2020

Sarab by Fatima Liaquat


"سراب"
از قلم فاطمہ لیاقت

آرزوئیں، تمنائیں ،جانے کتنے خواب
سراب دھوکے میں دکھائے رکھتا ہے

نظر کے دھوکے،دل کی چالوں سے
نادان لوگوں کو بہلائے رکھتا ہے

دکھاتا ہے اکثر ، یہ دل فریب مناظر
پُرکیف خیالوں سے بہکائے رکھتا ہے

تھکن سے چور، زادِ راہ سے بھی محروم
لمبی مسافتوں کا خیال ستائے رکھتا ہے

منزل کا انجام ،حاصلِ زیست خالی ہاتھ
فاطمہ! اُجڑنے کا احساس دلائے رکھتا ہے

Sunday, 19 July 2020

Yaad e mazi by Fatima Liaquat


یادِ ماضی
یادوں کے دَریچے میں
جو باتیں یادِ ماضی ہیں
گئے وقتوں کی زبانی ہیں
دیں دَستک تو سوچوں میں
کس وَقت کی یہ کہانی ہے۔۔۔۔
یہ محبتوں کے قِصے
داستانیں نادانیوں کی
یہی سوچوں اب تو میں
کیا دِل کی کارستانی ہے۔۔۔۔
جب آنکھوں میں خواب لئے
میں منزل موجِ سراب لئے
دل کتنے توڑےلوگوں کے
مجھے اب پشیمانی ہے۔۔۔۔
تکلیف دہ سبھی باتیں
یاداشت کے میرے آئینے پر
وقت کی دھول پڑنے سے
یوں دھندلا سی گئی ہیں
کہ اب تو کچھ بھی یاد نہیں
یہی مجھے حیرانی ہے۔۔۔۔
از قلم فاطمہ لیاقت



Saturday, 18 July 2020

Waqt by Fatima Liaquat




نظم
    "وقت"
وقت کی ریت کو
ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے
یوں تو پھسل ہی جانا ہے
تو کیوں نہ وقت کے
کچھ لمحوں کو
تباہ ہونے سے ہم بچا کر
کسی کے دل میں امید کی
کِرن کو ہم جگا کر
کسی کو حوصلہ دے کر
لفظوں سے مَرہم رکھ کر
درد دوسروں کا بانٹ لیں
بوجھ اُوروں کا اٹھا لیں
دلوں میں باتیں رکھنے میں
ریاکارانہ مسکراہٹوں میں
پیٹھ پیچھے چالیں چلنے میں
بےمُول کسی کوکرنے میں
آخر رکھا ہی کیا ہے؟؟
وقت نے بَرف کی مانند
یوں تو پگھل ہی جانا ہے
ز قلم: فاطمہ لیاقتا




Friday, 17 July 2020

Waqt by Fatima Liaquat


نظم     "وقت"
وقت کی ریت کو
ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے
یوں تو پھسل ہی جانا ہے
تو کیوں نہ وقت کے
کچھ لمحوں کو
تباہ ہونے سے ہم بچا کر
کسی کے دل میں امید کی
کِرن کو ہم جگا کر
کسی کو حوصلہ دے کر
لفظوں سے مَرہم رکھ کر
درد دوسروں کا بانٹ لیں
بوجھ اُوروں کا اٹھا لیں
دلوں میں باتیں رکھنے میں
ریاکارانہ مسکراہٹوں میں
پیٹھ پیچھے چالیں چلنے میں
بےمُول کسی کوکرنے میں
آخر رکھا ہی کیا ہے؟؟
وقت نے بَرف کی مانند
یوں تو پگھل ہی جانا ہے
از قلم فاطمہ لیاقت